37 سال بعد…! – روف کلاسرا

rk

گائوں میں جب کوئی فوت ہو جاتا تو وہاں سب اکٹھے ہو کر میت کے گھر والوں کے ساتھ روتے تھے۔ میں بچہ تھا تو حیران ہوتا کہ چلیں گھر والے تو روئیں‘ سمجھ میں آتا ہے، قریبی رشتہ داروں کی بات بھی ٹھیک ہے لیکن ایسے لوگوں کی آنکھوں میں بھی آنسو ہوتے جن کا مرنے والے سے براہ راست کوئی تعلق نہ ہوتا۔ کچھ کی آنکھیں بھرآتیں تو کوئی زور سے روتا، کوئی آنکھیں پونچھ کر منہ چھپا لیتا۔ کچھ تو اتنا روتے کہ گھر والوں کو انہیں چپ کرانا پڑتا۔
جب کچھ بڑا ہوا تو یہ سمجھ آئی کہ سب دراصل اپنے اپنے پیاروں کو رو رہے ہوتے تھے۔ کسی اور کے گھر کی موت انہیں اپنے پیاروں کی یاد دلاتی‘ جو فوت ہو چکے تھے۔ ان کا اپنا دکھ تازہ ہوجاتا اور انہیں رونے کا ایک بہانہ مل جاتا۔ جدائی اور وچھوڑے کے دکھ تازہ ہو جاتے۔ وہ پیارے جنہیں وہ برسوں پہلے قبرستان دفن کر آئے تھے‘ ان سب کی شکلیں ایک دفعہ پھر ان کے سامنے ابھر آتیں۔ انہیں اس پرائے گھر میں پڑی میت بھی اپنے اُس پیارے کی میت لگتی جسے وہ زندگی کے ہنگاموں میں بھول گئے تھے۔ وہ اس چارپائی پر پڑی میت کو دیکھ کر روتے رہتے۔ آنکھوں سے بارش برستی رہتی اور سب ایک دوسرے کو گلے لگا کر تسلیاں دیتے رہتے۔
یہ سب کچھ مجھے آسٹریلیا کے سابق کرکٹ کھلاڑی ٹریوور چیپل کا ایک بیان پڑھ کر یاد آیا‘ جسے آسٹریلوی کپتان سمتھ، وارنر اور دیگر کھلاڑیوں کے بال ٹمپرنگ سکینڈل پر اپنا 37 سال پرانا دکھ یاد آ گیا۔ ٹریوور چیپل نے کہا: چلیں ایک اچھی بات ہوئی ہے کہ اب وہ اکیلا نہیں رہا جس سے آسٹریلیا، نیوزی لینڈ یا کرکٹ ورلڈ میں نفرت کی جاتی ہے‘ اب تین اور کھلاڑی مل گئے ہیں جنہیں عمر بھر بددیانتی کی سزا ملتی رہے گی اور وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔

ہوا کچھ یوں تھا کہ 1981ء میں نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان میچ ہو رہا تھا۔ آخری بال پر نیوزی لینڈ کو چھ رنز چاہیے تھے۔ کپتان گریگ چیپل نے اپنے چھوٹے بھائی ٹریوور چیپل کو بلایا جو آخری اوور کر رہے تھے۔ چیپل کافی دیر تک بھائی کے ساتھ کھڑے پلان بناتے رہے کہ کیسے آخری بال پر نیوزی لینڈ کو چھ رنز نہ بنانے دیئے جائیں۔ چیپل کو ڈر تھا کہ آخری بال پر نیوزی لینڈ کا بیٹسمین ان کے بھائی کو چھکا نہ مار دے اور نیوزی لینڈ میچ جیت نہ جائے۔
اس کا حل دونوں بھائیوں نے یہ نکالا کہ بال کندھوں کے اوپر سے لا کر نارمل انداز میں پھینکنے کی بجائے بیٹسمین کو انڈر آرم بال پھینکی جائے گی۔ انڈر آرم بال وہ ہوتی ہے جو آپ کندھوں سے بازو اوپر لا کر کرنے کی بجائے محض زمین پر بیٹسمین کی طرف لڑھکا دیتے ہیں جس سے بیٹسمین ہٹ نہیں لگا سکتا۔ ان دنوں کرکٹ ورلڈ میں انڈر آرم بال پھینکنا غیر قانونی نہ تھا۔ اپنے تئیں دونوں بھائی کوئی غیر قانونی کام نہیں کر رہے تھے۔ چیپل برادرز خوش تھے کہ وہ میچ جیت رہے ہیں۔
یہ سب کچھ ٹی وی پر لائیو چل رہا تھا۔ پورا آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ یہ اہم میچ دیکھ رہے تھے‘ جو انتہائی سنسنی خیز موڑ پر پہنچ چکا تھا۔ آخری بال اور جیتنے کے لیے چھ رنز۔ تماشائیوں کی دلچسپی اپنے عروج پر تھی‘ سب کی سانسیں رکی ہوئی تھیں کہ میچ کی آخری بال پر کیا ہوگا؟ نیوزی لینڈ چھکا لگا کر میچ جیت جائے گا یا پھر بائولر ڈاج کرا دے گا اور آسٹریلیا میچ جیتے گا؛ تاہم دنیا بھر کے تماشائیوں کو اس وقت جھٹکا لگا جب میچ کاسارا کلائمیکس اور سنسنی خیزی آسمان سے زمین پر آگری اور ٹریوور چیپل نے امپائر کے پیچھے سے چند قدم اٹھا کر بڑے آرام سے بال زمین کے ساتھ لڑھکا کر وکٹ کی طرف پھینک دی۔

انڈر آرم بال پھینکی گئی تو بیٹسمین نے اسے روکا اور شدید فرسٹریشن میں اپنا بلا دور پھینک دیا کہ یہ دھوکا ہے۔ آسٹریلوی ٹیم خوش تھی کہ میچ جیت گئے ہیں؛ تاہم اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ ٹریوور چیپل آج تک بھگت رہے ہیں۔میچ تو آسٹریلیا جیت گیا لیکن اخلاقی طور پر اسے شکست ہوئی کہ میچ ہارتا دیکھ کر ایسے گھٹیا ہتھکنڈے پر اتر آیا۔ آسٹریلوی لوگوں کو بھی یہ محسوس ہوا کہ ان کی ٹیم نے ایسا کام کیا تھا جس سے انہیں خوشی کی بجائے شرمندگی ہوئی۔ ہار جیت ہوتی رہتی ہے‘ کیا جیتنا اتنا ہی ضروری ہوتا ہے کہ بندہ گیم میں بھی بے ایمانی کرے؟ سب سے بڑا جو ردعمل ٹریوور چیپل کو ملا‘ اس کی وہ توقع نہیں کر رہا تھا۔ جب وہ گھر پہنچا تو اس کی بیوی نے سخت ردعمل دیا کہ یہ تم نے کیا حرکت کی؟ اس کی بیوی اس پر غصہ ہوئی کہ تمہاری وجہ سے ہم سب کو شرمندگی ہو رہی ہے کہ تم نے محض میچ جیتے کے لیے ایسی گھٹیا حرکت کی اور پورے کھیل کو بدنام کیا، سب سے بڑھ کر تم نے پورے خاندان کو بدنام کیا۔ دونوں میاں بیوی کے درمیان اس ایک انڈر آرم بال کی وجہ سے اختلافات بڑھتے گئے اور آخرکار علیحدگی ہو گئی۔ اس کی بیوی نے کہا کہ میں ایسے انسان کے ساتھ رہنے کو تیار نہیں ہوں جو کھیل میں اس طرح کا دھوکا دیتا ہو۔

آج سینتیس برس بعد‘ جب ایک اور سکینڈل سامنے آیا تو ٹریوور چیپل کو اپنے پرانے زخم اور دکھ یاد آ گئے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں آج تک وہ نارمل زندگی نہیں گزار سکا۔ ایک ایک لمحہ اس کا اس سکینڈل کے ساتھ گزرا ہے اور اسے یہ محسوس ہوا کہ پوری دنیا اس سے نفرت کرتی ہے۔ اسے لگا جہاں بھی کہیں کرکٹ میں چیٹنگ اور دھوکے کی بات ہوتی ہے‘ اس کا ذکر ضرور ہوتا ہے کہ کیسے اس نے اپنے بڑے بھائی گریگ چیپل کے کہنے پر ایک ایسا کام کیا۔ سزا وہ آج تک بھگت رہا ہے۔
ٹریوور چیپل کے بقول‘ اب یہی کچھ سمتھ اور وارنر کے ساتھ ہو گا۔ انہیں بھی اسی طرح‘ عمر بھر سزا بھگتنا ہو گی۔ وہ جہاں جائیں گے‘ وہیں وہ ایک دھوکے باز کی حیثیت سے جانے جائیں گے۔ ان کی زندگی مشکل ہو جائے گی‘ لوگ انہیں طعنے ماریں گے۔ اب کوئی آج سے چالیس سال بعد بھی کرکٹ گیم میں چیٹنگ کرے گا تو فوراً ان تین آسٹریلوی کھلاڑیوں کا ذکر ہو گا اور ان کی فلمیں چلائی جائیں گی۔ یہ سب ویڈیوز اب یو ٹیوب پر موجود رہیں گی اور ان کی آنے والی نسلیں بھی دیکھیں گی۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا جیت اتنی ہی اہم چیز ہے کہ اس کے لیے بندہ اپنا سکون، آرام، سوشل سٹیٹس اور ضمیر کا سودا کرنے پر تل جائے؟ جنگ اور محبت کا تو بہت سنا تھا کہ اس میں جائز‘ ناجائز نہیں دیکھا جاتا، آپ کو ہر حالت میں جیتنا ہوتا ہے اور تاریخ میں فتح اور فاتح کو یاد رکھا جاتا ہے۔ وہ فتح کن حالات میں حاصل کی گئی، وہ کسی کو یاد نہیں رہتا۔ تاریخ میں بہت مظالم ہوئے ہیں‘ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہت ساری اخلاقیات بھی انسانی زندگی میں داخل ہوتی گئیں، جنگوں اور کھیلوں میں بھی اخلاقیات کو اہمیت ملنے لگی۔ کچھ اصول طے ہونے لگے۔ اگر کسی ملک یا قوم یا معاشرے کو کسی کھیل میں‘ فتح میں اخلاقی پہلو نظر نہیں آیا تو دیکھنے والوں کو بھی مزہ نہیں آیا۔ اور یہی کچھ ٹریوور چیپل کے ساتھ ہوا تھا کہ میچ تو جیت گئے لیکن وہ اخلاقی طور پر نیوزی لینڈ سے شکست کھا گئے۔ اب وہی کچھ تین آسٹریلوی کھلاڑیوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔

ٹریوور چیپل نے جو اپنا دل کھول کر رکھ دیا ہے‘ اس سے ایک سبق ملتا ہے۔ بعض دفعہ کوئی بات، فتح یا واقعہ اگر قانونی طور پر جائز بھی ہو‘ لیکن وہ اخلاقی تقاضوں پر پورا نہیں اترتا تو ایسی وکٹری معاشروں کو ہضم نہیں ہوتی۔ تو یہ ازلی اصول طے ہوا کہ انسان کی ایمانداری اور اخلاقی قوت کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب آسمان تک‘ ہر کوئی آپ کا دشمن ہو چکا ہو مگر پھر بھی آپ جھوٹ اور دھوکے کا سہارا لے کر جیتنے سے انکار کر دیں۔ اپنی جھوٹی اَنا کو تسلی دینے، خود کو برتر انسان ثابت کرنے کے چکر میں عمر بھر گلے میں گالیوں کا طوق لٹکانے کی بجائے بہتر ہے کہ بندہ ہار تسلیم کر لے۔ اخلاقی برتری ہی سب کچھ ہوتی ہے‘ ورنہ ٹریوور چیپل نے قانون کے تحت ہی انڈر آرم بال پھینکی تھی۔ ہم انسانوں کے لیے اس میں بہت بڑا سبق ہے۔ شریف خاندان کی طرح غیر قانونی طریقے سے دنیا کے پانچ براعظموں میں بنائی گئی اربوں روپوں کی جائیداد ہو یا پھر دھوکے سے جیتا ہوا میچ‘ وہ آپ کا ساری عمر پیچھا کرتے ہیں۔
وقتی بدترین شکست اس جیت سے ہزار گنا بہتر ہے جو 37 سال تک آپ کا پیچھا کرے

Source: dunya news

Must Read Urdu column 37 saal baad By Rauf Klasra

Leave A Reply

Your email address will not be published.