عمران خان نے وفاق میں حکومت بنانے کے لیے نمبر گیم پوری کر بھی لی تو انکے سامنے بڑی رکاوٹ کیا ہو گی ؟ ناقابل یقین خبر
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان مرکز کے ساتھ پنجاب میں بھی حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے ۔ ان کے حواریوں جہانگیر ترین اور چوہدری برادران کی کو ششیں رنگ لے آئیں گی لیکن اقتدا ر میں عمران خان کی نیندیں حرام رہنے کے امکانات زیادہ ہیں ۔
نامور تجزیہ کار ناصر نقوی اپنے ایک تجزیہ میں لکھتے ہیں ۔۔۔ ان تجزیاتی سطور میں کافی عرصہ قبل اپنی جمع تفریق میں مخلوط حکومت کا دعویٰ کیا تھا الحمد اللہ 2018 کے الیکشن میں نتائج نے میرے اندازوں پر مہر ثبت کر دی ہے تاہم حسب سابق جمہوری روایات میں دھاندلی کو نئے پاکستان میں دھاندلا قرار دیا جا رہا ہے ۔ مسلم لیگ ن اب احتجاجی ہے اور سیاسی بساط الٹ چکی ہے ۔ جلد بازی میں بلائی گئی اے پی سی بھی گلے پڑ گئی ہے ۔ کیونکہ تمام جماعتیں پارلیمنٹ کے اندر جمہوری معرکہ آرائی کرنے کی پابند ہیں ۔ لیکن نتائج
نے مولانا فضل الرحمان کو اس قدر مایوس کیا تھا کہ انہوں نے اپنے ساتھیوں کو پارلیمنٹ میں جانے کا مشورہ دیا اور سیاسی طور پر مزید تنہا ہو گئے ۔ تاہم تجزبہ کار سیاستدانوں نے انہیں منا کر موقف تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا ۔ پاکستان پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ن کے پانچ پانچ سال ادوار کے خاتمے کے بعد تحریک انصاف کی حکومت تیسرے دور میں داخل ہو گئی ہے ، حالات سے واضح ہے کہ،
تیسرا جمہوری ہنگامہ خیز ثابت ہو گا ۔ اس لیے کہ الیکشن کمیشن کو صاف اور شفاف پالیسی کے باوجود آر ٹی ایس اور ایم ٹی ایس سسٹم نے خچر کی طرح بیٹھ کر بد اعتمادی پیدا کی جبکہ بعد میں کراچی کے کچرہ سے نشان شدہ بیلٹ پیپرز نے کئی سوالا ت کھڑے کر دیئے ہیں ۔ تحریک انصاف کے فنانسر جہانگیر ترین اورچوہدری برادران آزاد امیدواروں کو جہاز میں پکڑ کر عمران خان کی جھوٹی محبت میں
مبتلا کرنے کی کوششوں میں جُٹے ہیں ۔ اور در پردہ بوریاں بھی لوٹائی جا رہی ہیں ۔ لیکن عمران خان کا اصل امتحان پہلے سو دن ہو گا جس میں معجزے دکھانے کے وعدے کیے گئے ہیں ۔ پی ٹی آئی کو پاپڑ بیلنے پڑیں گے کیونکہ اپوزیشن زیادہ مضبوط ہو گی ۔ اور صاحب اقتدار کو اپنے وعدوں کے مطابق عہدے بانٹنے ہوگے۔ اگر عمران خان نے اپنی شخصیت میں لچک ظاہر نہ کی تو معاملات حد سے بگڑ سکتے ہیں ۔ اور ایک دفعہ بھر منتخب حکومت کو رخصتی برداشت کرنا پڑے گی ۔ (س)