آج کی سب سے بڑی مگر افسوسناک خبر : مجھے افسوس ہے کسی نے میرا ساتھ نہیں دیا ، یہ کلنک ساتھ لے کر جاؤنگا ، اہم کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کے مایوس کن ریمارکس
چیف جسٹس آف پاکستان، جسٹس میاں ثاقب نثار ایک کیس کی سماعت کے دوران جذباتی ہوگئے، انہوں نے کہا کہ بہت کچھ میرے دل و دماغ میں ہے میں کچھ کرنا چاہتا ہوں مگر لگتا ہے کچھ کلنک میں ساتھ لیکر جائوں گا کہ میں کچھ نہیں کرسکا،
میں چاہتا ہوں پارلیمنٹ اور عدلیہ میں دوریاں ختم ہوں سب مل کر چلیں۔ قوانین میں اصلاحات سے متعلق کیس میں چیف جسٹس نے مزید کہا کہ میں نے تعاون کے لیئے ہر ایک کو کہا بابر ستار ایڈووکیٹ سمیت دیگر وکلاء کے پاس خود گیا مگر کسی نے تعاون نہ کیا، انہوں پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین کامران مرتضیٰ کو روسٹرم پر بلا کرکہا کہ بتائیں کیا میں آپ کے پاس نہیں گیا؟ آپ بڑے وکیل ہیں بار کے عہدیدار ہیں بڑے بڑے کیس لیتے ہیں شام کو ٹی وی پر نظر آتے ہیں
مگر آپ نے بھی کوئی مدد نہیں کی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میرے بارے کہا جاتا ہے کہ میں عدالت میں اونچی آواز میں بولتا ہوں، جتنا کام مجھے کرنا پڑتا ہے کسی اور کو کرنا پڑے تو اسے پتہ چلے، اتنے زیادہ کام کے بوجھ سے میں تنگ ہو ہی جاتا ہوں، میں چاہتا تھا ایک فورم بناکر قوانین میں اصلاحات پر بحث ہوتی مگر مجھے لگتا ہے میں کچھ کلنک ساتھ لیکر جائوں گا کہ میں چاہنے کے باوجودکچھ نہیں کرسکا۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات حکومت کی کمائی کا ذریعہ بن گئی ہیں۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی۔ اٹارنی جنرل، ایم ڈی پی ایس او اور چیئرپرسن اوگرا عدالت میں پیش ہوئے۔چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ قیمتوں میں اضافے اور کمی کا فارمولا کیا ہے؟، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں حکومت کے پیسہ کمانے کے لیے ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ خام تیل کی درآمد اور ریفائنری تک پہنچنے تک کیا قیمتیں ہیں؟۔اٹارنی جنرل نے بتایا
کہ خام تیل 5 ریفائنریاں درآمد کرتی ہیں، این آر این اور پاکستان ریفائنری کراچی میں ہیں، بائیکو حب بلوچستان میں، پارکو مظفرگڑھ اور اٹک ریفائنری راولپنڈی میں ہے، تین ریفائنریوں کی 15 فیصد مقامی پیداوار ہے اور 85 فیصد درآمد کرتی ہیں۔ ایم ڈی پی ایس او نے بتایا کہ 22 کمپنیاں ہیں جو پٹرول درآمد کرتی ہیں، سعودی عرب سے پہلے ادھار تیل ملتا تھا اب نہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مڈل مین دونوں اطراف سے منافع اور کمیشن لیتا ہے، اسے رکھا ہی اس لیے جاتا ہے
تاکہ مارجن رکھیں، ہمیں باہر سے سستا پٹرول اور خام تیل چاہیے۔چیف جسٹس نے ایم ڈی پی ایس او سے پوچھا کہ آپ کا آئل سیکٹر میں کتنا تجربہ ہے؟، جس پر انہوں نے جواب دیا کہ توانائی شعبے میں 3سال کا تجربہ ہے، نجی کمپنی اینگرو میں کام کیا ہے، 37 لاکھ روپے تنخواہ کا پیکج ہے۔(ف،م)