چیف جسٹس یہ کام کریں ورنہ ہم عدالتوں کا بائیکاٹ اور ہڑتالیں کریں گے، معروف وکیل رہنما نے سنگین ترین دھمکی دے دی
سینئر وکیل رہنماءمحمود الحسن نے دعویٰ کیاہے کہ عدلیہ تباہی کی جانب بڑھ رہی ہے، چیف جسٹس پہلے اپنا گھر دیکھیں، عدلیہ نے اپنا گھر نہ سدھارا تو انتہائی اقدامات کی جانب بڑھیں گے، ہم عدالتوں میں بائیکاٹ، ہڑتالیں اور جنرل باڈی اجلاس کریں گے۔
تفصیلات کے مطابق محمود الحسن کاکہناتھا کہ بدقسمتی سے عدلیہ پر اداروں کا دباو¿ نظر آرہا ہے، اسلام آباد دھرنے میں ایک ادارے کا کردار رہا، جسٹس شوکت صدیقی نے دھرنے پر تحفظات کا اظہار کیا، جسٹس شوکت عزیز کے الزامات میں کچھ نہ کچھ حقیقت ہے،جسٹس قاضی
فائزعیسیٰ کے 11 نکات پر بھی بات ہونی چاہیئے، سیاستدانوں پر اتوار اور چھٹی کے دن عدالت چلتی ہے، چیف جسٹس نے ناکامی کی بات کی، عدلیہ پہلے اپنے گھر کو دیکھے۔ انہوں نے کہاکہ عدلیہ اور ججوں کا کام انتخابات کروانا نہیں، ججوں کو ریٹرنگ افسران نہیں ہونا چاہیے، عدلیہ ایسا کوئی کام نہ کرے جس سے وقار میں توقیر ہو، ڈیمز بنانا حکومتوں کا کام ہے۔
محمودا لحسن کے ساتھ موجود وائس چیئرمین سندھ بار کونسل صلاح الدین گنڈاپور نے کہاہے کہ سب سے بڑی تشویش ہے کہ فیصلے ان ادارے کے کہنے پر کئے گئے، عدالتوں کو سیاسی مقدمات میں شامل نہیں ہونا چاہیے،اگر عدلیہ آزاد نہیں ہوگی تو نظام عدل سے اعتماد اٹھ جائے گا،ادارے آئینی حدود میں رہیں، ججز ایسے ریمارکس سے گریز کریں جن سے مسائل پیدا ہوں، جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا بیان نظر انداز نہ کیا جائے اور آزاد تحقیقات ہونی چاہیں۔