عمران خان کا بھارتی پائلٹ کی رہائی کا اعلان۔۔۔۔ نوجوت سنگھ سدھو نے ایسی بات کہہ دی کہ پورا بھارت حیران رہ گیا
بھارت کے مشہور سابق کرکٹر اور سیاستدان نوجوت سنگھ سدھو نے وزیر اعظم پاکستان کی طرف سے انڈین پائلٹ کی رہائی کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کا خیر سگالی کا اقدام ایک ارب لوگوں کی خوشی کا سبب بنا ہے،ہر بہترین عمل لوگوں
کے دلوں میں اپنا راستہ خود بناتا ہے۔وزیر اعظم عمران خان کے قریبی دوست سمجھے جانے والے ہندوستان کے مشہور سابق کرکٹر اور موجودہ سیاستدان نوجوت سنگھ سدھو نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر اپنے ایک ٹویٹ میں پاکستان کی زیر حراست بھارتی پائلٹ ابھی نندن کی رہائی کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کا خیر سگالی کا اقدام ایک ارب لوگوں کی خوشی کا سبب بنا ہے، پاکستان کے وزیرِ اعظم کے اعلان سے پوری قوم میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے،ہر بہترین عمل لوگوں کے دلوں میں اپنا راستہ خود بناتا ہے، میں بھارتی پارئلٹ کے والدین اور چاہنے والوں کی خوشی محسوس کر سکتا ہوں۔یاد رہے کہ وزیر اعظم کے
بھارتی پائلٹ کو رہا کرنے کے اعلان پر دنیا بھر سمیت بھارت میں بھی سراہا جا رہا ہے ،معروف ہندوستانی صحافی برکھا دت نے بھی ابھی نندن کی رہائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا ہے جبکہ ادتیا مینن ،اجے شکلا ،دیویا گھائل،کرشن پرتیپ سنگھ ،راجدیپ سردیدسی سمیت بھارت کے مشہور صحافیوں ،دانشوروں اور ادیبوں نے وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے بھارتی پائلٹ کی رہائی کو دونوں ملکوں کے لئے خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے بھارت پر اخلاقی فتح حاصل کر لی ہے ۔ واضح رہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 26 جولائی کو جب میں وزیراعظم نہیں بنا تھا تب بھی میں نے یہ بیان دیا تھا کہ ہندوستان ایک قدم ہماری جانب
بڑھائے پاکستان 2 قدم بڑھائے گا۔وزیراعظم نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومت کا پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں پوری قوم اکٹھی ہے، مشکل وقت میں اکٹھے ہونے پر اپوزیشن کا شکر یہ ادا کرتا ہوں۔عمران خان نے کہا کہ برصغیر میں دنیا کے سب سے زیادہ غریب لوگ رہتے ہیں، برصغیر کے آگے بڑھنے کے لیے امن ضروری ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھا تھا کہ اقوام متحدہ میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کو ملنا چاہیے لیکن ہمیں بھارت سے اچھا جواب نہیں ملا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں محسوس ہوا کہ جواب اس لیے اچھا نہیں ملا کیونکہ بھارت میں انتخابات نزدیک ہیں اور ان کی انتخابی مہم میں پاکستان سے اچھے تعلقات بنانا شامل نہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے سوچا کہ بھارت میں انتخابات کے بعد بات چیت آگے بڑھائیں گے، جس کے بعد ایک اور موقع ملا اور ہم نےکرتار پور بارڈر کھول دیا۔انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش تھی مذاکرات کریں لیکن بھارت کی جانب سے جس طرح کے بیانات
آرہے تھے ہم نے انتخابات تک انتظار کا سوچا لیکن ہمیں خوف تھا کہ الیکشن سے قبل کوئی نہ کوئی حادثہ، جس کو استعمال کیا جائے گا، پیش نہ آئے اور اتنے میں پلوامہ حملہ ہوگیا۔ عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ 17 سال جنگ کرنے کے بعد امریکی فوج ٹیبل ٹاک پرآمادہ ہو چکی ہے اگر 17 سال جنگ کے بعد امریکہ کو کچھ حاصل نہیں ہوا تو ہم کیا حاصل کر لیں گے اس لیے میں بھارت سے کہتا ہوں کہ آئیں بات چیت کریں کیونکہ اس کے زریعے ہی ہم دونوں ممالک میں غربت کو ختم کر سکتے ہیں ، لیکن ہماری یہ بات چیت کرنے کی امن کرنے کی بات ہے اس کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے ٹیپو سلطان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا جب ٹیپو سطا ن کو آپشن دی گئی کہ مر جاؤ یا غلامی کرو تو اس نے غلامی کو ترجیح دی اس قوم کا ہیرو ٹیپو سلطان ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے اپنے خطاب کے آخر میں اعلان کیا کہ مین امن کو موقع دیتے ہوئے پاکستان کی حراست میں موجود بھارتی پائلٹ کو رہا کرنے کا اعلان کرتا ہوں ۔