گِگ اکانومی – علی معین نوازش

ali-moeen-nawazish

ٹیکنالوجی نے ہمارے کام کرنے کے انداز کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ گھر سے کام کرنے کا تصور قریب ایک دہائی پہلے تک ناممکن سا تھا لیکن آج انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کی بدولت بہت سی کمپنیاں اپنے ملازمین کو یہ اجازت دیتی ہیں کہ وہ اپنے گھر بیٹھے ہی دفتر کا کام کر لیں۔ اسی طرح بڑی بڑی کمپنیز بھی ایک حد تک ہی بڑھائی جا سکتی تھیں لیکن ٹیلی فون، فیکس مشین اور ای میل کی بدولت بڑی کمپنیاں چلانا آسان ہو گیا اور ایک چیف ایگزیکٹو دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنی کمپنی کو چلانے کی صلاحیت پاگیا۔ اسی طرح وڈیو کانفرنسنگ ٹیکنالوجی نے میٹنگز اور انٹرویوز کی نوعیت ہی تبدیل کر دی اور مختلف ممالک میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو آمنے سامنے بٹھا دیا۔

معیشت اور روزگار کے حوالے سے ایک اور جو بڑی تبدیلی آئی ہے وہ اسمارٹ فون کی وجہ سے آئی ہے۔ اس سے ایک نئی قسم کی معیشت نے جنم لیا ہے جس کو گِگ اکانومی (Gig Economy) کہا جاتا ہے۔ گِگ اس کام کو کہا جاتا ہے جسے آپ تھوڑی دیر میں مکمل کرلیں۔ فوڈ ڈیلیوری سروس ہو یا ٹیکسی سروس، یہ گِگ اکانومی میں شمار ہوتے ہیں کیونکہ رائیڈر یا ڈرائیور سارے دن چھوٹے چھوٹے کام لیتا رہتا ہے۔ دنیا کے اکثر ممالک میں صفائی سے لیکر کنسٹرکشن تک بلکہ الیکٹریشن اور ڈاکٹر بھی اب گِگ اکانومی کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔

ایک طرف تو یہ روزگار کا بڑا زبردست موقع ہے جس نے کئی لاکھ لوگوں کو پیسہ کمانے کا موقع دیا ہے لیکن دوسری طرف اس میں کچھ ایسے مسائل ہیں جس کی وجہ سےیہ کام کرنے والے افراد کے حقوق متاثر ہوتے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں اب یہ معاملات زیرِ غور ہیں کہ گِگ اکانومی میں کام کرنے والے لوگوں کے حقوق کا تحفظ کیسے ممکن بنایا جا سکے اور ان کمپنیوں کو کیسے ریگولیٹ کیا جا سکے۔

تمام لوگ جو گِگ اکانوی سے منسلک ہیں ان کو کمپنیاں پارٹنر یا کنٹریکٹر کہتی ہیں۔ اس طرح کمپنی ان کی ذمہ داری سے بالاتر ہو جاتی ہے جو عمومی طور پر ملازمین کے حوالے سے عائد ہوتی ہے جس میں سوشل سیکورٹی، پنشن اور ہیلتھ انشورنس وغیرہ شامل ہیں۔ حالانکہ جس طرح کمپنیاں لوگوں سے کام کراتی ہیں اور ان کے کام کی نوعیت اور شرائط پر کمپنیوں کا کنٹرول ہوتا ہے وہ بالکل ایک ملازمت کی طرح ہی ہوتا ہے۔ اس لیے دنیا بھر میں یہ مطالبہ ابھر رہا ہے کہ ان کمپنیوں کو اپنی ذمہ داری پوری کرنا چاہئے۔ حال ہی میں ہم نے دیکھا کہ گِگ اکانومی میں کام کرنے والے ڈرائیورز کی گاڑیاں بھی چوری ہوئیں، ان پر حملے بھی ہوئے، چند بیچارے قتل بھی ہوئے، اس لئے بہت ضروری ہے کہ کام کرنے والوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے تاکہ ان کا اور ان کے خاندانوں کا کچھ آسرا ہو سکے۔

دوسری طرف گِگ اکانومی سے منسلک کمپنیاں اکثر یکطرفہ طور پر پالیسی بدل دیتی ہیں۔ وہ کتنے پیسے لیتی ہیں، کتنے کاٹتی ہیں، اس سے لوگوں کے روزگار پر کیا اثر پڑتا ہے، کمپنیاں اس کی پروا نہیں کرتیں۔ اکثر لوگ جو پہلے ہی اس سب میں اپنے پیسے لگا چکے ہوتے ہیں یا ان کے پاس متبادل نہیں ہوتا، وہ ان شرائط کو ماننے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ بالخصوص وہ لوگ جو گاڑیاں وغیرہ بینک سے لون پر لیتے ہیں ان کے پاس دوسرا کوئی چارہ نہیں رہتا کیونکہ انہوں نے گاڑی کے پیسے تو دینے ہی دینے ہیں۔ پھر شفافیت بھی گِگ اکانومی کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔

کمپنیوں کا کام منافع کمانا ہوتا ہے۔ حکومت کا کام ہوتا ہے قانون بنانا اور کام کرنے والوں اور سروس استعمال کرنے والوں کے حقوق کا تحفظ کرنا۔ فیس بک دنیا کی ایک بہت بڑی کمپنی ہے لیکن جب پرائیویسی کا معاملہ آیا تو امریکی کانگریس نے مداخلت کی اور اس پر فیس بک کو کٹہرے میں کھڑا بھی کیا۔

دنیا بھر میں اب گِگ اکانومی کی ریگولیشن کا کام شروع ہو گیا ہے مگر پاکستان میں یہ کام کرنے والوں کے ساتھ کوئی اچھا سلوک نہیں ہو رہا۔ اگرچہ یہ ریگولیشن نہ صرف کام کرنے والوں کے حقوق کے تحفظ کے اعتبار سے نہایت ضروری ہے بلکہ ٹیکس کے لحاظ سے بھی ضروری ہے تاکہ گِگ اکانومی سے بننے والا پیسہ صحیح طرح ٹیکس نیٹ میں شامل ہو۔ پاکستان میں بڑھتی ہوئی گِگ اکانومی کے تناظر میں بہت ضروری ہے کہ ایک بزنس فرینڈلی ریگولیٹری فریم ورک بنایا جائے جس سے پاکستان کی معیشت کو بھی فائدہ ہو، اس سے فائدہ اٹھانے والے اپنا حق بھی ادا کر دیں اور لوگوں کی فلاح کا کام بھی جاری رہے۔ اچھی قانون سازی سے پاکستان اس ابھرتے ہوئے سیکٹر سے بہت فائدہ اٹھا سکتا ہے لیکن اگر ایسا نہ کیا گیا تو اس سے بہت سے پاکستانیوں کا نقصان بھی ہو سکتا ہے۔

Must Read Urdu column Gig economy By Ali Moeen Nawazish
Source: Jang

Leave A Reply

Your email address will not be published.