پاک فوج نے 5سال پہلے ریٹائرہونے والے اہلکاروں کوواپس بلالیا،لیکن کیوں ؟وجہ سامنے آگئی

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ 25 جولائی کو انتخابات اپنے وقت پر ہوں گے اور اگر 2002 کے انتخابات کو نکال دیں تو یہ تیسرے انتخابات ہوں گے جو پاکستان میں جمہوری عمل کو جاری رکھیں گے۔اسلام آباد میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سرحدی صورتحال کے باعث اتنی نفری الیکشن کے لیے تعینات کرنا ممکن نہیں تھا، جس کی وجہ سے سول آرمڈ فورسز، 5 سال قبل ریٹائر ہونے والے فوجی، پاکستان نیوی اور ایئر فورس کے اہلکاروں پر مشتمل دستے بھی سیکیورٹی کے لیے تعینات کیے جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ فوج کے لیے جو حکم جاری ہوتا ہے وہ سب کے لیے ہوتا ہے اور جو حکم جاری ہوا ہے اس کا مطلب یہی ہے کہ ہم نے غیر جانبدار اور غیر سیاسی ہو کر الیکشن کمیشن کی مدد کرنی ہے، الیکشن کے عمل میں کسی قسم کی مداخلت نہیں ہوگی۔پریس بریفنگ کے دوران ان کا کہنا تھا کہ بیلٹ پیپرز کی چھپائی کا عمل جاری ہے، 27 جون سے ملک کے تینوں چھاپہ

خانوں پر فوج سیکیورٹی کے فرائض انجام دے رہی ہے اور ممکنہ طور پر 21 جولائی تک چھپائی کا عمل مکمل ہوجائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ انتخابی مواد کی گتنی الیکشن کمیشن کا کام ہے اور فوج اس عمل میں صرف سیکیورٹی کے لیے موجود ہے جبکہ ان سامان کی ترسیل کے دوران الیکشن کمیشن کے اسٹاف کی موجودگی کے بغیر نہیں ہورہی۔انہوں نے کہا کہ انتخابات میں پولنگ سے 3 دن پہلے سیکیورٹی کے تمام امور مکمل ہو جائیں گے اور ہر پولنگ اسٹیشن پر فوج، رینجرز اور پولیس کے جوان موجود ہوں گے۔میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے پولنگ اسٹیشن کی 2 درجہ بندی کی گئی ہے، حساس پولنگ اسٹیشن میں 2 فوجی اندر اور 2 باہر ہوں گے جبکہ غیر حساس پولنگ اسٹیشن میں فوجی اہلکار کے ساتھ پولیس اور دیگر ادارے بھی موجود ہوں گے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ملک میں 20 ہزار 831 حساس پولنگ اسٹیشن ہیں، پولنگ اسٹیشن کے اندر جوان کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کسی غیر متعلقہ فرد کو اسٹیشن کے اندر نہیں آنے دے۔انہوں نے کہا کہ پولیس کی ذمہ داری پولنگ اسٹیشن کے باہر نظم و ضبط قائم کرنا ہوگا اور کسی کو اجازت نہیں ہوگی کہ وہ ووٹرز

سے زبردستی کرے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ میڈیا سے درخواست ہے کہ جو جوان ڈیوٹی پر ہو اس سے سوالات کرنے سے گریز کیا جائے اور انہیں میڈیا کے ساتھ رابطے میں نہیں لیا جائے۔انہوں نے کہا کہ افواجِ پاکستان اپنے جوانوں کا خیال کرتی ہے اور ان سے محبت کا اظہار یہی ہے کہ ان کی ڈیوٹی کی راہ میں خلل نہ ڈالا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوئی سیاسی جماعت نہیں اور سیاسی وابستگی نہیں، ’میں عوام سے کہنا چاہوں گا کہ جتنی تعداد میں آپ ووٹ ڈالنے آئیں گے اتنے ہی صاف اور شفاف انتخابات ہوں گے۔اس موقع پر مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان میں کونسا ایسا الیکشن تھا، جس سے پہلے یہ نہ کہا گیا ہو کہ انتخابات دھاندلی زدہ ہیں، کوئی ایسے انتخابات بتائیں، جس سے پہلے کسی سیاسی جماعت کے رہنماؤں نے دوسری جماعت میں شمولیت اختیار نہ کی ہو۔ان کا کہنا تھا کہ جب دل اور دماغ کی سرجری کر رہے ہوں تو چھوٹے مسائل پر توجہ نہیں دیتے، افواجِ پاکستان نے 15 سال سے قومی فریضہ انجام دیا اور پاکستان کی بقا کی جنگ لڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے وہ سب کچھ برداشت کیا جو عام حالات میں برداشت نہیں کرسکتے، کچھ

لوگوں کا مقصد ہے کہ افواجِ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ سے دور کرکے عام نوعیت کے مسائل میں گھسیٹا جائے لیکن یہ وقت ایسا ہے کہ پاکستان افواج کی ساری توجہ اہم ملکی معاملات پر مرکوز کی جائے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص سیاسی جماعت تبدیل کرتا ہے تو یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی کال کرے کہ ایسا کردیں تو ایسا ہوجائے گا۔پریس بریفنگ کے دوران انتخابات میں انجینئرنگ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کا یہ سب افواجِ پاکستان پر الزامات ہیں لیکن ہم پھر بھی خاموش ہیں کیونکہ ہمیں پتہ ہے کہ ہم نے کہا جانا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور جمہوریت دشمن عناصر الیکشن سے خوش نہیں لیکن انتخابات اپنی تاریخ پر ہی ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ کوئی جونیئر افسر کسی کو بلا کر کہے کہ انتخابات کا انعقاد اس طریقے سے ہوگا، اس طرح کی چھوٹی باتوں کو اس طرح پیش کرنا کہ دھاندلی ہوگئی، تو ایسا بالکل نہیں ہے۔آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی تصویر کو

انتخابی پوسٹر پر استعمال کرنے پر ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اس معاملے پر نوٹس لیا۔چوہدری نثار اور دیگر رہنماؤں کو جیپ کا نشان الاٹ کرنے پر انہوں نے کہا کہ یہ جیپ ہماری نہیں اور انتخابی نشان الاٹ کرنا افواجِ پاکستان کا کام نہیں، الیکشن کمیشن کا کام ہے، میڈیا ہر چیز کو شک کی نظر سے نہ دیکھے۔ایک اور سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ عوام جسے ووٹ دیتی ہے اسے اس کے مطابق گنا جائے، ہمارا کام صرف معاونت فراہم ہوگا اور ہم سے زیادہ میڈیا صاف شفاف انتخابات کو فروغ دے سکتا ہے۔سائبر حملوں کے معاملے پر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ خطرہ سب کو ہوتا ہے لیکن اس کے تحفظ پر کام کیا جارہا ہے اور اس میں بہتری کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کیپٹن (ر) صفدر کو سول عدالت سے سزا ہوئی ہے جب وقت آئے گا تو آرمی کے رولز کے تحت ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کو ہم کنٹرول نہیں کرسکتے اور کسی سے ڈنڈے کے زور پر کوئی کام نہیں کروا سکتے

لیکن اگر کوئی ایسا کام ہو جو ملک کے خلاف ہو تو اسے نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ سیاسی شخصیات کو خطرہ ہے اور اس سلسلے میں ان کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں اور ان شخصیات کو خود بھی احتیاط کرنی چاہیے۔پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ کس ملک کا پاکستان کے انتخابات میں کتنا مفاد ہے اور ان کے کیا مقاصد ہیں لیکن ہماری کوشش ہے کہ انتخابات صاف و شفاف ہوں۔کالعدم تنظیموں کی الیکشن میں شمولیت سے متعلق انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ الیکشن کمیشن فیصلہ کرے گا

کہ کالعدم تنظیم کے افراد کا جائزہ لے، فوج کا انتخابی امیدوار کی اہلیت سے متعلق کوئی تعلق نہیں ہے۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ بیلٹ پیپرز کی ترسیل کے بعد تک چھاپے خانے پر سیکیورٹی رہے گی اور اگر کوئی بے ضابطگی ہوئی تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ان کہنا تھا کہ ہماری امید ہے کہ ووٹرز گھر سے نکلے اور بلا خوف و خطر ووٹ ڈالے اور ہماری اولین ترجیح یہی ہے کہ ہم اس عمل میں کامیاب ہوں۔خلائی مخلوق کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہم سیاست میں نہیں ہیں اور ہم رب کی مخلوق ہیں اور پاکستان کے عوام کے لیے اپنی جان کا نظرانہ پیش کرکے فرائض انجام دیں گے۔انہوں نے کہا کہ عوام انتخابات میں کسی کو بھی منتخب کریں، ہمارے لیے وہی وزیر اعظم ہوں گے اور فوج کا اس معاملے میں کوئی عمل دخل نہیں ہوگا۔

Source

Leave A Reply

Your email address will not be published.