’میرے سامنے ایف آئی اے والوں نے میرے کزن کی پتلون اتاری اور مجھے مجبور کیا کہ۔۔۔‘بلڈنگ کی چوتھی منزل سے چھلانگ لگانے والے نے غیر اخلاقی ترین بات کہہ دی

گزشتہ دنوں ایف آئی اے کی زیرحراست ایک لڑکے نے ایف آئی اے کی عمارت سے چھلانگ لگا کر خودکشی کی کوشش کی تھی جو اس وقت لاہور کے میو ہسپتال میں زیرعلاج ہے۔ اب اس سے اپنے اقدام خودکشی کی ایسی غیر اخلاقی ترین وجہ بتا دی ہے کہ سن کر ہر پاکستانی شرمندہ ہو جائے گا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے نے ساجد مسیح اور اس کے 21سالہ کزن پطرس مسیح کو توہین مذہب کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ ساجد مسیح نے بتایا ہے کہ ”دوران تفتیش ایف آئی اے والوں نے میرے سامنے میرے کزن کو ننگا کر دیا اور مجھے مجبور کیا کہ میں منہ سے اس کے ساتھ غیر اخلاقی حرکت کروں۔ اس پر میں نے کھڑکی سے چھلانگ لگا دی۔“

رپورٹ کے مطابق 19فروری کو ایک ہجوم لاہور کے نواح میں واقع ایک مسیحی بستی میں داخل ہوا جس کا کہنا تھا کہ پطرس نے ان کے مذہب کی توہین کی ہے۔ پطرس ان کے ہاتھ نہ لگ سکا جس پر اس کی جان بچ گئی لیکن اس پر ایف آئی اے حرکت میں آئی اور ان دونوں نوجوان کو گرفتار کر لیا گیا۔ میو ہسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ”ساجد مسیح کی حالت اس وقت بھی انتہائی تشویشناک ہے، اس کی دونوں ٹانگیں ٹوٹی ہوئی ہیں، ایک آنکھ اندر دھنس گئی ہے اور دوسری پر شدید زخم آیا ہے۔ اس کا سر بھی کئی جگہ سے پھٹا ہوا ہے۔اس کے کئی آپریشن کرنے پڑیں گے لیکن اس کی حالت اتنی تشویشناک ہے کہ فی الحال اس کا آپریشن نہیں کیا جا سکتا۔“ رپورٹ کے مطابق اس وقت ساجد مسیح کے تحفظ کے لیے میو ہسپتال میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔

Source

Leave A Reply

Your email address will not be published.