کتابوں کا موسم – روف کلاسرا

سردیوں کا موسم بستر میں گھس کر رضائی اوڑھ کرکتابیں پڑھنے، چائے یا کافی پینے کا نام ہے۔ ابھی درجن بھر نئی اور پرانی کتابیں ملی ہیں اور کیا شاندار خزانہ ہے۔ کچھ بکس جہلم کے دوستوں گگن شاہد اور امر شاہد کے ادارے نے چھاپی ہیں۔ کچھ کراچی سے آئی ہیں۔ کچھ کتابیں نارووال سے ڈاکٹر محمود احمد کاوش کی ہیں۔ کراچی کے نوجوان لکھاری اور ادیب راشد اشرف بھی کتابوں کی دنیا میں نئی تاریخ رقم کررہے ہیں۔
ہمارے کالم نگار دوست خالد مسعود کی کتاب ”زمستان کی بارش‘‘ کا بڑے عرصے سے انتظار تھا۔ انتظار سے یاد آیا ایک اور کتاب جس کا شدت سے انتظار ہے وہ سابق بیوروکریٹ، کہانی نویس اور ادیب طارق محمود صاحب کی آپ بیتی ”دام خیال‘‘ ہے۔ افضال احمد صاحب نے بتایا تھا کہ ”دام خیال‘‘ جولائی کے آخر تک چھپ جائے گی۔ اکتوبر آ گیا ہے ابھی تک انتظار ہے۔ مختار مسعود، قدرت اللہ شہاب بھی سرکاری افسران تھے اور ان کی کتابوں نے آج تک دھوم مچا رکھی ہے۔ ملتی جلتی توقعات میں نے طارق محمود کی آپ بیتی سے باندھ رکھی ہیں۔ مجھے نہیں پتا بغیر کتاب پڑھے میں ایسی توقعات باندھنا مناسب بھی ہے یا نہیں کیونکہ ہر ادیب اور لکھاری کا اپنا انداز ہوتا ہے۔ ایک اور ناول جس کی اشاعت کا شدت سے انتظار ہے وہ شاہد حمید کا ترجمہ شدہ ٹالسٹائی کا ”وار اینڈ پیس‘‘ ہے جسے لاہور سے چھاپا جا رہا تھا۔
اس انبار میں مجھے جو کتاب اہم نظر آرہی ہے وہ اردو کی بہترین آپ بیتی ”آہنگ بازگشت‘‘ ہے جو نامور صحافی مولوی محمد سعید نے لکھی ہے جو پاکستان ٹائمز کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر تھے۔ وہ 23 اکتوبر کو 1911 میں پیدا ہوئے۔ یہ پاکستان بننے سے پہلے اور بعد کی ایسی کہانی ہے جسے آپ بار بار پڑھنے پر مجبور ہوں گے۔ اس کتاب کی عرصے سے تلاش تھی۔ اس کتاب کا تعارف ہمارے مرحوم دوست انور عزیز چوہدری صاحب نے عامر متین کے گھر کرایا تھا۔
اس کے پرانے ایڈیشن کی ایک فوٹو کاپی عامر متین اور انور عزیز چوہدری نے کرا کے دی تھی جو گم ہوگئی تھی۔ اب راشد اشرف نے کراچی سے کتابوں کا جو بنڈل بھیجا ہے اس میں سے یہ کتاب نکلی ہے تو دل شاد ہوا اور خیال آیا کوئی اور دعا کرتا تو وہ بھی قبول ہو جاتی۔ پھر یاد آیا میری بیگم نے کہا تھا: یہ مت کہا کرو کہ کوئی اور دعا کر لیتا بلکہ الحمدللہ کہا کرو کہ جو خواہش تھی وہ خدا نے پوری کی‘ ناشکری نہ کیا کرو کہ کوئی اور دعا مانگ لیتا۔ اس دن کے بعد کبھی نہیں کہا: یار کوئی اور دعا مانگ لیتا‘ بلکہ شکر کرتا ہوں جو دل میں تھا وہی خدا نے پورا کر دیا۔
کالم نگار، ڈرامہ نگار اور اپنی طرز کے کمال شاعر منصور آفاق کا تازہ ناول ابھی تنویر ملک دے گیا ہے۔ منصور آج کل مجلس ترقی ادب لاہور کے ناظم ہیں۔ میانوالی کی دھرتی سے اٹھے اس شاعر نے سرائیکی کلچر اور زبان کو نئی شناخت دی۔ منصور آفاق کا یہ شاندار نیا ناول بھی میری سردیوں کی ریڈنگ لسٹ میں شامل ہے۔
ایک اور کتاب جس نے مجھے جکڑ لیا ہے وہ میرے ملتانی دوست خالد مسعود کی ”زمستان کی بارش‘‘ ہے۔ یہ خالد مسعود کی ملتان اور ملتانی کرداروں پر لکھی گئی تحریروں پر مشتمل ایسی دستاویزات ہے جس نے ملتان اور اس کے شاندار ماضی کے مزاروں کو ہمیشہ کے لیے تاریخ میں زندہ کر دیا ہے۔ جہاں خالد مسعود چاہتا ہے وہ ہمیں رُلا دیتا ہے اور جہاں اس کا دل کرتا ہے ہماری گدگدی کرتا ہے۔ جتنے شاندار کرداروں پر خالد نے لکھا ہے‘ انہیں پڑھ کر آپ بھی ان کی محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ خالد مسعود کی یادداشت کی داد نہ دینا زیادتی ہوگی‘ لیکن زیادتی یہ ہوگی اگر اس کتاب میں شامل پاکستان کے بڑے کالم نگار ہارون الرشید کے لکھے دیباچے کی تعریف نہ کی جائے۔ اگر خالد مسعود اجازت دے تو مجھے کہنے دیں کہ پوری کتاب ایک طرف اور ہارون الرشید صاحب کا لکھا ہوا دیباچہ ایک طرف۔ ہارون الرشید کی لکھی اس غیرمعمولی تحریر کی چس اور نشہ بڑے عرصے تک آپ پر طاری رہے گا۔ انہوں نے دل سے لکھا ہے اور کیا خوب لکھا ہے۔ ویسے میں بہت کم دوستوں سے جیلس ہوتا ہوں یا رشک کرتا ہوں لیکن کیا کریں انسان ہیں لہٰذا قابو نہیں رہتا۔ اس کتاب کے بیک پیج پر شکیل عادل زادہ کے خالد مسعود کی تحریروں پر لکھے گئے خراج تحسین نے مجھے متاثر کیا۔ خالد مسعود خوش قسمت ہے کہ اس کے لیے ہارون الرشید، شکیل عادل زادہ، شاہد صدیقی اور سہیل وڑائچ جیسے بڑے لکھاریوں نے لکھا اور کیا خوب لکھا۔ ویسے میرا خیال ہے ”زمستان کی بارش‘‘ ایک کتاب سے زیادہ خالد مسعود کی خود نوشت ہے۔ اگر خالد تھوڑی سی محنت کر لیتا اور سرائیکی علاقوں کی روایتی سستی کا شکار نہ ہوتا تو یہ اردو ادب کی بہترین آپ بیتی کہلاتی۔
اس سے پہلے جس کتاب نے متاثر کیا تھا وہ قابل احترام اظہارالحق کے کالموں کے مجموعہ پر مشتمل تھی۔ اظہارالحق سے بہتر ناسٹلجیا کہیں پڑھنے کو نہیں ملے گا۔ اگر اچھی نثر پڑھنی ہو تو ہارون الرشید، اظہارالحق اور شاہد صدیقی کو پڑھیں۔ ویسے تو کمال کی تحریریں آج کل میرے پسندیدہ ایاز امیر لکھ رہے ہیں۔
ایک اور کتاب جس نے مجھے متاثر کیا ہے وہ ڈاکٹر محمود احمد کاوش کا وہ تھیس ہے (مشفق خواجہ احوال و آثار) جس پر انہیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری ملی اور اب کتابی شکل میں چھپا ہے ۔ ایک ہزار صفحات پر مشتمل اس طویل تھیسز کو پڑھنا ایک خوبصورت تجربہ ہے۔ مشفق خواجہ سے مجھے نوے کی دہائی میں متعارف کرانے والے میرے دو ملتانی دوست ذوالکفل بخاری مرحوم اور ڈاکٹر وحیدالرحمن تھے۔ میں خواجہ صاحب کے ایک رسالے میں چھپنے والے کتابوں پر تبصرے اور کالم بڑے شوق سے پڑھتا تھا لیکن مشفق خواجہ کی اصل عظمت اور کام کی سمجھ اس بھاری بھرکم کتاب کو پڑھ کر آرہی ہے۔ عمومی طور پر ایسے تھیسز کم ہی پڑھے جاتے ہیں لیکن جس محنت سے یہ لکھا گیا ہے اس پر ڈاکٹر کاوش واقعی داد کے مستحق ہیں۔ یونیورسٹیز میں اردو ڈیپارٹمنٹ کے طالب علموں کو ڈاکٹر کاوش کا یہ شاندار تھیسز ضرور پڑھنا چاہئے اور سیکھنا چاہئے ریسرچ کیسے کی جاتی ہے ۔
ڈاکٹر کاوش لکھتے ہیں: مشفق خواجہ نے مقتدرہ قومی زبان کا چیئرمین بننے سے یہ کہہ کر انکارکر دیا تھا میں اس ملازمت کا اہل نہیں ہوں۔ اسی طرح مشفق خواجہ نے نظیر صدیقی کے نام ایک خط میں لکھا ”میں نے اخبار میں لکھنا چھوڑ دیا ہے۔ ایک تو فرمائش پر لکھنا میرے لیے ذہنی کوفت کا باعث ہوتا ہے۔ دوسرے کاموں میں حرج ہوتا ہے۔ اخبار ہی نہیں ریڈیو کیلئے لکھنا بھی بند کر دیا ہے۔ اخبار اور ریڈیو سے جو آمدن ہورہی تھی وہ آپ کے اٹھارہویں گریڈ سے زیادہ تھی لیکن جو نقصان ہوتا تھا وہ ہزارویں گریڈ سے بھی زیادہ تھا۔ میری عمر کا تجربہ کہتا ہے روپیہ ہر دکھ کا علاج نہیں ہے بلکہ اس کی فراوانی بعض امراض کا سبب بنتی ہے۔ میں نے اپنی ضروریات محدود کرلیں۔ اب میں بہت خوش ہوں‘‘۔
شاید مشفق خواجہ صاحب نے گوتم بدھ کو بہت پہلے پڑھ لیا تھاکہ انسان کی سب سے بڑی دشمن اس کی خواہشات ہیں۔ خواہشات کو لگام ڈال دیں تو زندگی گزارنا آسان ہوجاتی ہے۔ بڑے عہدے، مشہور ہونے کا خبط یا پیسے کمانے کا جنون سب اپنی اہمیت کھو بیٹھتے ہیں اور زندگی اچانک سادہ اور خوبصورت لگنا شروع ہوجاتی ہے۔

Source: dunya news

Must Read Urdu column Kitabon ka Mousam by Rauf Klasra

Leave A Reply

Your email address will not be published.