تہذیبی و سیاسی انتشار…(آخری قسط) – نذیر ناجی

Nazeer Naji

بھارت یا ہندوستان کی بنیاد کو ہندو نسل نے آباد کیا‘یہ محض دعوے ہیں۔ہندوستان کو اپنے راجہ راجائوں اور دیوتائوں کی وراثت مانا گیا‘ حقیقت یہ بھی نہیں۔بنیادی طور پر موجودہ برصغیر کو دریافت کرنے والے آریا لوگ تھے‘ جو وسطی ایشیا سے ہندوستان میں آئے۔وسطی ایشیا سے ایک دریا نکلا‘ جس کے گردو نواح میں جنم لینے والی تہذیب سرسوتی کہلائی۔ انہی لوگ نے سندھ کو اپنا مرکز قرار دیا۔اس دریا کے پرانے نام مورخین نے دریافت کئے‘ لیکن میں یہاں سے سندھ کو دیکھ رہا ہوں۔ اس خطے کی تقسیم سے ”سندھو دریا‘‘ پھیلتا ہوا برصغیر کی تہذیبوں کا منبع بنا۔اس وقت ہندو نام کی کوئی قوم یا قبیلہ نہیں تھا۔سرسوتی دریائے سندھ کی صورت میں ایک قوم سے موسوم ہوا۔ اس کے بعد مختلف قبیلوں یا نسلوں کی بنیاد بنا اور انہی میں سے مختلف نسلیں اور قومیں قبیلوں کی صورت میں پھیلیں۔یہاں سے پاکستان کی جڑیں نمودار ہوتی ہیں‘اس سے پہلے ہندو نامی کوئی قبیلہ نہیں تھا ۔ ہندوستان کی بنیاد سندھ ہے۔یہاں سے مختلف کہانیاں ‘ ہندودیو مالائیں اور قبیلے وجود میں آئے۔ہندوستان یا بھارت سب سندھ سے وجود میں آئے اور ہمارے پاکستان کی جڑیں اور بوٹیاں سرسوتی سے نکلیں ‘لہٰذا ہندوستان سے پہلے سرسوتی تہذیب تھی‘ جس سے ہندو تہذیب نے جنم لیا۔گویا پاکستان‘ ہندو مت سے قدیم خطہ ہے۔ اس لحاظ سے ہندو مت سے پہلے ”سندھو دیش‘‘ اپنی تہذیبوں اور تاریخ کے ساتھ وجود پذیر ہو چکا تھا۔یہاں ہندوستان آنکھیں کھولتا ہے۔
19 ویں صدی میں ثقافتی‘ سماجی اور سیاسی استحکام کے بعد آرٹ‘ ادب اور موسیقی کے خاتمے نے نئے سیاسی عمل کو جنم دیا‘ جو 1860 ء میں ملک کے اتحاد کے لئے اہم تھا۔سپین فرانس سے بھی مختلف ہے‘ جہاں فرانسیسی انقلاب نے قوم پرستی کو فروغ دیا اور 19 ویں صدی میں سرکاری homogenization کی کوششیں کیں۔ سپین میںکوئی ایسی پیش رفت دیکھنے کو نہیں ملی۔ 20 ویں صدی میں ڈنمارک نے روایتی اقدار‘ کیتھولک ازم ‘انتظامی امور اور ثقافتی ہم آہنگی پر مبنی سپین کے نکتہ نظر کو پروان چڑھایا۔ عام ہسپانوی شناخت کو مضبوط بنانے کے لئے اقدامات کئے۔ہسپانوی سول جنگ کے بعد (1936-39ئ) فرانسسکو فر‘کی آمریت نے ”ہسپانوی‘‘ شناخت کو مضبوط بنانے کی کوشش کی۔ علاقائی زبانوں اور ثقافتی اظہارات پر پابندی لگا دی گئی۔نتیجے کے طور پر ہسپانوی قوم پرست دائیں ونگ کے نظریات‘ اقتدار پرستی اور سیاسی مرکز پرستی کے ساتھ منسلک ہو گئے۔اس حوالے سے ہسپانیہ میں بہت سی باتیں زیرگردش رہیںکہ اس نے دوبارہ جلد قومی دھارے میں قوم پرست جماعتوں کو کیوں نہیں نکالا؟اورنکالا تو طویل عرصے بعد کیوں نکالا؟
بیسویںصدی کے نصف میں اٹلی اور فرانس نے دو عالمی جنگوں میں حصہ لیا۔جنگ کی کوششوں سے ایک دوسرے کے قریب ہوئے ۔ مشترکہ کام کرنے کا تجربہ بڑھا‘ جس نے طویل مدتی سماجی اور سیاسی اثرات چھوڑے۔اٹلی اور فرانس کے برعکس سپین نے 20 صدی میں صرف ایک جنگ لڑی اور وہ اپنے خلاف تھی۔اس کے علاوہ اٹلی میں” بینوٹو موسولینی ‘‘کی حکومت صرف دو عشروں تک (فرانکو کی آمریت کے نصف عرصے تک) جاری رہی۔ یہ شہری جنگ کا نتیجہ نہیں تھا‘ حقائق وحدت پسندی اور” فریٹریکائڈل‘‘ جنگ ہے۔قوم پرستی کے ساتھ سپین کے پیچیدہ تعلقات کے بارے میں کون نہیں جانتا؟ 1975ء میں فرانسکو کی موت کے بعد ہسپانوی آئین کے مصنفین نے نازک سمجھوتہ کرنے کی کوششیں کیں۔اس آئین نے سپین کے ایک ناقابل یقین ملک کا اعلان کیا‘ جہاں قومی اقتدار ”ہسپانوی عوام‘‘ کے ہاتھوں میں ہے۔ یہ ایک دلیل ہے کہ میڈرڈ نے ملک میں آزادانہ ریفرنڈم کو مسترد کرنے کا طریقہ اپنایا اور ملکی آئین کے تحت ایک نظام بنایا‘ جس میںجدید تعلیم اور ثقافت کوترجیح دی گئی۔کیٹلونیا جیسے مقامات پر علاقائی حکومتوں نے ان کو شناخت اور زبان کے فروغ کے لیے ہسپانوی تاریخ کی تشریحات کواستعمال کیا ۔
یہ ماڈل چار دہائیوں کے لئے سپین میں استحکام لایا ‘لیکن اب سیاسی سپیکٹرم میں سوال کیا جا رہا ہے۔وفاقی نظام متعارف کرانے میں کچھ مدد ملی‘ لیکن وفاقی کیمپ میں جو بہت سی اصل تجاویز ہیں‘وہ مرکزی حکومت سے علاقائی انتظامیہ تک اضافی پالیسیاں منتقل کررہی ہیں۔ اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جارہا کہ فیڈریشن ایک معاہدے پر مبنی ہے‘ جس میں سیاسی اداروں کی طرف سے دستخط کئے گئے‘ جو ایک دوسرے کے برابر ہیں۔سپین کے ایک حقیقی وفاق کو ملک کی حدود کو قبول کرکے نیا آغاز کرنا ہوگااور ممکن حد تک زیادہ سے زیادہ اتحاد کی کوششیں کرنا ہوں گی۔ اصلاحات جو ابتدائی نکتہ نظر کے طور پر اتحاد کو قبول کرتی ہیں‘ وفاق کی نہیں‘بلکہ عوامی نمائندگی کی حامل ہیں۔اضافی مذہبیت سے چند دہائیوں کے لئے استحکام پیدا ہوسکتا ہے‘ لیکن یہ سپین کے مسائل سے نمٹنے نہیں دے گا۔ قومی اور علاقائی حکومتوں کی طاقت کو واضح کرنے کے لئے معمولی اصلاح‘ متضاد قوم پرستی کے موجودہ ماحول میںہوتی ہوئی نظر نہیں آتی۔ دونوں علاقوں میں سیاسی شعبے اور اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔
کیٹلونیا کے واقعات نے ملک کے حالیہ بحران سے نمٹنے کی حمایت کی ہے۔ انتخابات کا اشارہ ہے کہ تقریباً 30 فیصد سپینارڈز ملک کے علاقوں سے کچھ رقم ضائع کیے بغیر براہ راست ختم کردیئے جائیں گے۔ 2005ء میں ان کی پوزیشنوں میں تقریباً 10 فیصد قابل ذکر اضافہ ہوا۔سپین کی قدامت پسند جماعتوں نے جذبات کا استحصال کرتے ہوئے دلیل دیتے ہوئے کہاکہ میڈرڈکو ایک بار پھر کیٹلونیاکا براہ راست کنٹرول حاصل کر لینا چاہیے۔موجودہ طور طریقوں سے سپین کی وفاقی افزائش ممکن نہیں۔2017ء میںکیٹلونیاکے قوم پرستوں میں بحث چلی کہ موجودہ حالات و واقعات نے ان کے منصوبوں کوواضح کیا۔ خاص طور پر بین الاقوامی حمایت کے بغیر کچھ علیحدگی پسند رہنماؤں نے بھی دفاع کیا۔ان کا مزیدکہنا تھا کہ میڈرڈ کے ساتھ مذاکرات کئے بغیر آزادی حاصل نہیں کی جا سکتی ۔ آزادی کے لیے مزید کوششیں تیز کرنا ہوں گی‘ جیسا کہ حالیہ برسوں میں انتخابات نے ظاہرکیا کہ آزادانہ جماعتوںکی مکمل حمایت حاصل رہی۔ کیٹلونیا کی صورت حال28 اپریل کوہونے والے انتخابات کا واضح عکس پیش کر رہی ہے۔ اس علاقے میں آئندہ انتخابی مہم میں قوم پرستوں کا مرکزی کردار ہوگا۔ برصغیر ابھی یورپ کی طرح مختلف قوموں اور جغرافیوں میں تقسیم ہو گااور یہاں کی تقسیم بھی یورپ کے انداز میں مزید جغرافیے جنم لیں گے۔

Must Read Urdu column Tehzeebi o syasi inteshar last part By Nazeer Naji
Source: Dunya

Leave A Reply

Your email address will not be published.