عمران خان کے ”رات کے دوست” کون ہیں اور وہ ان کے لیے کیا بڑی مصیبت کھڑی کر رہے ہیں؟ معروف صحافی رؤف کلاسرا کا ناقابل یقین انکشاف

نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے سینئیر صحافی و تجزیہ کار رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خانکی ایک بات اچھی ہے کہ انہوں نے ہمیشہ اپنی غلطی مانی ہے۔ وہ اپنی غلطی مان لیتے ہیں اور اگر ان کو اپنی غلطی مان

کر اپنا کہا ہوا یا اپنا کیا ہوا فیصلہ واپس بھی لینا پڑے تو وہ لے لیتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان پنجاب آئے تو ایم این ایز اور ایم پی ایز نے اُن سے کئی شکایات کیں اور اُن کو بتایا کہ بیوروکریسی ہماری بات نہیں مان رہی ، ہماری نہیں سُن رہی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس میں عمران خان کے کچھ ایڈوائزرز ہیں۔ رؤف کلاسرا نے کہا کہ میں وزیراعظم عمران خان کو ایک بات کہنا چاہتا ہوں کہ رات کی کمپنی کے لوگوں کو اُٹھا کر جب آپ مشیروں اور معاون کے طور پر لے کر آئیں گے تو وہ آپ کے لیے مشکلات بھی کھڑی کریں گے اور آپ کے لیے شرمندگی کا باعث بھی ہوں گے۔ان لوگوں کی وجہ سے آپ کو اپنے کہے ہوئے الفاظ واپس لینا پڑتے ہیں، لفظوں کو کھانا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان نے اپنے ”رات کے دوستوں” کو فائدہ ہی پہنچانا تھا تو کسی کو کاروں کا پارکنگ کا ٹھیکہ دے دیتے، کسی کو موٹروے کا کنٹریکٹ دے دیتے۔ اس سے پہلے آصف علی زرداری اور شریف خاندان نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر عمران خان نے اپنے شام کے اور رات کے دوستوں کو اُٹھا کر سرکاری عہدے دے دئے ہیں، کہ آپ نے مجھے ایڈوائس کرنا ہے تو پھر یہی ہو گا جو آج اُن کے ساتھ ہو رہا ہے۔اس میں اب عمران خان بھی کچھ نہیں کر سکتے۔ عمران خان کے آس پاس موجود لوگوں میں سے کوئی ایک بندہ

بھی ایسا نہیں ہے جو ان کے مزاج کے خلاف بات کرے یا اُن کو کوئی مشورہ دے دے حالانکہ مشیر کو ہمیشہ نڈر اور بے باک ہونا چاہئیے۔ نواز شریف کے آس پاس بھی ایسے لوگوں کا ہجوم ہی رہتا تھا۔ نواز شریف نے اپنی ساری حکومت اسحاق ڈار کو دے دی تھی کہ آپ چلائیں۔بے نظیر کے ارد گرد بھی کچھ ایسے لوگ تھے جنہوں نے حکومت چلائی۔ عمران خان کی عمر 68 سال ہے اور اگر اب بھی وہ یہ اندازہ نہیں لگا پا رہے کہ اُن کو کون کیسی ایڈوائس دے رہا ہے اور اس ایڈوائس کے پیچھے اُس کا اپنا ذاتی مفاد کیا ہے تو پھر عمران خان کسی اور کو الزام نہیں دے سکتے کیونکہ جو لوگ ان کو ایڈوائس کر رہے ہیں وہ بھی ان کے اپنے لائے ہوئے ہیں۔ جیسے ہم سب کو پہلے ہی علم تھا کہ شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چئیرمین بنانا بلنڈر تھا ، لیکنعمران خان کے ایڈوائزرز نے ان کو غلط مشورہ دیا۔جس کا اعتراف وزیراعظم عمران خان نے خود بھی کیا۔ عمران خان کی عمر 68 سال ہے اور اگر اب بھی وہ یہ اندازہ نہیں لگا پا رہے کہ اُن کو کون کیسی ایڈوائس دے رہا ہے اور اس ایڈوائس کے پیچھے اُس کا اپنا ذاتی مفاد کیا ہے تو پھر عمران خان کسی اور کو الزام نہیں دے سکتے کیونکہ جو لوگ ان کو ایڈوائس کر رہے ہیں وہ بھی ان کے اپنے لائے ہوئے ہیں۔ جیسے ہم سب کو پہلے ہی علم تھا کہ شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چئیرمین بنانا بلنڈر تھا ، لیکنعمران خان کے ایڈوائزرز نے ان کو غلط مشورہ دیا۔جس کا اعتراف وزیراعظم عمران خان نے خود بھی کیا۔

Source

Leave A Reply

Your email address will not be published.