ٹوائلٹ جانے کی ضرورت محسوس ہو تو کتنی دیر روک کر رکھنا چاہیے؟ سائنسدانوں نے واضح الفاظ میں معمہ حل کر دیا
انسان کو ٹوائلٹ جانے کی ضرورت محسوس ہو تو کتنی دیر تک اسے روکے رکھا جاسکتا ہے؟ اس سوال کا کوئی حتمی جواب موجود نہیں تھا تاہم نہ صرف اب سائنسدانوں نے اس سوال کا جواب دے دیا ہے بلکہ اسی حوالے سے دیگر کئی فرضی باتوں کی بھی قلعی کھول دی ہے۔ دی مرر کے مطابق سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ ’’بول و براز کو زیادہ دیر تک روکے رکھنا بہتر نہیں ہوتا۔ اکثر پیشاب روکے رکھنے سے انسان کو قبض کا مرض لاحق ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مثانے اور پیشاب کی نالی کے انفیکشن کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔‘‘
عام طور پر کہا جاتا ہے کہ ٹوائلٹ میں انسان کو زیادہ وقت بیٹھنا چاہیے تاکہ اچھی طرح رفع حاجت ہو سکے۔ تاہم اس حوالے سے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ٹوائلٹ میں زیادہ دیر بیٹھنا بھی مناسب نہیں ہوتا۔ اس سے انسان کے اعضاء پر دباؤ پڑتا ہے اور اسے پیٹ درد کی شکایت ہو سکتی ہے۔آدمی کو رفع حاجت میں محض 12سیکنڈ لگتے ہیں، چنانچہ زیادہ دیر تک ٹوائلٹ میں بیٹھ کر اپنی ٹانگیں سُن کرانے کا کوئی فائدہ نہیں۔
پاخانے کی رنگت کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کا رنگ بھورا ہونا چاہیے کیونکہ یہ صحت مندی کی علامت ہوتا ہے لیکن سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس کی رنگت زردی مائل بھورے سے گہرے چاکلیٹی رنگ کے درمیان کسی بھی شیڈ کی ہو سکتی ہے اور یہ تمام رنگ صحت مندی کی علامت ہی ہوتے ہیں۔تاہم اگر پاخانہ بہت زیادہ ہلکے رنگ کا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کا جگر مناسب مقدار میں صفرا پیدا نہیں کر رہا۔ ایسی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
بدبودار پاخانے کو بیماری کی علامت سمجھا جاتا ہے تاہم سائنسدانوں کے مطابق یہ بالکل نارمل چیز ہے۔ اگر پاخانہ بدبودار ہے تو اس کا مطلب ہے کہ مقعد اور اس کی انتڑیوں کو کسی طرح کے برے بیکٹیریا، فائبر، مردہ خلیوں یا زہریلے مادوں کو جسم سے خارج کرنے میں سخت محنت کرنی پڑرہی ہے۔ پاخانے کی بدبو انسان کی خوارک کے لحاظ سے مختلف ہوسکتی ہے۔
بول و براز کے متعلق ایک فرضی بات یہ بھی کہی جاتی ہے کہ صحت مند لوگ دن میں صرف ایک بار ٹوائلٹ جاتے ہیں۔تاہم سائنسدانوں کے مطابق پاخانے کا کوئی بھی معمول صحت مندانہ ہوتا ہے جب تک وہ انسان کے معیار زندگی کو متاثر نہ کرے اور اس کی وجہ خوراک کا بگاڑ نہ ہو۔ ہر پانچ میں سے ایک شخص دن میں دو بار ٹوائلٹ جاتا ہے اور ضروری نہیں کہ یہ شخص بیمار ہو۔ جو پاخانہ صحت مندی کی علامت ہوتا ہے وہ مسلسل آتا ہے، اس میں مناسب نمی ہوتی ہے اور اس میں دراڑیں نہیں ہوتیں۔ اگر پاخانے میں مکئی کے دانے اور گاجر کے ریشے نظر آئیں تو اس پر پریشان نہیں ہونا چاہیے کہ ایسی چیزیں ہمارا جسم ہضم نہیں کر پاتا، چنانچہ ان کا پاخانے میں آنا معمول کی بات ہے۔