تہذیب، خنجر اور خودکشی – حسن نثار

hassan-nisar

حصولِ علم اور عقل کا استعمال قرآن کی بنیادی اور جوہری تعلیمات میں شامل ہے تو ہماری ترجیحات میں شامل کیوں نہیں ؟ المیہ یہ کہ الٹا انہیں مادیت اور شیطانیت بنا دیاگیا۔یہ لکھتے ہوئے بھی ہاتھ کانپتے ہیں کہ کہاں کہاں کیسی کیسی پریکٹسنرکس نام پر ہو رہی ہیں۔

مومن اگر واقعی اپنے عہد، اپنے عصر سے ہم آہنگ ہوتا ہے تو اس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ بہت سی چیزوں کو ری ڈیفائن کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم نے گدھے، گھوڑے، خچر، اونٹ، ہاتھی کو تو موٹر سائیکل، کار، بس، ریل، راکٹ، جہاز سے ری پلیس کر دیا تو باقی کس نے کرنا تھا ؟ کل تک تصویر ’’حرام‘‘ تھی پھر پاسپورٹ ویزے کی مجبوری نے ’’رولز ریلیکس ‘‘ کر دیئے کہ یہی بات علی شریعتی کرتے ہیں یعنی ۔۔۔

"CHANGING RULES FOR THE CHANGING NEEDS AND UNCHANGING RULES FOR THE UNCHANGING NEEDS”

آج اگر حرام اور شیطانی ’’سٹل کیمرہ‘‘ کی جگہ مووی کیمرہ کے سامنے نا محرموں کے ساتھ بن ٹھن کے بیٹھنا قابل قبول ہی نہیں ،روٹین بن چکا ہے تو کچھ دیگر معاملات پر بھی نظرثانی کرلی جائے تو کیا خیال ہے ؟

پہلی جنگ عظیم کے بعد انہیں آپس میں بری طرح متصادم اور برسر پیکار دیکھ کر (شاید) علامہ اقبال نے پیش گوئی کی تھی کہ ’’ان کی تہذیب خود ان کے خنجر سے خودکشی کرے گی کیونکہ ’’شاخِ نازک‘‘ پر بنا ہوا ’’آشیانہ ‘‘ ناپائیدار ہو گا اور یہ پیش گوئی تقریباً سو سال پرانی ہے لیکن سب کچھ الٹ ثابت ہوا کیونکہ ان کی تہذیب کا آشیانہ جو سائنس اور ٹیکنالوجی یعنی علم و ہنر کے تنکوں سے بنا تھا، ناقابل تسخیر ثابت ہوا اور ان کی تہذیب ہرنوں کی طرح قلانچیں بھرتی ہوئی مریخ تک جا پہنچی اور ہم ’’جمعہ کی چھٹی ‘‘…’’شلوار کے سائز‘‘ …’’نیل پینٹ کے ساتھ وضو ہو سکتا ہے یا نہیں‘‘ اور ’’عید کے چاند‘‘ میں ہی پھنسے رہ گئے ۔پاکستان اپنی تمام تر غربت، بدانتظامی، جہالت، اداروں کی تباہی، کرپشن، اخلاقیات کی بربادی کے باوجود شاید عالم اسلام کا واحد سچ مچ جاندار ملک ہے جن کے عوام کی سوچ اور سمت تبدیل کر دی جائے تو شاید یہ باقی ماندہ عالم اسلام کو بھی موٹی ویٹ، موبلائز اور انسپائر کرکے بہتری کی کوئی صورت پیدا کر سکے۔غلبہ تو دور کی بات، تاریخ اور تاریخی غلطیاں ہمیں اس موڑ پر لے آئی ہیں جہاں ’’سروائیول‘‘ ہی مسئلہ بن چکا ہے۔ہم جن ’’برادرز‘‘ پر تکیہ کرتے ہیں ان کا حال تو حال ہی میں کھل کر سامنے آچکا تو سچی بات ہے مجھے کوئی گلہ، شکوہ، شکایت نہیں کہ ’’سروائیول‘‘ بری بلا ہے لیکن سوچتا یہ ہوں کہ کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ چند باقی چیزوں کی طرح ہم بھی ’’تہذیب‘‘کو ری ڈی فائن کریں کہ مادیت روحانیت کی دشمن کیا ضد بھی نہیں کیونکہ مادہ بھی اسی کی تخلیق ہے جو اشرف المخلوقات سے لیکر ان گنت کائناتوں تک کا مالک ہے۔

ناکامی اور کامیابی کے درمیان، غالب اور

مغلوب کے درمیان، حاکم اور محکوم دنیا کے درمیان خلیج اتنی وسیع اور گہری ہوتی جا رہی ہے کہ شاید آج ہی اسے پاٹنا ممکن نہ ہو لیکن تقریباً ایک صدی کے لگ بھگ بعد یہ کام نا ممکن ہو جائے گا لیکن یہاں ہمیں ڈسکوں اور سینیسٹوںسے ہی فرصت نہیں۔تین مین سٹریم نام نہاد سیاسی جمہوری جتھوں کے رویوں، سوچوں، حرکتوں پر غور کریں تو کسی پیش گوئی کی ضرورت نہیں۔

ہم بھی بہت عجیب ہیں اتنے عجیب ہیں کہ بس

خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں

جتنے سال ضائع اور برباد ہو گئے، ان پر ملال سے کہیں زیادہ فکر اس بات پر کہ اگر مزید ستر 75برس بھی اسی چال چلن کی بھینٹ چڑھ گئے تو انجام کتنا دردناک اور شرمناک ہو گا۔اس دنیا بلکہ گلوبل ویلیج کے ’’برہمن‘‘ بنیں نہ بنیں لیکن اچھوت اور شودر بننے، ادھیک اور اچھیک بننے سے خوف آتا ہے۔ ’’ادھیک‘‘ وہ جسے دیکھنے سے آنکھیں گندی ہو جائیں اور ’’اچھیک‘‘ وہ جسے چھونے سے ہاتھ غلیظ ہو جائیں تو کبھی سوچا یہ سبز پاسپورٹ کہاں کھڑا ہے؟

حیرت ہوتی ہے اس بیمار فالج زدہ ذہنیت پر جو اس خام خیال پر بغلیں بجاتی ہے کہ امریکہ سے ’’سپرپاور‘‘ کاسٹیٹس چھن جائے گا کہ چین سیلابی ریلے کی طرح چڑھا چلا آ رہا ہے ۔اول تو یقین رکھیں ’’ہنوز دلی دور است ‘‘ لیکن اگر چند عشروں بعد ایسا ہو بھی جائے تو ہمارے تمہارے کس کام کا ؟مسئلہ یہ نہیں کہ کون ’’سپرپاور‘‘ ہے ۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم کہاں اور کس حال میں ہوں گے ؟احمقانہ خواب دکھانے اور بے سری لوریاں سنانے والوں کی کوئی کمی نہیں، دوچار تو ایسے بھی ہوں تو مسلسل چتائونیاں دیتے رہیں اور آخری بات یہ ہے کہ بہت طاقتور اور بہت کمزور میں دوستی اور بھائی چارہ صرف کہانیوں میں ہوتا ہے اور حقیقت یہ کہ ’’سپرپاور‘‘ تو ہزاروں میل دور بھی ہو تو بے رحم اور خود غرض ہوتی ہے لیکن یہی ’’سپرپاور‘‘ اگر پڑوس میں ہو تو خود ہی سوچ لو کیسے کیسے رنگ اور ڈھنگ نہ دکھائے گی اور غلاموں کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ’’آقا‘‘ کون ہے؟ ڈکٹیشن کون دے رہا ہے اور اس کی رنگت کیسی ہے؟ قد کتنا ہے؟ناک کیسی ہے ؟زبان کون سی ہے ؟اس کا مذہب کیا ہے اور ہے بھی یا نہیں؟

جانتا ہوں کہ صحرا میں اذان دے رہا ہوں لیکن

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)

Source: Jung News

Read Urdu column Tehzeeb, Khanjar aur Khudkashi By Hassan Nisar

Leave A Reply

Your email address will not be published.