بچے دو ہی اچھے مگر بات یہ ہے کہ ۔۔۔۔۔ جسٹس ثاقب نثار نے ایسی بات کہہ دی کہ سننے والے چیف جسٹس کی باتوں پر حیران رہ گئے

ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی پر از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا ہے کہ ایک زمانہ تھا جب کہا جاتا تھا کہ بچے دو ہی اچھے، گزشتہ حکومتوں نے آبادی کے معاملے پر کوئی منصوبہ بندی نہیں کی۔منگل کے روز

چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی پر از خود نوٹس کیس کی سماعت کی، سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ملک میں جس طرح آبادی بڑھ رہی ہے یہ آبادی کا اضافہ نہیں بلکہ دھماکہ ہے، ایک زمانے میں کہا جاتا تھا کہ بچے دو ہی اچھے ،حکومت نے اس معاملے پر کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گزشتہ حکومتوں نے آبادی کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل سے ایک ہفتے میں تفصیلی رپورٹ طلب کرتے

ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔دوسری جانب ایک اور خبر کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ اگر قوم کے پیسے واپس نہ لا سکے تو کرسی پر بیٹھنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ منگل کو چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں قرضہ معافی سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ہم قرض معافی سے متعلق تمام 222 مقدمات بینکنگ کورٹس کو بھجوا دیتے ہیں، بینکنگ کورٹس خود جائزہ لیں گی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ بھی ممکن ہے کہ ہم خود کوئی مارک اپ طے کریں

تمام فریقین کو ایک موقع فراہم کرتے ہیں۔دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ قرض معاف کرانے والے 25 فیصد پرنسپل رقم ادا کریں ٗیہ پیشکش قبول نہ کرنے والوں کے مقدمات بینکنگ کورٹس بھجوا دیں گے۔انہوں نے کہا کہ بینکنگ کورٹس کو 6 ہفتوں میں مقدمات کا فیصلہ کرنے کی ہدایت دیں گے ٗاس کے علاوہ 25 فیصد قرض معافی کی رقم سپریم کورٹ کا اکاؤنٹ کھول کر 3 ماہ میں جمع کرانے کا حکم دیں گے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قرض معاف والی رقوم صوابدیدی فنڈز میں نہیں جانیں دیں گے، بریف کیس میں ڈال کر کیش کی صورت میں یہاں لے آئیں۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس قوم نے بڑے قرض اتارنے ہیں ٗہم

نے قوم کے پیسے واپس لانے ہیں، خود نمائی مقصد نہیں ہے۔بعد ازاں عدالت نے کیس سے متعلق سماعت (آج) 27 جون بدھ تک ملتوی کردی۔دوسری طرف سپریم کورٹ نے ماحولیاتی آلودگی سے متعلق کیس میں عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے والی فیکٹریاں سیل کرنے کا حکم دیتے ہوئے دو ہفتے میں پیشرفت رپورٹ طلب کرلی۔ منگل کوسپریم کورٹ میں سیکٹر آئی نائن میں ماحولیاتی آلودگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، ڈی جی ای پی اے نے عدالت میں بتایا کہ ضروری 1997سے کیس چل رہا ہے 7جولائی 2010کو سپریم کورٹ نے اسٹیل ملز سیل کرنے کا حکم دیا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو آج ہی پولیس فراہم کرتے ہیں، سپریم کورٹ نے عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے والی فیکٹریاں سیل کرنے کا حکم دے دیا، چیف جسٹس نے دو ہفتے میں پیشرفت رپورٹ طلب کرلی۔(ش۔ز۔م)

Source

Leave A Reply

Your email address will not be published.