’ہمیں اب اصلی خواتین کے ساتھ مزہ نہیں آتا کیونکہ۔۔۔‘ وہ ملک جس کے مرد ہاتھ دھو کر جنسی گڑیاﺅں کے پیچھے پڑگئے، حکومت پابندی لگا کر بے بس ہوگئی

ٹیکنالوجی کی ترقی نے انسان کو یہ دن بھی دکھانا تھاکہ اب جیتے جاگتے انسانوں کی جگہ روبوٹ اور مصنوعی گڑیائیں لینے لگی ہیں۔ ایسا صرف صنعت و کاروبار میں ہی نہیں بلکہ رشتوں اور تعلقات میں بھی ہونے لگا ہے۔ جنسی گڑیا کا ظہور اور تیزی سے بڑھتی مقبولیت بھی ایک ایسی ہی افسوسناک واقعہ ہے، جس نے مغربی ممالک کے بعد اب غریب افریقی ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میںلے لیا ہے۔ افریقی ملکی زیمبیا میں تو یہ حال ہوا ہے کہ مرد جیتی جاگتی عورتوں کو چھوڑ کر جنسی گڑیاﺅں کے ایسے دیوانے ہو گئے ہیں کہ گھبرا کر حکومت کو مداخلت کرنا پڑ گئی ہے۔
ڈیلی سٹار کے مطابق زیمبیا میں صورتحال ایسی بگڑ چکی ہے کہ بالآخر حکومت نے جنسی گڑیاﺅں کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کر دی ہے۔ حکومتی حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی شخص کو جنسی گڑیا یا جنسی روبوٹ اپنے پاس رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی اور جس شخص سے ایسی کوئی شے برآمد ہوئی اسے پانچ سال کیلئے جیل بھیجا جائے گا۔
مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ حکومت نے پابندی تو عائد کر دی ہے لیکن کوئی اسے ماننے کوتیار نہیں۔ اینوک چانڈا نامی 27 سالہ نوجوان نے بتایا کہ اس کے پاس ایک سفید فام جنسی گڑیا ہے جسے وہ کسی بھی قیمت پر چھوڑنے کیلئے تیار نہیں۔ اینوک کا کہنا تھا کہ اب حقیقی خواتین اسے لطف نہیں دیتیں کیونکہ اس کی گڑیا حقیقی خواتین سے کہیں زیادہ پرلطف اور رومانٹک ہے۔

غصے سے بپھرے مردوں نے سوشل میڈیا پر حکومتی پابندی کے خلاف آواز اٹھانے کا سلسلہ بھی شروع کررکھا ہے اور متعدد ایسی تصاویر بھی پوسٹ کی جا رہی ہیں جن میں وہ اپنی جنسی گڑیاﺅں کے ساتھ مختلف طریقوں سے اظہار محبت کرتے نظر آتے ہیں۔ حکومتی پابندی کی خلاف ورزیوں کی اطلاعات سامنے آنے پر انسپکٹر جنرل آف پولیس کاکوما کانگاجا نے خبردار کرتے ہوئے کہا ”میں شہریوں کو وارننگ دیتا ہوں کہ وہ قانون کی پابندی کریں اور جنسی گڑیا و جنسی روبوٹ جیسی چیزوں سے دور رہیں ورنہ سخت کارروائی کا سامناکرنا پڑے گا۔“وزیر قومی رہنمائی و مذہبی امور گوڈ فریڈا سومائلی کی جانب سے بھی ایک ایسا ہی بیان جاری کیا گیا جس میں انہوں نے کہا کہ جنسی لذت کے لئے مصنوعی سہاروں کے استعمال پر مکمل پابندی ہے لہٰذا شہری ایسی حرکتوں سے باز رہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.