ٹکڑے ٹکڑے – جاوید چودھری

Javed Chaudhry Columns

ہیروشیما کا ہائیر ٹیکنیکل اسکول 1920ء میں بنا‘یہ بنیادی تعلیم کے بعد ٹیکنیکل ایجوکیشن دیتا تھا‘ یہ اسکول 1944ء میں ٹیکنیکل کالج ہو گیا‘ اس کالج کو ہیروشیما یونیورسٹی کی سپورٹ حاصل تھی‘ ہیروشیما یونیورسٹی 1929ء میں قائم ہوئی اور یہ جاپان کی بڑی یونیورسٹیوں میں شمار ہوتی تھی‘ یونیورسٹی کا موٹو تھا ’’ٹرائی نیوتھنگز‘ ڈونیو تھنگز‘‘ (نئی چیزیں شروع کریں اور نئی چیزیں بنائیں)۔

امریکا نے 6 اگست 1945ء کو ہیرو شیما پر پہلا ایٹم بم گرایا‘ شہر کا نوے فیصد حصہ صفحہ ہستی سے مٹ گیا‘ 80 ہزار لوگ فوری طور پر ہلاک ہو گئے‘ کل اموات ایک لاکھ 20 ہزارہوئیں‘ امریکا نے تین دن بعد 9 اگست کو ناگاساکی پر دوسرا ایٹم بم گرا دیا‘ یہ شہر بھی تباہ ہوگیا‘ یہ دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی تباہی تھی‘ جاپان کی کمر ٹوٹ گئی‘ شہنشاہ ہیرو ہیٹو نے 15 اگست 1945ء کوغیر مشروط ہتھیار ڈال دیے۔

امریکا نے جاپان پر قبضہ کر لیا یوں دوسری جنگ عظیم ختم ہو گئی‘ ایٹم بم کے حملے کے وقت ہیرو شیما ٹیکنیکل کالج میں طالب علموں کے پریکٹیکل چل رہے تھے‘ کالج کے 95 فیصد طالب علم ایٹم بم کا رزق بن گئے‘ صرف مضافات کے نوجوان محفوظ رہے‘ زیادہ تر استاد بھی ہلاک ہو گئے لیکن آپ جاپانی قوم کی علم پرستی ملاحظہ کیجیے‘ ایٹمی حملے کے صرف ایک ماہ بعد ہیرو شیما کی لوکل گورنمنٹ نے مضافات میں عارضی ٹیکنیکل کالج بنایا‘ زندہ بچ جانے والے طالب علم اور استاد اکٹھے کیے‘ ملک کے باقی حصوں سے لیبارٹری کے آلات منتقل کیے اور اسٹوڈنٹس کے پریکٹیکل مکمل کرائے۔
زخمی والدین اپنے زخمی بچوں کو کندھوں پر لاد کر عارضی لیبارٹری میں لے کر آتے تھے‘ زخمی استاد انھیں پریکٹیکل کراتے تھے اور یہ لوگ کلاس کے بعد گھسیٹ گھسیٹ کر کیمپوں تک پہنچتے تھے‘ جنگ زدہ‘ شکست زدہ جاپان نے صرف چار سال میں ایٹم بم سے تباہ حال ہیرو شیما میں دوبارہ یونیورسٹی تعمیر کی‘ یونیورسٹی میں 31 مئی 1949ء میں کلاسز شروع ہوئیں اور یہ آج تک چل رہی ہیں‘ ہیرو شیما یونیورسٹی میں اس وقت گیارہ ہزار 3 سو 22 انڈر گریجویٹس‘ تین ہزار تین سو 58 پوسٹ گریجویٹس اور 1756 پی ایچ ڈی طالب علم ہیں‘ ان ساڑھے سولہ ہزار طالب علموں کو پڑھانے کے لیے تین ہزار دو سو بائیس پروفیسر ہیں۔

جاپان میں تعلیم کے حوالے سے دو روایات حیران کن ہیں‘ پہلی روایت تسلسل ہے‘ جاپانی کسی بھی حال میں اپنے تعلیمی ادارے بند نہیں ہونے دیتے‘ ایٹمی حملوں کے بعد بھی ہیرو شیما اور ناگاساکی میں سب سے پہلے تعلیمی ادارے کھولے گئے‘ ہیروشیما کا شہر بننے سے پہلے یونیورسٹی بنی اور اس میں کلاسز شروع ہوئیں‘ دوسری روایت معیار تعلیم ہے‘ یہ لوگ کسی بھی حال میں اپنے تعلیمی معیار کو نیچے نہیں گرنے دیتے۔

جاپانیوں نے ایٹمی حملے کے بعد بھی 5 فیصد طالب علموں کے لیے عارضی لیبارٹری بنائی اور زخمی طالب علموں تک کو پریکٹیکل کرائے‘ آپ 11 مارچ 2011ء کے سونامی کی مثال بھی لیجیے‘ سونامی سے جاپان کے آدھے ساحلی شہر تباہ اور چھ لاکھ لوگ بے گھر ہوئے لیکن آپ جاپانیوں کا کمال دیکھئے‘ انھوں نے فوری طور پر عارضی اسکول بنائے‘ متاثرہ علاقوں کے بچوں کو ان اسکولوں میں منتقل کیا اور تعلیم کا سلسلہ وہیں سے شروع کر دیا جہاں یہ 11 مارچ 2011ء کو ٹوٹا تھا‘ آپ ان عارضی اسکولوں کی فوٹیج آج بھی یو ٹیوب پر دیکھ سکتے ہیں۔

دنیا میں طویل عرصے سے یہ بحث چل رہی ہے قوموں کو قومیں کون بناتا ہے‘ لیڈر یا عوام‘ یہ بحث 1980ء تک کوئی نہ کوئی حیثیت رکھتی تھی لیکن دنیا نے جوں ہی اکیسویں صدی کی دہلیز پر قدم رکھا انسان قوم سازی کا نسخہ سمجھ گیا‘ پتہ چلا قوم کو معیاری تعلیم قوم بناتی ہے‘ یہ ڈاکٹر‘ انجینئر‘ آئی ٹی ایکسپرٹس‘ مینجمنٹ اور ایڈمنسٹریشن گریجویٹ‘ ماحولیات‘ پانی‘ بجلی‘ سیوریج اور دفتری امور کے ماہرین اور ہوٹل مینجمنٹ کے نوجوان ہوتے ہیں جو قوم کو قوم بناتے ہیں‘ قوم سازی کے لیے لیڈر اتنے اہم نہیں ہوتے جتنے اہم ٹرینڈ استاد ہوتے ہیں۔

ملک میں اگر ڈاکٹر ٹرینڈ اور ایکسپرٹ ہوں گے تو عوام کی صحت اچھی ہو گی‘ بیماریاں نہیں پھیلیں گی‘ بچے ملیریا اور ڈائریا سے نہیں مریں گے‘ زچہ اور بچہ دونوں محفوظ رہیں گے‘ انجینئر اچھے ہوں گے تو پل‘ سڑکیں انڈر پاسز‘ ریلوے ٹریکس‘ پاور ہائوسز‘ ڈیمز‘ نہروں کے بند‘ ریلوے کراسنگ‘ ائیرپورٹس‘ گاڑیاں‘ عمارتیں اور بجلی کی ٹرانسمیشن لائنیں اچھی ہوں گی‘ کوئی ٹرین‘ بس اور جہاز لیٹ نہیں ہوگا‘اسی طرح ملک میں اگر اچھے آئی ٹی ایکسپرٹ ہوں گے‘ تعلیمی ادارے اگر اچھے بیورویٹس‘ اچھے معیشت دان‘ اچھے صنعت کار‘ دفتری امور کے اچھے ماہرین‘ اچھے علماء کرام‘ اچھے پینٹر‘ اچھے پلمبر‘ اچھے الیکٹریشن‘ اچھے ویٹر اور اچھے سیلزمین پیدا کریں گے تو ملک کا ہر شعبہ ترقی کرے گا‘ پورا معاشرہ تبدیل ہو جائے گا۔

آپ خود فیصلہ کیجیے ہم وزارت عظمیٰ اور کرسی صدارت پر فرشتے بٹھا دیتے ہیں لیکن اگر ٹرین کے ڈرائیور نالائق اور ناتجربہ کار ہوں گے‘ اگر ڈاکٹر قصاب‘ انجینئر غبی‘ بیوروکریٹ بے ایمان اور جج جاہل ہو گا تو ملک میں خاک تبدیلی آئے گی؟ حکومت بجلی پیدا کر دے گی‘ یہ رو دھو کر ڈیم بھی بنا دے گی‘ یہ سڑکیں‘ پل اور انڈرپاسز بھی تعمیر کر دے گی لیکن اگر سسٹم چلانے والے بے ایمان اور نااہل ہوں گے تو یہ انفراسٹرکچر کتنی دیر قائم رہے گا اور ہم کتنی دیر ٹرینیں اور جہاز چلا لیں گے؟آپ نے کبھی سوچا ہمارا ریلوے‘ اسٹیل مل‘ پی آئی اے‘ واپڈا اور سیوریج کا نظام کیوں تباہ ہوا؟

یہ تمام ادارے اس لیے زوال پذیر ہوئے کہ انھیں چلانے والے نالائق‘ بے ایمان اور ناتجربہ کار تھے‘ پی آئی اے میں اس وقت بھی بیس لاکھ روپے سے زیادہ تنخواہ لینے والے درجن بھر افسر ہیں لیکن ادارہ بد سے بدتر ہوتا چلا جا رہا ہے‘ کیوں؟ کیونکہ پائلٹس‘ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ‘ کریو اور سول ایوی ایشن کے لوگ نالائق‘ سست اور ’’ان ٹرینڈ‘‘ ہیں‘ آپ اسلام آباد کا نیا ائیرپورٹ دیکھ لیں‘ عملے نے 81 دنوں میں 100 ارب روپے کا ائیرپورٹ تباہ کر دیا‘ شیشے اور باتھ روم تک گندے ہو چکے ہیں‘ کنویئر بیلٹس تک اکھڑ چکی ہیں اور مسافروں کو لائونج تک پہنچانے والی گاڑیاں بھی کھڑک گئی ہیں‘ یہ شاید دنیا کا واحد کیپیٹل ائیرپورٹ ہو گا جس کی کسی شاپ‘ کسی کافی شاپ پر کریڈٹ کارڈ کی سہولت نہیں۔

ایک اے ٹی ایم مشین ہے اور وہ بھی خراب ہے‘ سی ڈی اے ابھی تک ایئرپورٹ کو موٹروے سے نہیں جوڑ سکا‘ مسافر ذلیل ہو کر موٹر وے تک پہنچتے ہیں‘آپ قوم کی اجتماعی صورتحال بھی دیکھئے‘ صفائی نصف ایمان ہے لیکن آپ مسجدوں کے استنجہ خانوں کے قریب سے نہیں گزر سکتے‘ صفوں کے اندر سے بو آتی ہے اور مولوی صاحب بھی سنے سنائے قصے سنا کر نمازیوں کا ایمان آلودہ کرتے رہتے ہیں۔

آپ کو اسی طرح سڑک سے لے کر دکانوں‘ اسپتال سے لے کر سرکاری دفتروں اور ریستورانوں سے لے کر ائیرپورٹ تک ہر جگہ ناتجربہ کاری اور نالائقی کے انبار نظر آتے ہیں‘ انجینئرز کے بنائے پل گر جاتے ہیں اور ڈاکٹر زکے زیر علاج مریض مر جاتے ہیں‘ پاکستان میں ہر سال بھوک سے اتنے لوگ نہیں مرتے جتنے لوگ کھانا کھا کر مر جاتے ہیں اور ہماری سڑکیں محفوظ ہیں‘ سیوریج اور نہ بجلی کے کھمبے‘ ایسا کیوں ہے؟ یہ غیر معیاری تعلیم کا نتیجہ ہے۔

ہم اگر ملک کو واقعی بدلنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں تین کام کرنا ہوں گے‘اول‘ ملک میں کوئی بھی شخص کوئی بھی کام ٹریننگ کے بغیر نہ کر سکے‘ ہر کام کا سر ٹیفکیٹ اور ڈپلومہ ضروری ہونا چاہیے اور ڈپلومہ شہریوں کے شناختی کارڈ کا حصہ ہو‘ دوم‘ ملک میں کسی قیمت پر تعلیمی ادارے بند نہیں ہونے چاہئیں‘ آپ تعلیم کو گھنٹوں میں تقسیم کریں اور قیامت بھی آ جائے تو بھی طالب علم اپنے تعلیمی گھنٹے ضرور پورے کریں‘ ہمیں بارش‘ گرمی‘ سردی‘ بم دھماکوں اور الیکشنوں کے دوران بھی تعلیمی ادارے کھلے رکھنا ہوں گے اور سوم‘ ملک میں کسی قیمت پر معیار تعلیم پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے‘ نقل کو گناہ‘ ناقابل ضمانت جرم اور خوفناک مثال بنا دیا جائے۔

شروع میں نقل کرنے والوں کو عبرت کی نشانی بنایا جائے اور دس سال بعد نقل کرنے والے طالب علموں کے لیے بھی دس دس سال قید کی سزا مقرر کر دی جائے‘ نقل کرانے والے اساتذہ کی تصویریں پورے ملک میں مشتہر کی جائیں‘آپ کسی یورپی ملک کا سلیبس کاپی کر لیں‘ اساتذہ کی تنخواہوں میں پانچ گنا اضافہ کر دیں اور ملک میں بنیادی تعلیم لازمی قراردے دیں‘ کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہیں ہونا چاہیے‘ کسی اسکول میں استاد کم نہیں ہونے چاہئیں‘ طالب علموں کو پرائمری تک کتابیں‘ یونیفارم‘ جوتے اور کھانا حکومت کو فراہم کرنا چاہیے‘ کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم کو مشکل اور مہنگا ہونا چاہیے تاہم بینک یونیورسٹی طالب علموں کو فنانس کریں۔

طالب علم نوکری کے بعد قسطوں میں یہ قرض ادا کر دیں‘ حکومت بھی اہل‘ غریب اور ذہین بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے وظائف اور قرضے دے اور یونیورسٹیاں طالب علموں کو نوکری کے بجائے کاروبار کی ترغیب دیں‘ بچے تعلیم مکمل کرنے کے بعد نوکری تلاش کرنے کے بجائے کام کریں‘ کاروبار کریں لیکن یہ اس وقت ممکن ہو سکے گا جب تعلیم مشکل اور نقل صفر ہو جائے گی‘ آپ دنیا کے کسی جدید ملک میں چلے جائیں۔

آپ وہاں نقل کی بات کریں لوگ حیران ہو کر پوچھیں گے ’’کیا امتحانات میں نقل بھی ہو سکتی ہے‘‘ اور آپ پاکستان میں کسی تعلیمی ادارے میں جا کر کہیں ’’میں نے نقل کے بغیر تعلیم مکمل کی تھی‘‘ تو استاد بھی حیران ہو کر پوچھیں گے ’’کیا کوئی شخص نقل کے بغیر بھی تعلیم مکمل کر سکتا ہے‘‘ یہ ہے وہ فرق جس نے یورپ کو ترقی یافتہ اور ہمارے جیسے ملکوں کو ترقی پذیر بنایا چنانچہ میری تمام سیاسی جماعتوں سے درخواست ہے آپ اگر ووٹ کو عزت دینا چاہتے ہیں تو آپ تعلیم کو عزت دینا شروع کر دیں‘ ووٹ‘ ووٹر اور لیڈر سب کو عزت مل جائے گی اور اگر ایسا نہ ہوا تو یہ ملک دشمن کے بجائے پست نظام تعلیم کے ہاتھوں شکست کھا جائے گا۔

اسے نقل زدہ ڈاکٹرز‘ انجینئرز اور معیشت دان ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گے لہٰذا ملک بچانا ہے تو تعلیم کو معیار اور تسلسل دینا ہوگا ورنہ ہمارے عوام اسی طرح سڑکوں پر رلتے رہیں گے اور لیڈر جیلوں میں پڑے رہیںگے۔

Source
Must Read urdu column Tukray Tukray By Javed Chaudhry

Leave A Reply

Your email address will not be published.