بانسری بجانے کا وقت – روف کلاسرا

ہر دور عجیب ہوتا ہے لیکن یہ کچھ زیادہ ہی عجیب لگ رہا ہے۔ جس دن بلوچستان میں ہزارہ کمیونٹی کے11 مزدوروں کی لاشیں لواحقین سڑک پر رکھ کر بیٹھے تھے اور چھ بہنیں کہہ رہی تھیں کہ انکے گھر اب کوئی مرد نہیں بچا ‘ اُس وقت اسلام آباد میں وزیراعظم اپنے ترجمانوں کی فوج کو لے کر بیٹھے یہ سمجھا رہے تھے کہ اپوزیشن کو کیسے ٹف ٹائم دینا اور ہرٹی وی شو اور سوشل میڈیا پرکیسے ان کے پرخچے اڑانے ہیں‘ کسی کے ساتھ رورعایت نہیں برتنی۔ اُس وقت وزیراعظم بننے کو بیتاب مریم نواز بہاولپور میں عوام کو بتا رہی تھیں کہ عمران خان نے31 جنوری تک استعفیٰ نہ دیا تو وہ حشر برپا کر دیں گی۔

عمران خان اور مریم نواز دونوں سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہوئے۔ انہوں نے وہ دکھ یا تکلیفیں نہیں دیکھیں جو اِن مزدوروں نے دیکھے جو کمانے کے لیے گئے اور جن کی لاشیں واپس آئیں۔عمران خان اور مریم کے دکھ کچھ اور ہیں۔ ان کی خواہشات انسانوں پر راج کرنے کی ہیں‘ ان کے دکھوں پر رونے کی نہیں۔ عمران خان صاحب کی والدہ کینسر سے فوت ہوئیں تو وہ آج بھی اس دکھ کا اظہار کرتے ہیں۔ اس دکھ کو پوری قوم نے محسوس کیا اور اسی دکھ کے سہارے ہسپتال بنا کر وہ وزیراعظم تک بن گئے۔مریم نواز نے بھی اپنی والدہ کو کھویا اور اس دکھ کا اظہار وہ کئی دفعہ انٹرویوز اور جلسوں میں کر چکی ہیں۔ عمران خان اور مریم نواز دونوں کو صرف اپنے اپنے دکھ کا پتہ ہے‘ لیکن انہیں اس دکھ کا اندازہ نہیں جو ان چھ بہنوں کا ہے جن کا اکیلا بھائی مارا گیا اور اب جنازے کو کندھا دینے والا بھی کوئی نہیں بچا۔

بڑے لوگوں کی ایک بات اہم ہوتی ہے کہ ان کے نزدیک دکھ‘ درد‘ تکلیف صرف وہی ہے جو ان کے ساتھ پیش آئے۔ ٹریجڈی کی تعریف تو ڈھائی ہزار سال پہلے یونان میں کر دی گئی تھی کہ غم وہی ہوتا ہے جو بڑے انسان کا ہو۔ وہی ٹریجڈی ہے جس کا شکار بادشاہ‘ شہزادے یا شہزادیاں ہوتی ہیں‘ عام لوگوں کی مصیبتیں‘ دکھ کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔ عمران خان صاحب کی والدہ نے وفات پائی تو پورا جہاں ان کے ساتھ آج تک آنسو بہاتا ہے۔ مریم نواز ماں کی موت کا دکھ بیان کرتی ہیں تو کتنی آنکھیں نم ہوجاتی ہیں‘لیکن ہزارہ مزدور مارے گئے‘ اسلام آباد میں نوجوان کو گولیوں سے بھون دیا گیا‘مگر کوئی آنکھ اشک بار نہیں ہوئی‘ کیونکہ مارے جانے والے ٹریجڈی کی تعریف پر پورے نہیں اترتے تھے۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ پورا معاشرہ آپ کے دکھ میں روئے تو پھر آپ کا بادشاہ یا بادشاہوں کی اولاد ہونا ضروری ہے ورنہ آپ ایک عدد لاش ہیں جس پر صرف آپ کا خاندان ‘رشتے دار یا چند دوست ہی آنسو بہائیں گے۔

میں حکومتِ وقت کی ترجیحات پر حیران ہوں کہ جب سینکڑوں لوگ گیارہ مزدورں کی لاشیں سڑک پر رکھ کر بیٹھے تھے‘ اس وقت ترجمانوں کو سمجھایا جا رہا تھا کہ انہوں نے کیسے اپوزیشن کی ‘پھٹیاں اکھیڑنی‘ ہیں۔ دو تین دن کا بھی انتظار نہیں کیا جاسکا کہ چلیں یہ میتیں کسی ٹھکانے لگ جائیں۔ اور کچھ نہیں تو کچھ دکھاوے کی ہمدردی ہی کر لی جائے۔لوگ بلوچستان کو رو رہے ہیں جبکہ اسلام آباد صرف چوبیس کلومیٹر کا ضلع ہے وہ بھی ڈھنگ سے نہیں چل پا رہا۔ اب ڈاکو اسلام آباد کے ہر سیکٹر میں پھیل گئے ہیں۔ پرسوں ہی ایف سکس میں چار ڈاکو ایک گھر میں داخل ہوئے اور سب لوٹ کر نکل گئے۔ جو اسلام آباد میں رہتے ہیں انہیں پتہ ہوگا ایف سکس سے کیا مراد ہے۔ لوگ کہیں گے تمہیں ڈاکے کی پڑی ہے یہاں تو بائیس سالہ نوجوان کو پوری بائیس گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔ یہ اس شہر میں ہوا جس پر حکمرانی کرنے کیلئے خان صاحب نے بائیس سال جدوجہد کی تھی۔یہی خان صاحب اپوزیشن میں تھے تو دن رات کوریا کے وزیراعظم کی کہانیاں سناتے تھے کہ سمندر میں ایک کشتی کے حادثے میں ہلاک ہونے والے بچوں کا خود کو ذمہ دار قرار دے کر استعفیٰ دے دیا۔ اُس وقت ڈچ وزیراعظم کی کہانیاں سنائی جاتی تھیں جو سائیکل پر دفتر جاتا تھا‘ اب خود دو کلومیٹر کا سفر بھی ہیلی کاپٹر پر ہوتا ہے اور جس ملک کے ایک صوبے میں چھ بہنیں سڑک پر بھائی کی لاش لے کر بیٹھی کہہ رہی تھیں کہ ہمارے گھر میں کوئی مرد نہیں بچا ‘اُسی شام ملک کا وزیراعظم اپنے پارٹی ترجمانوں پر ناراض ہورہا تھا کہ تم لوگ اب بھی اپوزیشن کا تیا پانچا نہیں کررہے‘ اور وہ سب شرمندہ بیٹھے تھے کہ اور کیا کریں ‘ کس حد تک لڑیں۔ٹی وی چینلز اور ٹوئٹر پر لڑ لڑ کر ان ترجمانوں کی اپنی شخصیتیں بگڑ گئیں‘ یار دوست چھوٹ گئے‘ جو انہیں اب نہیں پہچانتے کہ یہ وہی دوست ہیں جو کبھی کوہسار مارکیٹ میں بیٹھ کر گپیں لگاتے تھے۔ حکومت کے ترجمان بن کر اب وہ کسی اور دنیا کے لوگ بن گئے ہیں۔شبلی فراز صاحب کو دو تین ٹی وی شوز میں ان کے پرانے دوستوں سے بری طرح الجھتے دیکھا تو دکھ ہوا۔ مجھے یاد آیا جب شبلی فراز کو وزیر بنایا گیا تو وزیراعظم نے انہیں کہا تھا: شبلی ڈرنا نہیں ‘ سب کو دبا کر رکھنا ہے۔ مجھے کسی نے یہ بات بتائی تھی تو میں نے کہا:شبلی فراز صاحب کیلئے ایک حد سے گزرنا مشکل ہوگا‘ وہ اس لیول پر جا کرعوام کے سامنے ٹی وی شوز میں ایسی لڑائی نہیں لڑیں گے جس کی توقع پہ وزیر اعظم نے انہیں وزیر بنایا ہے۔ مجھے تسلیم کرنے دیں‘ میں غلط نکلا۔

غلط ہونے کی بات آئی تو یہی دیکھ لیں کہ پچھلے کابینہ اجلاس میں انکشاف ہوا کہ ایل این جی کے کنٹریکٹس وقت پر نہ ہونے سے اب اربوں روپے کا نقصان اپنی جگہ لیکن اصل دکھ یہ ہے کہ وزیروں کو پتہ تھا کہ ہر سال دسمبر‘ جنوری اور فروری میں گیس زیادہ استعمال ہوتی ہے ‘لہٰذا پہلے سے ایل این جی خریدنی چاہئے لیکن کوئی گیس نہ خریدی گئی۔ اُس وقت گیس کا ریٹ دو سے چار ڈالرز تک تھا۔ اب کئی گنا زیادہ ریٹ پر خریدی جانی ہے اور کابینہ میں وزرانے تسلیم کیا ہے کہ وقت پر فیصلہ نہ کرنے سے نہ صرف اربوں روپے کا نقصان ہوا بلکہ عوام میں بھی بُرا تاثر گیا‘ لیکن کسی ذمہ دار وزیر یا بابو کو کچھ نہ کہا گیا۔یہ اربوں روپے کا نقصان تیل کی قیمتیں بڑھا کر پورا کیا جارہا ہے۔یوں ایک مشیر پٹرولیم اور وزارت کے بابوز کی نااہلی کی سزا عوام کو پٹرول کی قیمت بڑھا کر دی جارہی ہے۔
آج کل پی ٹی وی میں بھی گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے اور وزیراعظم آرام سے بیٹھے اپنے دو پسندیدہ لوگوں کی لڑائی کو انجوائے کررہے ہیں۔ کابینہ کی منظوری کے بعد جس ایم ڈی کی تقرری کی گئی تھی اسے پی ٹی وی بورڈ کے نئے چیئر مین نعیم بخاری نے معطل کردیا ہے۔اس سے پہلے پی ٹی وی کے اہم لوگوں کو نعیم بخاری نے اپنے سٹاف سے برطرف کرادیا تھا جبکہ ایم ڈی نے اس لیٹر پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ ان کے بغیر پی ٹی وی کیسے چلائوں گا‘ اس پر بخاری صاحب نے ایم ڈی کو ہی شوکاز نوٹس دے کر معطل کر دیا۔ اب ایک اور کام کیا گیا ہے کہ پی ٹی وی ڈائریکٹر سپورٹس کے ڈاکٹر نعمان نیاز کو ہٹا کر ایک اور صاحب‘ جو ڈائریکٹر سپیشل اسائنمنٹ تھے‘ کو ڈائریکٹر سپورٹس لگا دیا گیا ہے۔اس تقرری پر ایم ڈی کے دستخط نہیں بلکہ کنٹرولر سے آرڈر کرائے گئے ہیں۔آپ اندازہ کریں جن سے ایک پی ٹی وی نہیں چل رہا‘ چوبیس کلومیٹر کا اسلام آباد نہیں چل رہا‘ انہوں نے پورا ملک چلانا ہے۔ جن کی ترجیحات بلوچستان میں سڑک پر بھائی کی لاش رکھے چھ بہنیں نہیں ‘ اسلام آباد میں بائیس سالہ نوجوان کا سانحہ نہیں‘ شہر بھر میں بڑھتے ڈاکے اور قتل نہیں بلکہ یہ کہ کیسے اپوزیشن کو ٹف ٹائم دینا ہے‘ ان سے ہم کیا کیا توقعات لگائے بیٹھے ہیں۔

ویسے باقی تو سب کام ان اڑھائی برسوں میں عمران خان صاحب نے کر لیے ہیں‘ بس آخری ایک کام رہ گیا ہے ‘وہ ہے روم کے بادشاہ نیرو کی طرح بانسری بجانا۔

Source: dunya news

Must Read Urdu column Bansri Bajane Ka Waqt by Rauf Klasra

Leave A Reply

Your email address will not be published.