کشمیر کہانی …(10)- روف کلاسرا

جب جناح صاحب اور وائسرائے ہند گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوئے تو انہیں اکتیس توپوں کی سلامی دی گئی‘ جس کی گونج کراچی کی سڑکوں پر تا دیر سنی جاتی رہی۔ شہر کی سڑکوں پر ہر طرف جشن کا سماں تھا۔ ہر چہرہ خوش اور پرجوش لگ رہا تھا۔ کوئی سڑک پر تھا‘ کوئی گلی کی نکڑ پر‘ کوئی کونے میں تو کوئی گھر کی بالکونی پر لٹکا ہوا تھا۔ ہر طرف لوگ ہی لوگ تھے جو اپنا ملک پا کر خوشی سے بے حال ہو رہے تھے۔ مائونٹ بیٹن ان سب چہروں کو غور سے دیکھتا جا رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ انہی میں سے کسی کے ہاتھ میں وہ گرینیڈ ہے جو اس نے ان کی کار پر پھینکنا ہے۔ مائونٹ بیٹن سوچ رہا تھا کہ اس خوش باش اور نعرے لگاتے ہجوم کو کچھ علم نہیں ہے کہ جناح صاحب اور وہ کتنے بڑے خطرات مول لے کر اس وقت اس اوپن گاڑی میں سوار ہیں۔ جو اس وقت جناح اور لارڈ مائونٹ بیٹن پر بیت رہی تھی اس کا اندازہ ہجوم کبھی نہیں کر سکتا تھا‘ جس کے اندر ان کا متوقع قاتل چھپا ہوا تھا اور کسی لمحے وہ آگے بڑھ کر ان پر بم مار سکتا تھا۔
لارڈ مائونٹ بیٹن اور جناح ابھی تک چپ چاپ بیٹھے تھے۔ دونوں کے درمیان ایک لفظ کا بھی تبادلہ نہیں ہوا۔ دونوں کی زندگیاں دائو پر لگی ہوئی تھیں۔ مائونٹ بیٹن کو یوں لگ رہا تھا کہ تین کلومیٹر کا سفر طے کرنے میں اسے جو تیس منٹ لگے تھے وہ دراصل چوبیس گھنٹوں پر محیط تھے۔ ان کی گاڑی کی رفتار بمشکل ہی اس بندے سے زیادہ ہو گی جو تیزی سے پیدل چلتا جا رہا ہو۔ اس روٹ کے ایک ایک انچ پر ہجوم کا قبضہ تھا۔ لوگ تو ٹیلی فون کے پولوں، لیمپ پوسٹوں تک سے لٹکے ہوئے تھے۔ کئی تو کھڑکیوں سے چمٹے ہوئے تھے اور ایک بڑی تعداد گھروں کی چھت پر موجود تھی۔ وہ سارا ہجوم جناح اور لارڈ مائونٹ بیٹن کو درپیش خطرات سے بے خبر نعرے لگانے میں مصروف تھا۔ پاکستان زندہ باد۔ جناح زندہ باد۔ مائونٹ بیٹن زندہ باد۔
کار میں سوار جناح اور لارڈ مائونٹ بیٹن کو یوں لگ رہا تھا جیسے وہ کسی سرنگ میں سے گزر رہے ہوں جس کے چاروں طرف انسانوں کی دیواریں تھیں اور کسی وقت کوئی بھی بم ان کی کار پر اچھال دے گا۔ مجمع کو پرجوش اور نعرے لگاتے دیکھ کر جناح اور مائونٹ بیٹن کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ اپنے چہروں کو خوشگوار رکھنے کی کوشش کریں۔ لارڈ مائونٹ بیٹن اس ٹینشن کے ماحول میں اپنے ہاتھوں کو ایک دوسرے سے رگڑ رہا تھا اور ساتھ ہی چہرے پر زبردستی مسکراہٹ لانے کی کوششوں میں لگا ہوا تھا جبکہ اندر ہی اندر وہ ان چہروں کو بھی پڑھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ کہیں اسے سوجن زدہ آنکھیں نظر آئیں یا خوفزدہ چہرہ جس سے وہ اندازہ لگا سکے کہ وہ دیکھو یہ ہے وہ بندہ اور یہ جگہ ہے جہاں یہ سب کچھ ہونے والا ہے۔
لارڈ مائونٹ بیٹن کو یہ سب کچھ سوچتے ہوئے یاد آیا کہ اس کے ساتھ ایسا پہلی دفعہ نہیں ہو رہا تھا۔ جب 1921 میں وہ اپنے کزن پرنس آف ویلز کے ساتھ ہندوستان کے دورے پر آیا تھا تو اس وقت بھی سی آئی ڈی نے ایک سازش پکڑی تھی جب یہ پلان بنایا گیا تھا کہ کرائون پرنس کی کار پر بم پھینک دیا جائے جب وہ بھارت پور کی گلیوں میں سے گزر رہا ہو گا۔
یہی سوچتے ہوئے مائونٹ بیٹن ادھر ادھر دیکھ رہا تھا کہ اس ہجوم میں سے ایسا کون سا بندہ ہوسکتا ہے جس کے پاس وہ بم ہے جو اس نے جناح اور ان کی کار پر پھینکنا ہے؟ کیا وہ بندہ وہی تو نہیں جس کو دیکھ کر میں اپنا ہاتھ ہلا رہا ہوں؟ یا اس کے قریب جو کھڑا ہوا ہے وہ بندہ ہے جس نے بم مارنا ہے؟ مائونٹ بیٹن کو عجیب و غریب خیالات آرہے تھے۔ مائونٹ بیٹن کو بنگال کے گورنر کا وہ ملٹری سیکرٹری یاد آیا جس نے ایک قاتل کا بم پکڑ کر اسے واپس قاتل پر ہی پھینک دیا تھا۔ یہ سوچتے ہوئے مائونٹ بیٹن کو خیال آیا کہ بم کو پکڑنا تو دور کی بات ہے وہ تو کرکٹ کی بال تک نہیں پکڑ سکتا تھا۔ اچانک اس کی سوچ کا رخ اپنی بیوی کی طرف مڑ گیا جو بالکل اس کی گاڑی کے پیچھے ایک اور گاڑی میں سوار ہوکر آرہی تھی؛ تاہم اس نے پیچھے مڑ کر اس کی گاڑی کو دیکھنے کی کوشش نہیں کی بلکہ وہ نعرے لگاتے ہجوم کو ہی دیکھتا رہا کہ کہیں اسے کوئی خوفزدہ چہرہ نظر آئے جو سٹیل کا وہ خطرناک ٹکرا ان کی گاڑی کی طرف ہوا میں اچھال کر پھینکنے لگا ہو اور وہ چلا کر کہہ سکے کہ وہ رہا۔
جب یہ قافلہ وکٹوریہ روڈ پر واقع ہوٹل کے قریب پہنچنا تو ایک عمارت کی بالکونی میں کھڑے ایک نوجوان نے اپنے کوٹ کی جیب میں موجود اپنے آہنی ہتھیار پر انگلیاں سخت کر دیں اور وہ اس ہجوم کو دیکھنے لگ گیا جو زوروشور سے نعرے لگا رہا تھا۔ اس نے اپنے پستول کی سیفٹی کو ہٹایا۔ یہ وہی افسر Mr Savage تھا جس نے لاہور سے دہلی جا کر مائونٹ بیٹن کو اس سازش کی اطلاع دی تھی۔ قانوناً اس کے پاس یہ ہتھیار نہیں ہونا چاہیے تھا کیونکہ کچھ دنوں بعد وہ واپس برطانیہ جا رہا تھا۔ اس کی پنجاب پولیس کے ساتھ سروس چوبیس گھنٹے پہلے ختم ہو چکی تھی۔
دوسری طرف گاڑی میں مائونٹ بیٹن اور جناح صاحب اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجانے کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے اور اپنی پریشانیوں کو چھپانے کے لیے عوام کو دیکھ کر ہاتھ ہلا رہے تھے تاکہ کسی کو اندازہ نہ ہو کہ وہ اس وقت کس صورت حال سے گزر رہے ہیں۔ دونوں اتنے دبائو کا شکار تھے کہ انہوں نے ایک دوسرے سے بات تک نہیں کی۔ دونوں کے ہونٹ سلے ہوئے تھے لیکن وہ مجمع کو یہ تاثر نہیں دینا چاہتے تھے کہ ان کے ساتھ کچھ ہونے والا ہے۔ لارڈ مائونٹ بیٹن خود کو سمجھانا شروع ہوگیا کہ یہ سب لوگ اسے پسند کرتے ہیں۔ اس نے تو ان سب کو آج کے دن آزادی دی ہے۔ وہ بھلا اسے کیوں قتل کرنا چاہیں گے۔ لارڈ مائونٹ بیٹن پوری طرح اس بات پر قائل ہو کر ہی جناح کے ساتھ اوپن گاڑی میں بیٹھا تھا کہ اس کی موجودگی کی وجہ سے جناح صاحب قتل ہونے سے بچ جائیں گے۔ مائونٹ بیٹن کے خیال میں جو لوگ جناح کو قتل کرنا چاہتے تھے وہ ان کے ساتھ گاڑی میں اسے بیٹھا دیکھ کر قتل نہیں کریں گے۔ مائونٹ بیٹن نے جناح کے ساتھ گاڑی میں سفر کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا تھا کہ جناح کی جان بچائی جائے۔
انگریز افسر کی بالکونی کے نیچے سے جب جناح اور مائونٹ بیٹن کی گاڑی گزرنے لگی تو اس نے اپنے پستول پر گرفت مضبوط کر لی۔ جب تک رولز رائس وہاں سے گزر نہیںگئی وہ وہاں موجود رہا۔ وہ اپنے کمرے میں لوٹ گیا اور اس نے ایک گلاس میں سکاچ انڈیل لی۔
آگے ہندوئوں کا علاقہ آرہا تھا۔ لارڈ مائونٹ بیٹن نے سوچا‘ یقینا اگر گاڑی پر بم سے حملہ ہوا تو یہیں سے ہوگا۔ اس علاقے کی تمام دکانیں ہندوئوں کی ملکیت تھیں اور وہ سب مسلمانوں کو نعرے لگاتے دیکھ کر سہمے ہوئے بھی تھے۔
کچھ بھی نہ ہوا۔ اچانک مائونٹ بیٹن نے اپنے سامنے گورنر ہائوس کا بڑا گیٹ دیکھا۔ اسے یوں لگا جیسے کسی بحری جہاز کے کپتان کو بڑے طوفان کے بعد ساحل سمندر کی روشنیاں نظر آگئی ہوں۔ مائونٹ بیٹن کی زندگی کا سب سے خوفناک اور اعصاب شکن سفر اختتام پذیر ہوگیا تھا۔ جب گاڑی رکی تو جناح نے گہری سانس لی جیسے وہ بھی ریلیکس کررہے ہوں۔ انکے چہرے پرچھائی ہوئی سنجیدگی اور فکر کی جگہ مسکراہٹ نے لے لی۔ جناح نے اپنا کمزور ہاتھ وائسرائے کے گھٹنے پر رکھ کر کہا: خدا کا شکر ہے میں آپ کو زندہ سلامت لے آیا ہوں۔
لارڈ مائونٹ بیٹن مسکرایا اور بولا: کیا کہا آپ نے جناح‘ آپ مجھے زندہ سلامت لے آئے ہیں یا میں آپ کو زندہ سلامت گورنر ہائوس لے آیا ہوں۔
اب جناح اور مائونٹ بیٹن کے ذہن میں یہ سوال ابھرا کہ سی آئی ڈی کے پاس اتنی پکی خبر تھی‘ پھر ان پر حملہ کیوں نہیں کیا گیا تھا؟ آخری لمحے پر ایسا کیا ہوگیا تھا کہ ان کی گاڑی پر بم نہیں اچھالا گیا تھا۔ جس سوال کا جواب جناح اور مائونٹ بیٹن تلاش کررہے تھے اس کا جواب صرف اور صرف جالندھر میں سائیکلوں کی مرمت کرنے والے سکھ مستری پریتم سنگھ کے پاس تھا کہ جناح اور لارڈ مائونٹ بیٹن پر آخری لمحے حملہ کیوں نہیں کیا گیا تھا۔ (جاری

Source: dunya news

Must Read Urdu column Kashmir kahani 10 By Rauf Klasra

Leave A Reply

Your email address will not be published.