’’ لگتا ہے عمران خان کی لو میرج نہیں بلکہ ۔۔۔۔۔۔‘‘ خورشید شاہ نے ایسی بات کہہ دی کہ ہر کوئی حیران رہ گیا

پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کو جتوانے کے لیے ایک پنکچر نہیں بلکہ فل پنکچر لگائے گئے ہیں۔ایک بیان میں پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ کاکہنا تھا کہ الیکشن کا نتیجہ دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ عمران خان کی ارینج میرج

ہوئی ہے، عمران خان کو جتوانے کے لیے ایک پنکچر نہیں بلکہ فل پنکچر لگائے گئے ہیں اور یہ پنکچر عمران خان کے تمام حلقوں میں لگائے گئے۔خورشید شاہ نے کہا کہ الیکشن کا پوسٹ مارٹم کرنا ہے تو صرف چند حلقے کھول لیں، یوسف رضا گیلانی، رسول بخش چانڈیو، فیصل صالح حیات، اعجاز جاکھرانی اور سعد رفیق کے حلقوں میں پنکچر لگائے گئے، یہ حلقے مثال کے طور پر دیے ہیں جب کہ عمران

خان کو جتوانے کے لیے 35 سے زائد حلقوں میں جھرلو پھیرا گیا۔دوسری جانب گورنر سندھ محمد زبیر نے ملک میں ہونے والے عام انتخابات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی شک نہیں کہ ایک خاص پارٹی کو جتوانے کے لیے الیکشن کرائے گئے۔کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محمد زبیر کا کہنا تھا کہ اپنی زندگی میں ایسے الیکشن نہیں دیکھے کہ 4 دن ہو گئے ہیں لیکن اب تک الیکشن کی گنتی پوری نہیں ہو رہی۔محمد زبیر نے الزام عائد کیا کہ پشارو سے کراچی تک کاؤنٹگ کو مینج نہیں کیا گیا، موبائل فون کی اجازت نہیں تھی مگر ویڈیو کلپ سامنے آئے، الیکشن کمیشن کو ان ویڈیو کلپس کو دیکھنا چاہیے تھا۔گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ انتخابات

پر شدید تحفظات ہیں جنہیں سامنے لانا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو پورا سسٹم بتایا گیا تھا جس پر سب نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ایک پارٹی کو الیکشن جتوانے کے لئے مینج کیے گئے اور الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کرانے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔گورنر سندھ نے کہا کہ صبح 6 بجے الیکشن کمیشن کے نمائندہ نے آکر بتایا کہ سسٹم بیٹھ گیا، اتنا لیٹ آکر سسٹم کی خرابی کی بات کی گئی، رات ڈیڑھ بجے شدید تحفظات کے بعد یہ بیان دیا گیا، بتایا جائے آر ٹی ایس سسٹم بیٹھ گیا یا بٹھایا گیا؟ان کا کہنا تھا

کہ اب بھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ری کاؤنٹنگ ہوگی یا نہیں، مری اور مانسہرہ میں دو لوگ مر گئے مگر میڈیا کور نہیں کر رہا، اس سے کہیں زیادہ آزاد میڈیا تو مشرف کے دور میں تھا۔محمد زبیر نے کہا کہ فیصل واوڈا اور سعد رفیق کا حلقہ مختلف نمائندوں کے سامنے کھولا جائے، 4 سال پہلے عمران خان نے مسلم لیگ ن کے خلاف دھرنا دیا، عمران خان کو آگے آکر خواجہ سعد رفیق کا حلقہ کھولنے کی حمایت کرنی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کہتے ہیں روشنیاں بحال کریں گے، ہم نے روشیاں بحال کیں، امن اس لیے ہے کہ ہم نے رینجرز کو پارلیمنٹ کے ذریعے اختیارات دیے۔(ذ،ک)

Source

Leave A Reply

Your email address will not be published.