وزرائے اعلیٰ کا انتخاب : بنی گالہ میں دو دن سے کیا ہورہا ہے ؟ عمران خان کو صلاح مشورے کون دے رہا ہے ؟ آنکھوں دیکھا احوال سامنے آ گیا
آج کل جو تواتر کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف کے مختلف اراکین کا نام پنجاب اور خیبر پختونخوا کے متوقع وزرائے اعلیٰ کے لئے سامنے ا رہے ہیں ایسا لگتا ہے لگتا ہے آخر میں عمران خان ہی باقی رہ جائیں کے وہ بھی اس لیے کہ
وہ خود وزیر اعظم کے امیدوار ہیں۔ رہی سہی کسر وفاقی کابینہ اور گورنر کے متوقع امیداوروں نے نکال دی۔یقیناً اگر خواہشار گھوڑے ہوتیں تو الیکشن سے لیکر آج تک عمران خان کے پاس پر محاز پر لڑائی لڑنے کے لیے گھڑ سوار وں کی ایک فوج ظفر موج تیار ہو چکی ہوتی، صوبائی اور قومی اسمبلی کا ہر دوسرا منتخب رکن میڈیا میں اپنا نام مختلف عہدوں کے لیے پوری شدو مد سے چلوا رہا ہے۔ فواد چوہدری ہوں ، شاہ فرمان ہوں ،علیم خان، شاہ محمود قریشی ہوں، پرویز خٹک، عاطف خان ، شاہ فرمان ہوں یا پھر
اسد قیصر، ہر کوئی میڈیا میں اپنے لیے پھر پورلابنگ کر رہا ہے، یہ ہی نہیں وزارت اعلیٰ کے خواہشند پارٹی کے اند ر بھی اپنے اراکین کو یہ یقین دہانی کرا رہے ہیں کہ ان کی عمران خان سے بات چیت ہو چکی ہے آگر آپ سے رائے لی جائے کہ آپ کسے اپنے صوبے کے
وزیر اعلی کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں تو ان کا نام لیا جائے۔معبر ذرائع کے مطابق جب یہ ساری کہانیاں عمران خان تک پہنچیں تو انہوں نے کم از کم رو ایسے مضبوط امیدواروں کو بلا کر ان کی طبیعت صاف کی جو اس طرح کو کوششوں میں مصروف تھے۔ ذرائع کے مطابق ا یک اور سینئر ہارٹی رہنما کو بھی اسی طرح کی صوتحال سے کا سامنا کرتے ہوئے ہزیمت اٹھانا پڑی اب آتے ہیں بنی گالہ لہ جانب کہ وہاں در حقیقت کیا ہو رہا ہے؟۔