الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے – روف کلاسرا

موہن بھگت ہمارے چولستان کی سریلی آواز ہے۔ وہ آنجہانی فوک سنگر فقیرا بھگت کے خاندان سے ہے جو صدیوں سے صحرائوں میں گھوم پھر کر گیت گاتا رہا ہے۔ موہن بھگت نے اپنے فیس بک پر لکھا :اتنا بڑا ٹرین حادثہ ہوگیا ‘چوبیس لوگ مارے گئے ‘ ایک سو سے زائد زخمی ہیں لیکن ایک وزیر بھی موقع پر نہ پہنچا ۔

جس رات ٹرین کا حادثہ ہوا اس رات ہم وہی پرانے دوست اکٹھے تھے۔ ارشد شریف‘ خاور گھمن‘ علی اور میں ۔ ساتھ میں دو حکومتی عہدے دار ۔ اب ہم عادی سے ہوگئے ہیں کہ زرداری کی حکومت ہوگی تو ان کے شیدائی گھنٹوں زرداری کی کرامات سنائیں گے۔ نواز شریف کی باری لگے گی تو ان کی ایسی ایسی قابلیت کی کہانیاں سنائیں گے کہ لگے گا پاکستان بنانے کا کریڈٹ بھی انہیں ملنا چاہیے۔ آج کل عمران خان کا دور ہے ‘لہٰذا جو بھی ملتا ہے وہ ہمیں پورے شدو مد سے خان صاحب کی کرامات پر لیکچر دیتا ہے۔ شاید وہ سمجھ لیتے ہیں کہ تین چار ٹی وی اینکرز بیٹھے ہیں‘ لہٰذا انہیں قائل کرنا بہت ضروری ہے۔ پہلے ہم کچھ چڑتے تھے ‘یار یہ کیا مذاق ہے‘ ہم دوست سارا دن کی سیاسی ماردھاڑاور ہنگاموں کے بعد کچھ لمحے رات کو گپ شپ میں بسر کرنا چاہتے ہیں لیکن کیا کریں کوئی نہ کوئی فین ہمیں گھنٹوں خان صاحب کے کرشمے سنانا ضروری سمجھتا ہے۔ ارشد شریف کے بارے میں تو عامر متین نے مشہور کررکھا ہے کہ جب تک کیمرہ آن نہیں ہوگا وہ نہیں بولے گا ۔ وہ گھنٹوں آپ کو پوری توجہ سے چپ چاپ سننے کی صلاحیت رکھتا ہے ‘اگلا سمجھتا ہے اس کی باتوں کا ارشد شریف پر اثر ہورہا ہے‘ یہ اور بات ہے کہ اگلے دن کے شو سے پتہ چلتا ہے کہ وہ سن تو پوری بات رہا تھا لیکن کرنی اس نے اپنی مرضی ہوتی ہے۔ خاور گھمن کبھی کبھار ایک جملہ بول کر چپ رہے گا۔میں نے بھی پوری کوشش کی ارشد شریف اور گھمن سے کچھ سیکھوں اور چپ رہا کروں ‘ جو اگلا کہہ رہا ہے اسے سن لیا جائے۔ کئی دفعہ خود پر غصہ بھی آتا ہے کہ باقی دوستوں کی طرح میں بھی سن لیا کروں لیڈروں کی کرامات اور کرشمے۔

اس دفعہ عمران خان کے ایک دوست محفل میں تھے‘ بہرحال وہ خان صاحب کے بہت سے دوستوں سے اچھے لگے‘ باتیں بھی اچھی کیں ۔ کہنے لگے: بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے کچھ کرنے کی ضرورت ہے‘ وہ پاکستان میں بہت پیسہ بھیجتے ہیں ۔ آپ لوگ ہفتہ یا کم از کم تیس دنوں میں ایک ٹی وی پروگرام تو ان کے مسائل پر کیا کریں۔ میں نے کہا: اچھی تجویز ہے‘ لیکن آپ کو پتہ ہے بیرونِ ملک پاکستانیوں کے مسائل ہیں کیا ؟وہ بولا: میں شرطیہ کہتا ہوں آپ ٹی وی پروگرام کریں‘ نوے فیصد پاکستانی آپ کو دو تین اپنے بڑے مسائل بتائیں گے۔ ان کے مسائل معاشی نہیں ہیں‘ نہ ہی ان کے بچوں کی تعلیم کا کوئی پرابلم ہے۔وہ جانتے ہیں وہ کبھی پاکستان لوٹ سکیں گے نہ ہی ان کے بچے ‘لیکن وہ یہاں ایک عدد پلاٹ یا گھر رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ پیسے یہاں بھیجتے ہیں‘ لیکن پلاٹ میں فراڈ نکل آئے گا یا پھر قبضہ گروپ ان کی جائیداد پر قبضہ کر لے گا۔ کوئی جعلی دستاویزات بنا کر وہ جائیداد چھین لیے گا یا پھر رشتہ دار ہی وہ جائیداد ہتھیا لیں گے۔ ان کی دوسری شکایت کسٹمز اور ائیرپورٹ سے ہے جہاں اترتے ہی سٹاف ان پر شکرے کی طرح جھپٹتا ہے ۔ تیسری شکایت ان کی بیرون ملک سفارت کاروں کے بدترین رویے کے بارے ہے۔

ان مسائل کے حل کے لیے اچھی بیوروکریسی کی ضرورت ہے‘ لیکن کیا کریں بیوروکریٹ بھی وزیر اعظم صاحب نے سیاسی کوٹے پر لگائے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم ہاؤس میں بھی ایسے بیوروکریٹ ہیں جو قابلیت سے زیادہ تعلقات پر لگے ہوئے ہیں۔ پنجاب میں جو چیف سیکرٹری اور آئی جی لگے ہیں ان کے اپنے اپنے تعلقات ہیں۔ جس چیف سیکرٹری کی ریٹائرمنٹ میں چند ماہ رہ گئے تھے اسے وہ اعلیٰ عہدہ دیا گیا ۔ اب آپ بتائیں جو چند ماہ بعد ریٹائر ہورہا ہے اسے پنجاب کی گورننس بہتر کرنے میں کیا دلچسپی ہوسکتی ہے؟ اس کا کیرئیر ختم ہورہا ہے‘ اسے اب آگے کچھ نظر نہیں آتا جس کے لیے وہ محنت یا ڈیلیور کرے ۔ آئی جی پولیس بھی اعلیٰ تعلقات کے حامل ہیں۔ پہلے جس کو چیئرمین ایف بی آر لگایا گیا تھا وہ شہباز شریف کا بڑا قریبی افسر تھا جس سے چھپن کمپنیوں کے سکینڈل میں نیب تفتیش کرچکی تھی ۔ جب اس بارے عمران خان صاحب سے ملاقات میں کسی نے کہا تو خان صاحب نے کہا :وہ بڑا زبردست بندہ ہے۔ وہ دراصل وزیراعظم ہاؤس میں ایک اعلیٰ افسر کا قریبی تھا‘ لہٰذا پوسٹنگ دے دی گئی۔ اب آپ پوچھیں گے ان تینوں افسران کا اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل سے کیا تعلق ہے؟ تعلق یہ ہے کہ اچھی پولیس اور بیوروکریسی ایک آئی جی اور چیف سیکرٹری نے دینی ہوتی ہے۔ انہوں نے ہی ایسا سسٹم بنانا ہے کہ ملک میں ایسی پولیس ہو جوقبضہ گروپس کی محافظ نہ ہو۔ اوورسیرز پاکستانی کی شکایت پر فوراً عمل کرے نہ کہ جائیدادیں ہتھیانے میں مدد گار نکلے ۔ جتنے بھی اوورسیز پاکستانیوں کی جائیدادوں پر قبضے ہوتے ہیں وہ اکثر پولیس کی مدد سے ہوتے ہیں۔ اب پولیس سربراہ ہی جب خود کو جواب دہ نہیں سمجھتا تو پھر نیچے پولیس کیسے تبدیل ہوگی؟ چیئرمین ایف بی آر بھی اگر کسٹمز کے مسائل حل نہیں کرے گا تو شکایتیں کیسے دور ہوں گی؟

اسی طرح پاکستان کا فارن منسٹر اس بندے کو لگایا گیا ہے جو خود لوگوں کو کہتا پھرتا ہے کہ وہ تو وزیرخارجہ نہیں بننا چاہتا تھا ‘لیکن عمران خان نے اسے زبردستی بنا دیا ۔ وہ تو وزیراعلیٰ پنجاب کا امیدوار تھا ۔ پھر سفارت خانے اور سفیر کیسے ٹھیک ہوں گے جب ان کا باس ہی اس جاب میں دلچسپی نہیں رکھتا ؟ عمران خان کیسے شاہ محمود قریشی صاحب کی وزارت کی نالائقیوں پر پوچھ گچھ کرسکتے ہیں؟ پارٹی کے اندر لیڈر کے منہ پر بات کرنے کی جرأت نہیں ‘ سب خوشامدی اکٹھے ہوکر واہ واہ کرتے رہتے ہیں ۔ اس پر ایک دوست بولے: نہیں شیخ رشید وزیراعظم کے منہ پر انہیں باتیں کہہ دیتے ہیں۔آج تاجروں سے ملاقات تھی تو شیخ رشید نے خان صاحب کو منہ پر سنا دیں ۔ میں نے کہا: اندازہ کریں آج ہی صادق آباد میں ٹرینوں کا حادثہ ہوا‘ جس میں بیس سے زائدلوگ مارے گئے اور سو سے زائد زخمی ہیں۔ جس دن شیخ رشید کو حادثے کی جگہ ہونا چاہیے تھا وہ عمران خان کے ساتھ تاجروں کے اجلاس میں بیٹھے تھے۔ جس دن شیخ رشید سے عمران خان کو جواب طلبی کرنی چاہیے تھے اور انسانی جانوں کے نقصان پر وزارت سے برطرف کردینا چاہیے تھا‘ اس دن الٹا شیخ رشید وزیراعظم عمران خان کو سنا رہے تھے۔ یہ وہ طریقۂ واردات ہے جو شیخ رشید جیسے لوگوں نے پاکستانی سیاست سے سیکھا ہے‘ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹ دے۔ میں نے کہا: خان صاحب نے پوچھا نہیں کہ شیخ صاحب آپ تاجروں کے اجلاس میں کیا کررہے ہیں؟ آج آپ کی وزارت میں ٹریجڈی ہوگئی ہے اور آپ سنہری اقوال سنا

رہے ہیں۔ خان صاحب شیخ رشید سے استعفیٰ مانگتے جیسے وہ خود سعد رفیق کا مانگتے تھے۔ وہ بولے کہ خان صاحب کی حکومت صرف چار ووٹوں پر تو کھڑی ہے۔ میں نے کہا :نواز شریف کی حکومت دو تہائی پر کھڑی تھی‘ کہاں ہیں آج کل وہ؟ زرداری سب پر بھاری تھے‘ کدھر ہیں وہ بھی ؟ اسی طرح ایک دن عمران خان صاحب سے بھی یہ اقتدار چھوٹ جائے گا۔ لوگ آپ کے کارنامے‘ اصولی سٹینڈ یا کام یاد رکھتے ہیں نہ یہ کہ آپ نے کیسے منت ترلوں سے حکومت بچا کر رکھی ۔ میں نے کہا: اگر عمران خان اس ٹرین ٹریجڈی پر ایک پریس ریلیز جاری کرتے کہ شیخ رشید کو اس کی نالائقی اور انسانی جانوں کے ضیاع کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے برطرف کردیا گیا ہے تو پورے ملک کو احساس ہونا تھا کوئی تبدیلی آئی ہے۔ وہ بولے: شیخ رشید جینا حرام کردیتے ۔ میں ہنس پڑا اور بولا: خان صاحب زرداری اور شریف سے نہیں ڈرے ‘لیکن ایک سیٹ جو شیخ نے پی ٹی آئی کی مدد سے جیتی اس سے ڈر گئے ۔ کمال ہے ۔ ویسے بھی اگر خان صاحب شیخ رشید کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے بچانے کی بجائے اصول پر برطرف کردیتے تو نہ صرف عوام میں عزت پاتے بلکہ شیخ رشید صاحب کی سیاست بھی دفن ہوجاتی ۔ اس ملک میں بھی کیا کیا تماشے دیکھنے کو ملتے ہیں ‘ جس دن شیخ رشید کو برطرف ہونا چاہیے تھا‘ وہ الٹا عمران خان کو تاجروں کے ساتھ اجلاس میں کھری کھری سنا رہے تھے۔ واہ رے مولا ہماری قسمت۔

Source: dunya news

Must Read Urdu column Ulta Chor KOtwal ko dantay By Rauf Klasra

Leave A Reply

Your email address will not be published.