تمہارے لیے یہ جھٹکے ضروری ہیں کیونکہ۔۔۔۔ احتساب عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران آج جج نے ایسی بات کہہ دی کہ نواز شریف سر پکڑ کر رہ گئے

سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت میں پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء سے جرح کے دوران عدالت میں بولنے پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی نیب پراسیکیوٹر سے کچھ گرما گرمی ہوئی تاہم جج کے

دلچسپ تبصرے کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہوگئی،گزشتہ روز کی سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر واثق ملک اور نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کے درمیان گرما گرمی بھی ہوئی۔خواجہ حارث نے دوران سماعت بولنے پر واثق ملک کو ٹوکتے ہوئے کہا کہ آپ درمیان میں گفتگو کیوں کر رہے ہیں؟ نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ ہم آپس میں بات کر رہے ہیں آپ سے نہیں، سو باتیں ہوتی ہیں کرنے والی۔جس پر خواجہ حارث نے تبصرہ کیا کہ آپ یہاں کیا انڈوں کے ریٹ پر گفتگو کر رہے ہیں؟نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ اگر میں آپ کے سوال یا

گواہ کے جواب کے درمیان بولوں تو آپ تب اعتراض کریں۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ آپ نے اگرسنا ہے تو عدالت کو بتائیں کہ ہم نے کیا بات کی ہے، اگر عدالت روکے گی تو میں رک جاؤں گا۔جس پر معزز جج نے ریمارکس دیئے کہ جب آپس میں بات کرنا ہو تو تھوڑا پیچھے ہو کر کر لیا کریں۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ کارروائی کے دوران سُستی چھا جاتی ہے، تھوڑی دیر بعد ایسی گرما گرمی کے جھٹکے بھی ضروری ہیں۔جج ارشد ملک کے دلچسپ ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے اور ماحول یکسر بدل گیا۔

اس کے ساتھ ہی العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت کل تک کے لیے ملتوی کردی گئی، جہاں خواجہ حارث، واجد ضیاء پر جرح جاری رکھیں گے۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت جاری ہے۔تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک کررے ہیں۔سابق وزیراعظم نوازشریف کو آج سخت سیکیورٹی میں احتساب عدالت میں لایا گیا جبکہ خواجہ حارث آج بھی

واجد ضیاء پر جرح جاری رکھیں گے۔احتساب عدالت میں گزشتہ روز سماعت کے دوران واجد ضیاء سے جرح کرتے ہوئے خواجہ حارث نے کہا تھا کہ کیا جے آئی ٹی نے الداد آڈٹ بیورو کے کسی آفیشل سے رابطے کی کوشش کی ؟۔جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء نے جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے ایم ایل اے بھیجا تھا۔ عدالت میں سماعت کے دوران خواجہ حارث نے کہا تھا کہ جرح کر رہا ہوں دونوں پراسیکیوٹرز آپس میں بات نہ کریں، اس سے میں ڈسٹرب ہوتا ہوں۔نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ مجھے عدالت کہے تومیں بات نہیں کروں گا،

آپ ڈکٹیٹ نہ کریں، عدالت نے نیب پراسکیوٹر کو دوران جرح بات نہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔یاد رہے کہ گزشتہ ماہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے احتساب عدالت کو نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملزاورفلیگ شپ ریفرنسز کا ٹرائل مکمل کرنے کے لیے مزید 6 ہفتے کی مہلت دی تھی۔(ف،م)

Source

Leave A Reply

Your email address will not be published.