Browsing Category

Javed Chaudhry

You can read latest columns of Javed Chaudhry on this page. Urdu columns of Javed Chaudhry are updated on daily bases with latest views and words on different aspects of the world including political and country’s situation.

بس یہ حکومت بھی گئی – جاوید چوہدری

Javed Chaudhry
ایم کیو ایم (قدیم) کے زمانے میں پارٹی کے قائد الطاف حسین ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح لندن میں ہوتے تھے اور پارٹی پاکستان میں‘ قائد محترم لندن سے خطاب فرمایا کرتے تھے اور پارٹی قائدین‘ سینیٹرز‘ ایم این ایز اور ایم پی ایز سمیت پورا ملک اس…

مقام فیض کوئی… – جاوید چوہدری

Javed Chaudhry
میجر جنرل اکبر خان پاکستان کے پہلے چیف آف جنرل اسٹاف تھے‘ یہ 1895 میں امرتسر میں پیدا ہوئے تھے‘ والد چکوال کے بڑے زمین دار تھے‘ برطانوی فوج میں اس وقت گھڑ سواروں کی دو بڑی رجمنٹس ہوتی تھیں۔ ہڈسن ہارس اور پروبن ہارس‘ پاکستان کے پہلے…

ن لیگ پھنس گئی – جاوید چوہدری

Javed Chaudhry
میں آپ کو ایک بار پھر سری لنکا لے جاتا ہوں‘ سری لنکا نے 12 اپریل کو خود کو دیوالیہ ڈکلیئر کر دیا جس کے بعد ملک میں بجلی‘ پٹرول اور خوراک کا بحران پیدا ہو گیا‘ سرکاری سطح پر آٹھ گھنٹے لوڈ شیڈنگ‘ ٹرانسپورٹ کی بندش اور خوراک کے لیے فسادات…

توڑ دیں‘ گرا دیں – جاوید چوہدری

Javed Chaudhry
ہنری ٹموتھی کونویل(Henry Toomithi Conville)زمین دار تھا‘ وہ 1880میں ہندوستان آیا اور پنجاب کے مختلف جاگیرداروں اور زمین داروں کو زرعی مشینری بیچنا شروع کر دی‘ وہ اس دور میں زرعی مشینری کا سب سے بڑا امپورٹر تھا‘ مشینیں یورپ سے کول کتہ‘…

مقصد – جاوید چوہدری

Javed Chaudhry
یہ تجربہ امریکا کے ایک اولڈ پیپلزہوم میں ہوا اور اس نے پوری دنیا کی نفسیاتی شکل تبدیل کر دی ‘ ہم میں سے زیادہ تر لوگ اس تجربے اور اس کے نتائج سے واقف نہیں ہیں چناںچہ ہماری زندگی میں امن‘ کام یابی اور خوشی نہیں‘ ہم اگر آج بے مقصدیت کے…

اختتام نہیں آغاز ہے – جاوید چوہدری

Javed Chaudhry
محمد حیات بلوچ تربت ڈویژن کی نامور شخصیت ہیں‘ آبائی علاقہ نظرآباد تربت سے 80 کلومیٹر کے فاصلے پر ضلع کیچ میں واقع ہے‘ یہ پروفیسر بھی رہے‘ واسا کے ڈائریکٹر بھی ‘ صوبائی محتسب اعلیٰ بھی اور آخر میں بلوچستان یونیورسٹی تربت کے رجسٹرار بھی…

ہماری مت ماری گئی ہے – جاوید چوہدری

Javed Chaudhry
الطاف گوہر بیوروکریٹ تھے‘ صحافی تھے اور دانشور تھے‘ میں روز ان کے پاس جاتا تھا اور ان کی گفتگو سے لطف اٹھاتا تھا‘ میں نے ایک دن ان سے پوچھا ’’سر آپ لوگ جہاں دیدہ‘ پڑھے لکھے‘ عقل مند اور تجربہ کار تھے‘ آپ کے سامنے 1971 میں ملک ٹوٹ گیا…