قبر کے اندر سے تابوت کھٹکھٹانے کی آوازیں، جب پولیس بلائی گئی تو کیا نکلا ؟ کل پیش آنے والے ایک پراسرار واقعہ کا احوال ملاحظہ کیجیے

جرمن صوبے زارلینڈ میں اس اطلاع پر کہ ایک قبر کے اندر سے تابوت کھٹکھٹانے کی آوازیں آ رہی تھیں، مقامی پولیس اور فائر بریگیڈ کو بلا لیا گیا۔ پولیس کو اطلاع دینے والے شہری کا خیال تھا کہ وہاں کسی کو زندہ دفنا دیا گیا تھا۔جرمنی کا بہت تھوڑی

آبادی والا اور چھوٹا سا جنوب مغربی صوبہ زارلینڈ فرانس کے ساتھ سرحد پر واقع ہے۔ زارلینڈ کے صوبائی دارالحکومت زاربروکن سے پیر تیس جولائی کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق اس وفاقی صوبے میں لوزہائم کے مقام پر ایک 56 سالہ شخص نے اتوار انتیس جولائی کو بڑی پریشانی کے عالم میں مقامی پولیس کو فون کیا۔اس شخص نے ایمرجنسی نمبر پر کال کر کے پولیس کو بتایا کہ اس نے لوزہائم کے قبرستان میں، جہاں وہ اپنے ایک عزیز کی قبر پر گیا ہوا تھا، ایک قبر کے اندر سے ایسی آوازیں سنی تھیں، جیسے

قبر میں دفن کردہ تابوت کو اندر سے کھٹکھٹایا جا رہا ہو۔ اس شہری نے پولیس کو بتایا کہ ممکن ہے کہ اس قبر میں کسی ایسے انسان کو دفنا دیا گیا ہو، جو ابھی تک زندہ ہو۔اس اطلاع کے بعد مقامی پولیس اہلکار اپنی دو گاڑیوں میں اور فائر بریگیڈ کی ایک ایمبولینس کے ساتھ فوراﹰ ہی موقع پر پہنچ گئے۔ ان پولیس اہلکاروں اور ہنگامی امدادی کارکنوں نے پہلے اس قبر کا باہر سے مشاہدہ کیا، جس کی نشاندہی پولیس کو فون کرنے والے شہری نے کی تھی۔ پھر اس قبرستان میں دیگر تمام قبروں کا بھی اچھی طرح جائزہ لیا گیا

تاکہ یہ پتہ چلایا جا سکے کہ اگر کسی قبر سے ’تابوت کھٹکھٹانے کی‘ آوازیں آ رہی تھیں، تو وہ کون سی قبر ہو سکتی تھی۔کچھ ہی دیر بعد جب پولیس اور فائر بریگیڈ کے اہلکار اس قبرستان کی تمام قبروں کا بیرونی جائزہ لے چکے، تو نتیجہ یہ اخذ کیا گیا کہ سننے والے کو شاید دھوکا ہوا تھا یا پھر محض غلط فہمی کہ ایک قبر کے اندر سے تابوت کھٹکھٹانے کی آوازیں آ رہی تھی۔متعلقہ شہری لیکن کافی دیر تک پولیس کی موجودگی میں قبرستان میں موجود رہا اور یہ اصرار کرتا رہا کہ اس نے یہ آوازیں خود اپنے کانوں سے سنی تھیں۔دوسری طرف پولیس کا کہنا تھا کہ لوزہائم کے قبرستان میں تمام قبریں اپنی اصلی حالت میں تھیں، کہیں کسی توڑ پھوڑ کے نشانات نہیں تھے اور بالکل تازہ قبر بھی کوئی نہیں تھی۔ اس کے علاوہ جس قبر سے اس 56 سالہ مقامی شہری نے آوازیں سننے کا دعویٰ کیا تھا، وہاں جو خاتون دفن کی گئی تھی، اسے مرے ہوئے بھی مدت ہو چکی تھی۔اس واقعے کے بارے میں فائر بریگیڈ کے ایک کارکن نے کہا، ’’مردے اپنے تابوت پر اندر سے دستک نہیں دیتے۔ وہ تو ابدی نیند سوئے ہوتے ہیں۔ اپنی موت کے برسوں بعد

کوئی مردہ اپنا ہی تابوت کھٹکھٹانے لگے، ایسا تو آج تک ہوا نہیں۔‘‘جرمنی میں مردوں کی تدفین بھی ایک منافع بخش کاروبار:زندگی اور موت ابتدائے حیات سے ہی ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ کسی انسان کی موت کے بعد اس کی آخری رسومات کی ادائیگی ہمیشہ ہی سے ایک پیشہ بھی رہی ہے۔ جرمنی میں اس وقت مردوں کی تدفین کرنے والے چار ہزار سے زائد ادارے کام کر رہے ہیں، جن کے اشتہارات اب انٹرنیٹ پر بھی نظر آتے ہیں، کیونکہ یہ ایک منافع بخش کاروبار ہے۔اسٹیفن ہاکنگ آئزک نیوٹن کے پہلو میں دفن ہوں گے:مشہور سائنس دان

اسٹیفن ہاکنگ کو لندن کے ویسٹ منسٹر ایبے نامی مشہور میوزیم کے احاطے میں آئزک نیوٹن کی قبر کے پہلو میں دفن کیا جا رہا ہے۔ اسٹیفن ہاکنگ کے علاوہ اس قبرستان میں دیگر ’قومی ہیروز‘ بھی دفن ہیں۔مصر، فرعون کے دور کا ایک اہم قبرستان دریافت:مصر کے جنوبی علاقے میں ایک قدیمی قبرستان کی باقیات برآمد ہوئی ہیں۔ فیڈل کاسترو کی راکھ سپرد خاک کر دی گئی:کیوبا کے انقلابی رہنما فیڈل کاسترو کی راکھ کو اتوار کے دن سانتیاگو دے کیوبا کے ایک قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق ان کی آخری رسومات کی اس حتمی تقریب میں چیدہ چیدہ شخصیات نے شرکت کی۔جرمنی میں مردوں کی تدفین بھی ایک منافع بخش کاروبار:جرمنی میں مردوں کی تدفین کرنے والے چار ہزار سے زائد ادارے کام کر رہے ہیں، جن کے اشتہارات اب انٹرنیٹ پر بھی نظر آتے ہیں۔ (ش۔ز۔م)

Source

Leave A Reply

Your email address will not be published.