Browsing Category

Javed Chaudhry

You can read latest columns of Javed Chaudhry on this page. Urdu columns of Javed Chaudhry are updated on daily bases with latest views and words on different aspects of the world including political and country’s situation.

تعلیم مکمل کلب – جاوید چوہدری

Javed Chaudhry
قاسم علی شاہ سے میری پہلی ملاقات 2010 میں ہوئی‘ یہ اس وقت لاہور کے ایک چھوٹے سے محلے میں اکیڈمی چلا رہے تھے‘ یہ پروفیسر ارشد جاوید کے ساتھ تشریف لائے‘ گپ شپ ہوئی اور میری ان سے دوستی ہو گئی‘ میں ان کی اکیڈمی بھی گیا۔ یہ چھوٹے سے…

جرمن شرمندگی – جاوید چوہدری

Javed Chaudhry
میں نے عرض کیا ’’میرا آپ سے صرف ایک سوال ہے؟‘‘ وہ ہنسا اور میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا ’’میں جانتا ہوں آپ مجھ سے کیا پوچھیں گے؟‘‘ میں بھی ہنس پڑا‘ وہ بولا ’’ہم جرمن دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں ہم سے صرف ایک ہی سوال پوچھا…

دنیا کا آٹھواں عجوبہ – جاوید چوہدری

Javed Chaudhry
کمبوڈیا کا اہم ترین سیاحتی مقام اینکور واٹ (Angkor Wat) کے مندر ہیں‘ یہ مندر سیم ریپ (Seim Reap) شہر میں ہیں اور سیم ریپ پونوم پین سے چھ گھنٹے کی ڈرائیو پر ملک کے وسط میں واقع ہے‘ سیم ریپ جنگلوں میں گھرا ہوا‘ سرسبز‘ شاداب اور کھلا ڈھلا…

ٹائپ رائیٹر – جاوید چوہدری

Javed Chaudhry
چوم مے (Chum Mey) 1931میں لویا(Lvea) کے گاؤں تھونوٹ جور میں پیدا ہوا‘ والد بچپن میں فوت ہو گیا‘ خاندان انتہائی غریب تھا‘ یہ لوگ مینڈک اور کیڑے کھانے پر مجبور تھے۔ چوم مے نے پانچ سال کی عمر میں کام شروع کر دیا اور انتہائی خوف ناک…

کمبوڈیا میں تین دن – جاوید چوہدری

Javed Chaudhry
میں سنگا پور سے تین دن کے لیے کمبوڈیا چلا گیا‘ یہ ملک آج کل سیاحوں کے لیے بہت پرکشش ہے‘ کیوں؟ اس کی تین وجوہات ہیں‘ یہ دنیا کے ان پانچ ملکوں میں شامل ہے جو آج بھی اپنی پرانی ہیت میں قائم ہیںتاہم ماہرین کا خیال ہے پانچ دس برسوں میں یہ…

سنگاپور کی مثال – جاوید چوہدری

Javed Chaudhry
سنگا پور1965 تک ملائیشیا کا انتہائی پس ماندہ علاقہ ہوتا تھا‘ زمین دلدلی‘ ویران اور بنجر تھی‘ لوگ سست‘ بے کار اور نالائق تھے‘ یہ صرف تین کام کرتے تھے‘ بحری جہازوں سے سامان اتارتے تھے‘ چوری چکاری کرتے تھے ‘ بحری جہازوں سے چوہے نکال کر…

تین دن سنگا پور میں – جاوید چوہدری

Javed Chaudhry
میرے ہاتھ میں سیب کا ٹکڑا تھا‘ میں نے وہ پھینکنے کے لیے دائیں بائیں دیکھا‘ مجھے دور دور تک کوئی ڈسٹ بین نظر نہ آئی‘ میں ٹکڑا ٹھا کر آگے چل پڑا‘ میں دو کلومیٹر تک چلتا رہا لیکن راستے میں کسی جگہ کوئی ڈسٹ بین یا کچرا سینٹر نہیں تھا۔…