اپنی مرضی کا ڈکٹیٹر – روف کلاسرا

لگتا ہے پھر وہی دن آ گئے ہیں جو ہم تیس سال سے دیکھ رہے ہیں۔ ویسے تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ جو کچھ اب پڑھیں گے‘ بہتّر سال سے یہی حالت ہے۔
وزیر اعظم عمران خان اس وقت غصے میں ہیں اور ان کا غصہ سمجھ میں بھی آتا ہے۔ وہ پاکستان کے ان چند گنے چنے لوگوں میں سے ایک ہیں جن پر قدرت مہربانی رہی ہے اور ضرورت سے زیادہ مہربان ہے۔ جس طرح وہ کرکٹ کے میدانوں سے لے کر سوشل ویلفیئر منصوبوں تک اور اب سیاست میں کامیاب ہوئے ہیں‘ وہ سب دیکھ کر یہ کہنا مشکل نہیں کہ خدا ان پر بہت مہربان ہے۔ کون سا فیلڈ ہے جس میں وہ کامیاب نہیں ہوئے۔ ان کی سب سے بڑی کامیابی یا خوش نصیبی یہ ہے کہ وہ ماضی میں بعض سکینڈلز کا شکار رہے لیکن ہر دفعہ ان کی انسانی کمزوریاں ان کی طاقت بن کر ابھریں۔ شاید وہ پاکستان کے واحد لیڈر ہیں جن کے بارے میں اس قوم کا دل بہت بڑا ہے۔

ان کا جب بھی کوئی نیا ایشو سامنے آیا تو اس قوم نے اس پر تنقید کی بجائے اس ایشو کو ایسا Romanticized کر دیا کہ جو لوگ سکینڈلز سامنے لائے‘ وہ الٹا شرمندہ ہوئے۔ کچھ لوگ ان کے بعض رویوں کے شاکی ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ رویے ہمارے کلچر اور تہذیب سے میل نہیں رکھتے۔ الٹا ان کی ان باتوں کو بھی وہ رنگ دیا گیا کہ لوگ دنگ رہ گئے۔ ان کے دوستوں نے ان کے آنکھیں ماتھے پر رکھ لینے کے رویے کو بھی اپنا رنگ دیا اور سب نے واہ واہ کی۔ وہ کسی کو کھلانے پلانے پر یقین نہیں رکھتے تو اسے کفایت شعاری کا نام دیا گیا اور داد سمیٹی گئی۔ رشتے داروں اور دوستوں کو استعمال کر کے ڈمپ کرتے گئے تو بھی یہ ان کی خوبی اور ادا ٹھہری۔ جیب میں بٹوہ نہ رکھنا بھی اعلیٰ ظرفی کی مثال بنا دی گئی۔ ان کے ایک رشتے دار کا جملہ بڑا مشہور ہوا کہ ہم اسے جہاں کھڑا کر دیں وہاں پیسوں کی بارش شروع ہو جاتی ہے۔ ان کی بیگم بشریٰ صاحبہ نے انٹرویو میں کہا کہ خان صاحب شاپنگ نہیں کرتے کیونکہ یار دوست ان کو سب چیزیں فراہم کرتے ہیں۔

کل ہی کسی دوست سے بات ہو رہی تھی تو وہ کہنے لگا: یار اس بندے نے ایک ورلڈ کپ جیتنے اور کینسر ہسپتال کے علاوہ کیا کیا کہ اسے ملک کا وزیر اعظم بنا دیا گیا؟ میں نے عمران خان کا دفاع کرتے ہوئے کہا: ان کی وجہ بڑی سادہ سی ہے کہ ان بہتّر برسوں میں اس قوم کو اگر کوئی بڑی خوشی ملی تو وہ کرکٹ ورلڈ کپ ہے۔ اس ملک میں اشرافیہ نے وسائل پر عیاشی کی ہے‘ عمران خان کی طرح ہسپتال بنانے کا نہیں سوچا۔ یہ قوم چھوٹی موٹی خوشیوں کیلئے ترستی رہتی ہے‘ لہٰذا اگر کسی بندے نے اتنا بڑا ہیرو بن کر بھی ان کیلئے کچھ کرنے کا سوچا تو قوم اس پر قربان ہو گئی۔ انہوں نے اس قوم کو دن رات اچھے دنوں کی خبر سنائی تو بھی قوم نے کہا: خان پر قربان۔ میں نے کہا: عمران خان کے عروج اور سیاسی اقتدار کے ذمہ دار نواز شریف اور زرداری ہیں۔ آپ ان دونوں کی ماضی کی حکومتیں چھوڑ دیں‘ یہ اگر پچھلے دس سالوں میں بھی کچھ نئی روایات ڈالتے، اپنے اپنے خاندان اور دوستوں کو نوازے اور بادشاہوں کی بجائے عوام کی خدمت کرتے، زرداری صاحب سندھ کی ساری شوگر ملز زبردستی خریدنے اور شریف خاندان پچاس ملیں ایک ہی ہلے میں لگانے پر زور نہ لگاتا یا رائے ونڈ کی سکیورٹی کے لئے عوام کی جیب پر دس پندرہ ارب روپے کاڈاکا نہ مارتا اور ہزاروں سکیورٹی اہلکار ان کے خاندان کے بچوں کی حفاظت اور ہٹو بچو پر نہ لگائے جاتے تو آج عمران خان اپنے باقی دیگر کرکٹر ساتھیوں وسیم اکرم، رمیز راجہ، بوتھم، مائیکل ہولڈنگ، ڈیوڈ گاور، شین وارن کی طرح کرکٹ کمنٹری کر رہے ہوتے ۔ عمران خان کو وزیر اعظم بڑی محنت اور بہت ساری نالائقی اور کرپشن کے بعد زرداری اور شریفوں نے بنایا ہے۔

مجھے یاد ہے‘ ایک دفعہ یونیورسٹی میں ہمارے سرائیکی قوم پرست محمود نظامی ہم دوستوں کو کسی ایشو پر طویل لیکچردے رہے تھے۔ نظامی کا انداز ہے کہ وہ جب اپنے مخصوص جوشیلے انداز میں گفتگو کرتے ہیں تو پھر کسی کی مجال نہیںکہ انہیں روک یا ٹوک سکے۔ وہ گھنٹوں بغیر سانس لیے یا رُکے بات کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کافی دیر تک ہم انہیں خاموشی سے سنتے رہے کہ اچانک ہمارے دوست شفیق لغاری نے ان کو زبردستی ٹوکا اور کہا: جناب ِنظامی آپ دانشور نہیں ، ہم جاہل ہیں‘ ہم نے بھی اگر کچھ کتابیں پڑھ لی ہوتیں‘ کبھی عقل کا استعمال کیا ہوتا تو آج یوں منہ کھول کر ڈر کے مارے خاموشی سے آپ کو نہ سن رہے ہوتے۔ یہ اور بات کہ شفیق لغاری یہ گستاخی کر کے بھاگ گیا تھا۔اس لیے شفیق لغاری کی اس لاجک کے مطابق ہم لائق نہیں ہوتے بلکہ ہمارے مخالفین ہم سے زیادہ نالائق نکلتے ہیں۔ اگر زرداری اور نواز بھی قابل نکلتے اور گڈ گورننس اور ملک کی ترقی میں دلچسپی لیتے، خاندانوں سے ہٹ کر اس قوم کے بچوں کا سوچتے تو عمران خان آج لوگوں کو قابل‘ایماندار اور مخلص نہ لگتے۔ جب اتنے بڑے سیاسی ہجوم میں لوگوں کو لگا کہ ایک بندہ ہے جو ملک کی بھلائی چاہتا ہے تو سب پیچھے لگ گئے۔
آج عمران خان صاحب اپنے کیریئر کے عروج پر ہیں۔ اب اس سے عمران خان نے آگے نہیں جانا۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں آپ نے احتیاط کرنا ہوتی ہے‘ لیکن کیا کریں انسانی مزاج اسی لمحے اس سے غلطیاں کراتا ہے اور کامیاب انسان ایک دفعہ ٹاپ پر پہنچ کر غلطیاں ضرور کرتا ہے اور نیچے گرتا ہے۔ آپ دنیا کی باقی مثالیں چھوڑیں‘ پاکستان کو دیکھ لیں تو آپ کو آسانی سے سمجھایا جاسکتا ہے۔ نواز شریف اس کی کلاسیک مثال ہیں۔ زرداری اس سے بڑی مثال ہیں۔ دونوں جیل سے نکلے اور وزیراعظم اور ایوان صدر میں جا بیٹھے اور وہاں سے پھر سیدھے جیل میں۔ وہ بھی ان مواقع سے فائدہ نہ اُٹھا سکے جو قدرت نے انہیں دو دو بلکہ تین تین دفعہ دئیے۔ وہ بھی ایک کامیاب انسان کی طرح یہی سمجھتے رہے کہ ان کی اپروچ اور راستہ درست ہے اور باقی سب غلط ہیں۔ ان کا ایسا سوچنا غلط بھی نہ تھا کیونکہ وہ انہی راستوں پر چلتے ہوئے صدر اور وزیراعظم بن گئے تھے‘ لیکن زوال عروج سے ہی شروع ہوتا ہے۔

عمران خان صاحب کی آج کل باتیں سنیں تو آپ کو یہی محسوس ہوگا کہ ان کا خیال ہے کہ وہ اسی طرح خوش قسمت رہیں گے جیسے اب تک پوری زندگی رہے ہیں۔ وہ ہر کام اپنے انداز میں چاہتے ہیں اور ان کے اندر آپ کو وہی جھلک نظر آتی ہے جو پاپولر لیڈر کا انداز ہوتا ہے کہ کوئی ان کے فیصلوں پر اعتراض نہ کرے، کوئی انہیں غلط نہ کہے، کوئی آگے سے سوال نہ کرے۔اب ایک نیا خوفناک منظر نامہ سامنے آرہا ہے کہ جو عمران خان صاحب کے کسی فیصلے پر اعتراض یا سوال کرے وہ ان کے نزدیک ملک دشمن ہے اور دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے۔ اس لیے جب اعلیٰ عدالت نے مدت ملازمت کے حوالے سے سوالات اٹھائے تو سوشل میڈیا پر ٹیموں اور واٹس ایپ گروپس میں سوالات اٹھانے والوں کو بھارت اور امریکہ کا ایجنٹ قرار دے کر مہم چلائی گئی اور اس کا ذکر جناب چیف جسٹس صاحب نے عدالت میں بھی کیا۔ ہم سمجھے‘ شاید سوشل میڈیا پر چلنے والی مہم کا حوالہ دیا جا رہا تھا‘ لیکن پھر ہم نے دیکھا کہ وزیراعظم نے خود یہی کہا کہ سوالات اُٹھانے والوں نے پاکستان کے دشمن بھارت کو خوش کیا ہے۔ لگتا ہے عمران خان بھی اس طرح سینگ پھنسا رہے ہیں‘

جیسے کبھی نواز شریف اور زرداری نے پھنسائے تھے۔ دونوں کا انجام سب جانتے ہیں۔عمران خان صاحب سے شکایت نہیں ہونی چاہئے کیونکہ جس عمران خان کو ہم سب جانتے ہیں وہ تو اداروں کی سربلندی کے لیے کھڑا ہوتا تھا‘ جو ماضی میں جنرل کیانی کی توسیع کے خلاف تھا۔ وہ عمران خان تو پارلیمنٹ کی سربلندی اور جمہوری رویوں کے حق میں تھا۔ اس سے ثابت ہوا مسئلہ عمران خان میں نہیں بلکہ وزیراعظم کی کرسی میں ہے۔

آج کل ایک کتاب پڑھ رہا ہوں کہ دنیا میں پاپولر لیڈرشپ کی وجہ سے جمہوریت اور انسانی آزادیاں اور فریڈم خطرے میں ہیں۔عوام تو یہ سوچ کر پاپولرلیڈروں کو اقتدار میں لائے تھے کہ وہ انہیں ماضی کے آمروں سے نجات دلوا کر جمہوری کلچر سے روشناس کرائیں گے۔ عوام کو کیا پتہ جو لیڈر جتنا پاپولر ہوتا ہے وہ جمہوریت اور معاشرے کے لیے اتنا ہی خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ وہ خود کو ریاست کا درجہ دے کر ناقدین کو غدار اور ملک دشمن قرار دے دیتا ہے۔کسی دانشور سے پوچھا گیا تھا فوجی آمریت اور جمہوریت میں کیا فرق ہوتا ہے؟ جواب ملا تھا: ڈکٹیٹر شپ میں آمر بندوق کے زور پر نازل ہوتا ہے جبکہ جمہوریت میں آپ ووٹ سے اپنی مرضی کا ڈکٹیٹر چنتے ہیں۔

Source: dunya news

Must Read Urdu column Apni marzi ka dictator By Rauf Klasra

Leave A Reply

Your email address will not be published.