طارق باجوہ اور بابو گیری کا فن -روف کلاسرا

Rauf Klasra

وزیرخزانہ اسد عمر کے منہ سے یہ سن کر ایک دھچکا لگا کہ سوئس بینکوں کے دو سو ارب ڈالرز کی کہانی اب ختم ہی سمجھیں ۔ارشد شریف نے اسد عمر سے پوچھا کہ ان دو سو ارب ڈالرز کا کیا بنا‘ جو سوئس بینکوں میں پڑے ہوئے تھے؟ اسد عمر نے ایک قہقہہ مارا اور بولے: وہ کہانی ختم ہوگئی۔ ارشد شریف کو جھٹکا لگا اور بولے :آپ تو خود کہتے تھے کہ دو سو ارب ڈالرز سوئس بینکوں سے لائیں گے۔ اسد عمر نے جواب دیا: میرے سوال کے جواب میں ہی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں کنفرم کیا تھا کہ دو سو ارب ڈالرز سوئس بینکوں میں پڑے ہیں‘لیکن اب پتا چلا ہے کہ سب کچھ غلطی فہمی کا نتیجہ تھا ۔ارشد شریف مزید حیران ہوئے اور کہا کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ا س وقت کے چیئر مین ایف بی آر طارق باجوہ نے باقاعدہ ایک سمری کابینہ کو بھیجی تھی‘ جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق سوئس بینکوں میں دو سو ارب ڈالرز پڑے ہیں۔ جب ایف بی آر چیئر مین کہہ رہے ہیں تو پھر غلط کیسے ہوسکتا ہے؟ اسد عمر نے جواب دیا کہ ان کی طارق باجوہ سے بات ہوئی تھی ‘وہ کہتے ہیں کہ بس غلطی ہوگئی تھی۔ ارشد شریف حیرت سے منہ تکتے رہ گئے ۔ اسد عمر کے قہقے میں ہی دو سو ارب ڈالرز غائب ہوگئے۔
اسد عمر اور ارشد شریف کے درمیان ہونے والی اس گفتگو کو سنتے ہوئے میں حیرانی سے سوچتا رہا کہ اس ملک میں دھوکہ دینا کتنا آسان ہے۔ان بابوز کو سیاستدانوں کو گولی دے کر خوش رکھنے کا فن کتنا آتا ہے‘اسی طارق باجوہ نے جب چیئرمین ایف بی آر تھے تو اسحاق ڈار کو بھی خوش رکھا اور اب جب وہ گورنر سٹیٹ بینک ہیں تو اسد عمر کو بھی مطمئن کردیا ہے۔ دو ہزار چودہ میں یہی طارق باجوہ سمری لے کر کابینہ کے پاس گئے اور انکشاف فرمایا کہ ان کے مصدقہ ذرائع کے مطابق سوئس بینکوں میں دو سو ارب ڈالرز پڑے ہیں۔ نواز شریف کابینہ نے منظوری دے دی کہ جائیں سوئس حکام سے بات کریں۔ ایک تین رکنی وفد بنایا گیا‘ جس کی صدارت چیئرمین ایف بی آر طارق باجوہ نے ہی کرنی تھی۔ جس شام اس وفد نے جنیوا جانا تھا‘ اسی شام اچانک طارق باجوہ نے جانے سے انکار کر دیا اور ایک اور افسر اشفاق احمد خان کو اس کا سربراہ بنا کر بھیج دیا ۔ وہ وفد سوئس حکام سے ملا تو انہوں نے فوری رضامندی ظاہر کر دی کہ وہ پاکستان کے ساتھ معاہدہ کرنے کو تیار ہیں‘ جس کے تحت ان تمام پاکستانیوں کے نام اور بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات دیں گے کہ کس کا کتنا پیسہ ان بینکوںمیں پڑا ہے۔ اس مجوزہ معاہدے کے تحت پاکستان اپنے ان شہریوں کو نوٹس دے کر پوچھ سکتا تھا کہ ان کے سوئس بینکوں میں جو پیسے پڑے ہیں‘وہ کہاں سے آئے اور کیسے سوئس بینکوں میں بھیجے گئے ؟ کیا انہوں نے انہیں گوشواروں میں ظاہر کیا اور کتنا ٹیکس دیا ؟ اگر وہ شہری تفصیلات دینے میں ناکام رہتے ہیں تو حکومت پاکستان ان پر کل ڈالروں کا تیس فیصد ٹیکس اور تیس فیصد جرمانہ عائد کر کے سوئس حکام کو بتا سکتی تھی اور وہ ساٹھ فیصد رقم اس پاکستانی کے بینک اکاؤنٹ سے کاٹ کر پاکستان کو دے سکتے تھے۔
اس معاہدے کے بدلے سوئس حکام نے کہا کہ ہمیں پاکستان موسٹ فیورڈ نیشن کا درجہ دے اور جو سوئس کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کررہی ہیں‘ ان کے پرافٹ پر دس فیصد کی بجائے پانچ فیصد ٹیکس لگایا جائے۔ اس پر پاکستانی وفد خوشی سے جھوم اٹھا‘ کیونکہ اگر ٹیکس پر رعایت دی جاتی‘ تو وہ تقریباً ایک ڈیرہ لاکھ ڈالرز سالانہ بنتی تھی‘ کیونکہ اس وقت سوئس کمپنیوں کی پاکستان میں سرمایہ کاری دو ڈھائی سو ملین ڈالرز سے زیادہ نہ تھی۔ سوئس وفد کے سربراہ نے پاکستانی ٹیم کو بتایا کہ وہ پاکستان سے خاص محبت رکھتے ہیں‘ کیونکہ ان کا بیٹا وہیں پر ہوا تھا اور وہ اسے پاکستان کا حصہ سمجھتے ہیں۔ پاکستانی وفد کو کہا گیا‘ وہ اگلے تین ماہ میں اس معاہدے پر دستخط کرلیں‘ کیونکہ تین ماہ بعد وہ ریٹائر ہورہا ہے۔ جب پاکستانی وفد واپس پہنچا تو ایک بم شیل ان کے انتظار میں تھا۔ طارق باجوہ نے ایک نوٹ لکھ کر اسحاق ڈار کو بھیجا کہ انہیں یہ ڈرافٹ معاہدہ منظور نہیں ہے‘ کیونکہ اس سے پاکستان کو ٹیکس کی مد میں کچھ رعایت کرناپڑے گی ‘لہٰذا آپ جنیوا میں پاکستانی سفارت خانے کو کہیں کہ وہ سوئس حکام کو بتائیں کہ پاکستان ابھی اس معاہدے پر دستخط کے لیے تیار نہیں‘ مزید مذاکرات کی ضرورت ہے۔ سارا بہانہ اور مقصد اس
معاہدے کو سبوتاژ کرنا تھا۔ یوں جو معاہدہ ہونے والا تھا‘ جس کے تحت پاکستان کے شہریوں کے اکاؤنٹس کی تفصیلات مل سکتی تھیں‘ وہ وہیں روک دیا گیا اور اگلے چار سال تک‘ اسحاق ڈار اور طارق باجوہ دور میں دوبارہ مذاکرات نہ ہوئے۔ اس دوران جن پاکستانیوں کے ڈالرز ان سوئس بینکوں میں پڑے تھے ‘ان سب کو پورا موقع فراہم کیا گیا کہ جن کے اربوں ڈالرز وہاں پڑے ہیں وہ کہیں اور شفٹ کر لیں ۔ ان میں آصف زرداری کے ساٹھ ملین ڈالرز بھی شامل تھے۔
سوئس حکام کو یہ بہانہ دیا گیا کہ جو ایف بی آر افسران ان سے ڈرافٹ معاہدہ کرنے آئے تھے وہ جونیئر تھے اور ان کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ اس پر بس نہ کی گئی‘ بلکہ جو افسران ڈرافٹ معاہدہ کر کے آئے تھے‘ انہیں سبق سکھانے کا پروگرام بنایا گیا۔ اس وفد کے سربراہ اشفاق احمد خان حیران رہ گئے جب انہیں ایک شو کاز نوٹس دیا گیا کہ وہ کس حیثیت میں سوئٹزرلینڈ ڈرافٹ معاہدہ کرنے گئے تھے؟ اس افسر کو فورا ًکھڈے لائن لگا کر چارج شیٹ کر دیا گیا۔ ساتھ ہی ایک اور خاتون افسر کو بھی سزا دے کر ایک انکوائری ٹیم بنا دی گئی کہ ان افسران کی انکوائری کریں‘ کیونکہ انہوں نے سوئس حکام سے ڈرافٹ معاہدہ تیار کیا۔ اس انکوائری میں جن سینئر افسران کو مقرر کیا گیا تھا‘ انہوں نے ان ایف بی آر افسران کو کلیئر کر کے کہا کہ ان کا کیا قصور ہے‘ انہیں تو طارق باجوہ نے خود ہی جنیوا بھیجا تھا ۔ انکوائری افسر پر بہت دبائو ڈالا گیا‘ لیکن اس نے وفد کے افسران کو کلیئر کر دیا۔ اشفاق احمد خان نے جو دس صفحات پر اپنا جواب انکوائری ٹیم کو جمع کرایا وہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس میں انہوں نے طارق باجوہ اور دیگر افسران کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں کہ آپ نے خود ہمیں بھیجا اور اب خود ہی ہمارے خلاف کارروائی کررہے ہیں۔ ہمارا قصور یہ تھا کہ ہم پاکستان کے دو سو ارب ڈالرز واپس لانے کے لیے کوششیں کررہے تھے۔ اشفاق احمد خان نے اپنے اس جواب میں تفصیل کے ساتھ بتایا کہ اس معاہدے سے پاکستان کو کتنا بڑا فائدہ ہونا تھا۔ اس دوران طارق باجوہ کو اسحاق ڈار نے انعام کے طور پر گورنر سٹیٹ بینک لگا دیا تو ڈار نے اپنے ایک اور سیکرٹری طارق پاشا‘ جو اس پورے کھیل میں شامل تھے ‘کو چیئرمین ایف بی آر لگا دیا‘ تاکہ اس معاہدے پر کام نہ ہوسکے۔ جب یہ سب کہانی میرے پاس پہنچی اور پوری فائل پڑھی تو گورنر سٹیٹ بنک طارق باجوہ کو فون کیا اور پوچھا کہ انہوں نے یہ سب کیسے کیا ؟ طارق باجوہ نے سارا الزام عمران خان پر ڈال دیا اور کہا کہ یہ معاہدہ نہ ہونے کی وجہ عمران خان کا دھرنا تھا ۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا بھلا وہ کیسے؟ تو طارق باجوہ بولے :میں تو جانے کو تیار تھا‘ لیکن عمران خان نے ہمارے دفتر کے ساتھ ہی دھرنا دیا ہوا تھا۔ اس دھرنے کی وجہ سے میں دفتر سے نہیں نکل پاتا تھا ‘لہٰذا خود نہیں گیا اور دوافسران کو بھیج دیا۔ میں نے طارق باجوہ سے پوچھا :تو اگر ہر طرف دھرنے کے لوگ تھے ‘توپھر افسران کیسے نکل کر ائیرپورٹ پہنچے اور جنیوا چلے گئے؟ وہ بولے :وہ پچھلے دروازے سے گئے تھے‘ تو آپ کیوں پچھلے دروازے سے نکل کر نہ چلے گئے؟ طارق باجوہ بولے: دیکھیں ناں وہ سوئس ہم سے پانچ فیصد ٹیکس میں رعایت مانگ رہے تھے۔ میں نے کہا: جو آپ کو دو سو ارب ڈالرز تک رسائی دے رہے تھے‘ وہ اگر پانچ فیصد رعایت مانگ رہے تھے تو کون سا آسمان ٹوٹ پڑنا تھا؟طارق باجوہ کا کمال دیکھیں‘ خود جونیئر افسران جنیوا بھیج کر خود ہی ان پر اعتراض کر کے معاہدہ روک دیا اور بعد میں انہی کی انکوائری شروع کرادی۔
جس نے وہ دو سو ارب ڈالرز ڈبوائے وہ اسحاق ڈار کے دور میں چیئرمین ایف بی آر تھا اور اسد عمر کے دور میں گورنر سٹیٹ بینک ہے۔ یہ بابوز ہر دور میں سیاستدانوں کو گولی دے لیتے ہیں ۔ اُس وقت طارق باجوہ نے اسحاق ڈار کو راضی کرنا تھا‘ لہٰذا اس نے دو سو ارب ڈالرز کا معاہدہ نہ ہونے دیا اور سارا ملبہ عمران خان اور اس کے دھرنے پر ڈال دیا اور آج اپنی نوکری بچانے کے لیے اسد عمر کو کہانی سنا دی کہ سمری بھیجنا چھوٹی سی غلطی تھی ۔اسد عمر نے بھی ایک قہقہے میں اس ”چھوٹی‘‘سی غلطی کو اڑا دیا ۔کچھ زیادہ نہیں وہ غلطی اس قوم کو دو سو ارب ڈالرز میں پڑی۔ طارق باجوہ کی نوکری اسحاق ڈار دور میں بھی پکی تھی اور اسد عمر دور میں بھی پکی ہے۔ رند کے رند رہے‘ ہاتھ سے جنت نہ گئی۔

Source: dunya news

Must Read Urdu column Tariq bajwah aur babugiri ka fun By Rauf Klasra

Leave A Reply

Your email address will not be published.