تیس سال پرانا دکھ – روف کلاسرا

ایک سابق آئی جی پولیس سے کچھ عرصہ پہلے ملاقات ہوئی تو ایک تیس سالہ پرانا دکھ دوبارہ تازہ ہو گیا۔ وہ اچھی ریپوٹیشن کے مالک رہے۔ یہاں پولیس میں گریڈ بائیس تک بندہ ترقی کرے اور عزت کے ساتھ ریٹائرڈ ہو جائے یہ بڑی بات ہے۔ ملاقات میں دو تین اور لوگ بھی موجود تھے۔ بات ایمانداری پر ہونے لگی تو انہوں نے کہا: کسی بھی افسر کی ایمانداری چیک کرنی ہو تو اس کا کچن چیک کرو کون چلاتا ہے؟ میں نے کہا: کچن کا ایمانداری سے کیا تعلق ہے؟ ہر کوئی اپنا کچن خود چلاتا ہوگا بلکہ مجھے یاد آیا کہ امریکی صدر اوبامہ سے ایک ٹی وی انٹرویو میں پوچھا گیا کہ ان کے تو وائٹ ہائوس میں مزے ہوں گے۔ اس پر اوبامہ نے فوراً اس اینکر کو کہا تھا: رکو رکو‘ کیا مطلب؟ میری بیوی مشعل سب کچھ میری تنخواہ سے خرید کر لاتی ہے اور وائٹ ہائوس میں سب مہمان نوازی بھی ہم جیب سے کرتے ہیں۔

یہ باتیں پاکستان کے لوگوں کو عجیب سی لگتی ہیں کیونکہ یہاں بندہ سیاستدان اور حکمران بنتا ہی اس لیے ہے کہ سب کچھ عوامی خرچ پر مفت چلے گا۔ کھانا پینا، لگژری گاڑیاں، ہٹو بچو، گھر کا کچن، لینڈ کروزر، سب کچھ سرکاری ہوگا۔ ابھی پنجاب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وزیروں کے لیے چھیالیس نئی گاڑیاں خریدی جائیں گی جن پر کروڑوں خرچ ہوں گے۔ یہ اس وزیراعظم کے صوبے کی حکومت کے وزیر ہیں جس نے ڈچ وزیراعظم کی طرح سائیکل پر دفتر آنا تھا۔

خیر وہ سابق آئی جی بتانے لگے کہ وہ تو عمر بھر اس اصول پر خود بھی چلتے رہے اور دوسروں کو بھی اس بنیاد پر جج کیا کہ افسر کا کچن اس کی تنخواہ سے چل رہا ہے یا پھر اس کا پرائیویٹ سیکرٹری، اکائونٹنٹ، کوئی ایس ایچ او یا ایس پی چلا رہا ہے۔ اس چھوٹی سی بات پر سب تعین ہو جاتا ہے کہ کون کتنا ایماندار ہے اور کتنے پانی میں ہے۔ جب آپ اپنے پی ایس کو دفتری چائے پانی یا کھانے پینے کا بل نہیں دے رہے تو اس کا مطلب ہے آپ کا پی ایس بھی آپ کے نام پر کسی نہ کسی افسر یا انسپکٹر سے پیسہ لے رہا ہے یا پھر دفتر کے اکائونٹس سے مختلف مدوں میں پیسہ آپ کے کھابوں پر خرچ کیا جارہا ہے۔ ایک ایماندار افسر ہمیشہ اپنے پی ایس کو ہر ماہ چائے‘ پانی‘ بسکٹ یا دفتر میں منگوائے گئے کھانوں کا پورا حساب کتاب کلیئر کرے گا۔ یہ میسج ہوتا ہے پورے محکمے کے لیے کہ صاحب کس مزاج کا افسر ہے اور اب دفتر کیسے چلے گا۔ ورنہ اگر پی ایس یا سٹاف کو محض اشیاء کی سپلائی کا حکم ہوگا لیکن ادائیگی نہیں ہوگی تو پھر سمجھ لیں کہ دس ہزار اگر صاحب کے دفتر کا بل بنے گا تو وہ ایک لاکھ عوام کی جیب سے صاحب کے دفتر کے نام پر نکالے گا۔

میں نے پوچھ لیا: سر جی آپ خود آئی جی رہے، بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہے، کسی بڑے افسر یا کولیگ سے کبھی کوئی چھوٹی حرکت سرزد ہوتے بھی دیکھی؟ میرے سوال پوچھنے کے پیچھے یہ فلاسفی تھی کہ انسانوں کو پہچاننا ہو تو انہیں چھوٹی چھوٹی باتوں اور gestures سے پہچانا جا سکتا ہے۔ بڑا کام اداکاری اور منصوبہ بندی کرکے کیا جاتا ہے تاکہ عوام کو متاثر کیا جائے‘ لیکن چھوٹی چھوٹی حرکتیں آپ سے خود بخود سرزد ہوجاتی ہیں۔ لوگوں کو بڑی باتوں سے نہیں چھوٹی باتوں سے جج کیا کریں۔

وہ کہنے لگے: ہاں ایک چیز کا افسوس ہے۔ وہ ایک دفعہ کشمیر کے آئی جی لگے۔ کشمیر ہائوس اسلام آباد میں چند دن بعد کوئی مہمان ان سے ملنے آیا تو اپنے ساتھ کیک لے آیا۔ انہوں نے کچھ کیک کھایا اور باقی چھوڑ دیا۔ کچھ دنوں بعد وہ کشمیر سے واپس اسلام آباد آئے تو پھر کچھ مہمان تھے۔ سب کا کچھ میٹھا کھانے کو دل کیا تو آئی جی صاحب نے اپنے خانساماں سے پوچھا: کچھ میٹھا ہے گھر میں؟ خانساماں تھوڑی دیر بعد وہی آدھا کھایا کیک لے آیا جو وہ کچھ دن پہلے چھوڑ گئے تھے۔ آئی جی حیران ہوئے اور بولے: تم نے ابھی تک یہ کیک سنبھال کر رکھا ہوا ہے بیوقوف‘ یہ تو خراب ہوچکا ہوگا‘ تم خود کھا لیتے یا اپنے بیوی بچوں کو دے دیتے۔

وہ خانساماں بولا: سرکار آپ سے پہلے جو آئی جی تھے انہوں نے مجھے اس بات پر معطل کرکے گھر سے نکال دیا تھا اور جی بھر کے گالیاں دیں تھیں کہ اسی طرح انہیں کوئی مہمان کیک دے گیا تھا‘ انہوں نے کچھ کیک کھایا اور باقی چھوڑ دیا۔ اس رات میرے بیوی بچے بھی گائوں سے ادھر آئے ہوئے تھے۔ بچوں نے ضد کی تو وہ بچاکھچا کیک انہیں کھلا دیا۔ میرا خیال تھا کہ صاحب اب کشمیر سے چند دن بعد لوٹیں گے۔ وہ بھلا یہ پرانا بچاکھچا کیک کب کھائیں گے۔ اب خدا کا کرنا یہ ہوا کہ آئی جی صاحب نے آتے ہی اس کیک کا پوچھا تو میں نے کہہ دیا کہ سر وہ تو میں نے اپنے بچوں کو کھلا دیا تھا۔ اس پر وہ آئی جی صاحب شدید غصے میں آ گئے تھے اور انہوں نے مجھے گالیاں دینا شروع کر دی تھیں۔ میں نے ان کے سٹاف افسر کے منت ترلے کیے کہ غلطی ہوگئی‘ معاف کر دیں۔ بڑی مشکل سے مجھے معافی ملی۔ اب آپ کہہ رہے ہیں کہ میں نے وہ کیک اپنے بچوں کو کیوں نہیں کھلا دیا اور اسے کیوں ایک ہفتہ فریج میں رکھا۔ وہ بولا: سر اگر مجھے یہ کیک ایک ماہ بھی فریج میں رکھنا پڑتا تو رکھتا تاکہ آپ واپسی پر مانگیں تو آپ کو دے سکوں۔ ایک صاحب اس بات پر ناراض ہوگئے تھے کہ بچاکھچا کیک بچوں کو کیوں کھلایا تو آپ اس پر ناراض ہیں کہ میں نے بچا کھچا کیک بچوں کو کیوں نہ کھلا دیا۔ اب آپ بتائیں میں کیا کرتا؟

آئی جی صاحب نے بات ختم کی تو کمرے میں اداسی اور خاموشی کا راج تھا۔ میں نے خاموشی کو توڑا اور کہا: آپ کی اس بات نے میرا تیس سال پُرانا زخم تازہ کر دیا ہے۔ وہ سب میری طرف متوجہ ہوئے تو میں نے کہا: ملتان یونیورسٹی کے دن تھے۔ میں ابوبکر ہال میں مقیم تھا۔ صبح صبح انگریزی ادب کا لیکچر لینے کیلئے جلدی اٹھنا پڑتا تھا‘ اور اسی جلدی میں کینٹین پر ناشتہ بھی کرنا ہوتا تھا۔ وہاں ایک بارہ تیرہ سال کا لڑکا کینٹین بوائے کا کام کرتا تھا۔ وہ ہر کام تیزی اور ذمہ داری سے کرتا تھا‘ لیکن اس صبح میں نے محسوس کیا کہ وہ کچھ خاموش اور اداس ہے۔ میرے سامنے اس نے ناشتہ رکھا تو میں نے پوچھ لیا: خیریت ہے، کچھ مسئلہ ہے؟ میرا پوچھنا تھاکہ اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے۔ کہنے لگا: میرا گھر یونیورسٹی کے قریب ایک گائوں میں ہے۔ آج صبح صبح میرا چھوٹا بھائی گائوں سے آ گیا۔ اس کا خیال تھا‘ یہ کینٹین میری ہے۔ اس نے کچھ بسکٹ اٹھا کر کھانے شروع کر دیئے۔ کینٹین کے مالک نے بسکٹ کھاتے دیکھا تو اسے زور سے تھپڑ مارا۔ وہ اب روتا ہوا گھر لوٹ گیا ہے۔ آپ بتائو چھوٹے بھائی نے بسکٹ کھا بھی لیے تو کون سی قیامت آ گئی تھی‘ میری دیہاڑی سے پیسے کاٹ لیتا چھوٹے بھائی کو تو نہ مارتا۔ مجھ سے ناشتہ نہ کیا گیا۔ اسی طرح اٹھ کر چلا آیا۔ برسوں گزر گئے‘ لیکن یہ واقعہ کبھی ذہن سے نہ اترا۔ آج بھی اس بڑے بھائی کا دکھ محسوس ہوتا ہے جس کا چھوٹابھائی یہ سمجھ کر گائوں سے کینٹین پر آ گیا تھا کہ شاید اسکا بھائی ہی مالک ہے۔

اب کمرے میں افسردگی اور خاموشی مزید گہری ہوگئی تھی۔ میں نے کہا: چیک کریں اس کینٹین مالک اور اس آئی جی کا لیول‘ دونوں کی سوچ ایک ہی تھی۔ کینٹین مالک نے کینٹین بوائے کے چھوٹے سے بھائی کو بسکٹ کھانے پر تھپڑ جڑ دیا تھا تو آئی جی نے اپنے خانساماں کو بچا کھچا پرانا کیک اپنے بچوں کو کھلانے پر گالیاں دے کر معطل کر دیا تھا۔ بعض دفعہ عہدے بھی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ انسان چھوٹی چھوٹی باتوں سے پہچانے جاتے ہیں۔ بڑے کاموں اور کارناموں کی اداکاری سب کر لیتے ہیں‘ لیکن کیک اور بسکٹ پر اداکاری کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ آج تیس برس بعد بھی ملتان یوینورسٹی کے کینٹین بوائے کے آنسو مجھے اپنے دل پر گرتے محسوس ہوتے ہیں‘ جس کے سات آٹھ سالہ چھوٹے بھائی نے بڑے بھائی کو کینٹین کا مالک سمجھ کر بسکٹ کھا لیا تھا۔

Source: dunya news

Must Read Urdu column Tees Saal Purana Dukh by Rauf Klasra

Leave A Reply

Your email address will not be published.