اردو کے سفر کی جھلکیاں2 – حسن نثار

hassan-nisar

(گزشتہ سے پیوستہ)

کیکتی زبان دریائے گنگا سے ہاکڑا تک کے درمیانی علاقے میں بولی جاتی تھی۔ ہریانوی زبان اسی کی ترقی یافتہ شکل ہے جسے بانگڑو یا جاٹو بھی کہا جاتا ہے۔ دریائے ہاکڑا سے اٹک تک کی زبان جو پنجابی کہلاتی ہے، اس میں مالوی، دو آبی، ملی، ہندا، سرائیکی اور پوٹھوہاری لہجے پائے جاتے ہیں۔ مگدھ کے علاقہ کی زبان ماگدھی کہلاتی ہے جسے پوربی بھی کہا گیا جو جنوبی بِہار سے الٰہ آباد کے درمیانی خطے میں رائج تھی۔ میرٹھ اور دہلی کی بول چال کی زبان جس کا حلقۂ اثر وسیع ہو کر روہیل کھنڈ اور پنجاب کے ضلع انبالہ تک پھیل گیا تھا، مغربی محققین و مصنفین اسی زبان کو ہندوستانی کا نام دیتے ہیں جو آج کل ہندی کہلاتی ہے۔یوں تو دورِ جدید کے برصغیر میں بولی جانے والی بڑی زبانوں کی تعداد 36ہے لیکن مندرجہ ذیل زبانوں کو زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ اگرچہ پاکستان میں مادری زبان کی حیثیت سے اردو بولنے والوں کی تعداد تقریباً 10فیصد ہے تاہم ملکی سطح پر رابطہ کی زبان ہونے کی حیثیت سے یہ ملک کی 95فیصد آبادی کی زبان ہے۔ پاکستان میں اردو کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی پر مشتمل صوبہ پنجاب کو اس زبان کا مولد و منشا تصور کیا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش کے تقریباً 25لاکھ محصورین کی زبان بھی اردو ہے۔پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی زبان جس کے بولنے والوں کا تناسب سرائیکی اور پوٹھوہاری بولنے والوں کو ملا کر تقریباً 55فیصد بنتا ہے اور حافظ محمود شیرانی اسے اردو زبان کی ماں قرار دیتے ہیں۔ پاکستان کی تیسری بڑی زبان جو دوسری زبانوں کی مقابلہ پر ترقی یافتہ ہے، سندھی کہلاتی ہے اور بولنے والوں کی تعداد تقریباً 15فیصد ہے۔ عربی اثرات بہت نمایاں ہونے کی وجہ سے اسے ہندسامی گروہ کی زبان کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔پشتو ’’کے پی‘‘ کی زبان ہے جس کے بولنے والوں کی تعداد تقریباً سندھی کے برابر ہے۔ اس کا تعلق ہند ایرانی گروہ سے ہے۔ اردو کے ساتھ اس کا رشتہ فارسی کے حوالہ سے ہے۔ بلوچی زبان بولنے والوں کی تعداد سب سے کم ہے اور اس کا تعلق بھی ہند ایرانی گروہ سے ہے۔جہاں تک تعلق ہے ہندوستان کا تو اس ملک کی تقریباً 40فیصد آبادی کی زبان ہندی ہے۔ ہندوستان کی دوسری بڑی زبان بنگالی ہے، جس کے بولنے والوں کی تعداد بنگلہ دیش کے بنگالی سپیکنگ کو ملا کر تقریباً 25فیصد بنتی ہے۔ ہندی کے برعکس اس زبان کے بولنے والوں کی تعداد میں کمی کا رجحان ہے۔ ہندی اور بنگالی کے بعد سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان جو جنوبی ہندی ریاستوں میں بولی جاتی ہے وہ تیلگو کہلاتی ہے۔ جو کیرالہ اور تلنگانہ میں بولی جاتی ہے۔ ہندی بولنے والوں میں اضافہ کے سبب اس میں بھی کمی کا رجحان ہے۔ تامل زبان بولنے والوں کی تعداد اگرچہ مراٹھی زبان کی نسبت کم ہے تاہم ہندوستان کی مشہور ریاست تامل ناڈو کی زبان ہونے کی حیثیت سے اسے ملک کی زبانوں میں خاص اہمیت حاصل ہے جس کی ایک وجہ تامل فلمیں بھی ہیں۔ اردو بولنے والوں کی تعداد کے لحاظ سے اردو ہندوستانی زبانوں میں بہت کم یعنی تقریباً 5فیصد ہے۔ اردو ہندی کا ملاپ بھی بہت عام ہے اور اس وقت بھی اردو کو دہلی، بِہار، کشمیر، تلنگانہ، یوپی اور مغربی بنگال میں قومی زبان کا درجہ حاصل ہے۔اردو زبان کے منبع کے تعین کے بارے میں مختلف نظریات پیش کئے گئے ہیں جن میں سے اکثر کی بنیاد برصغیر میں مسلمانوں کی آمد پر رکھی گئی ہے جبکہ کچھ نظریات کے مطابق اس کی ابتدا سنسکرت، پراکرت اور دیگر زبانوں میں تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے (لائل پور، کرتارپور وغیرہ میں ’’پور‘‘ پراکرت کا لفظ ہے) اس نظریہ کا مختصر سا جائزہ کچھ یوں ہے کہ سامی نظریہ کے مطابق برصغیر کی مقامی زبانوں میں عربی زبان کے ذریعے سامی عنصر کی آمیزش سے اردو معرض وجود میں آئی مثلاً بقول نصیر الدین ہاشمی اردو کا خمیر عربی سے تیار ہوا۔ اسلام سے پہلے بھی عرب تجارت کی غرض سے مالا بار کے ساحل پر آتے رہتے اور وہاں ان کی آبادیاں بھی تھیں۔ ظہور اسلام کے بعد ان تاجروں کی تبلیغ سے عربی اثرات کے باعث اردو زبان کی شروعات ہوئی جبکہ پروفیسر احتشام حسین کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی تبلیغ سے جنوبی ہند میں بھگتی جیسی تحریکوں کا شروع ہونا تو تسلیم لیکن اس اختلاط کے نتیجہ میں قابلِ ذکر لسانی نتائج کا پیدا ہونا مشکل ہے۔ ان کے خیال کے مطابق دکن میں اردو، عرب تاجروں کے زیر اثر نہیں بلکہ پنجاب اور دہلی سے آنے والے فوجیوں کی وجہ سے وجود میں آئی۔ سید سلمان ندوی نے سندھ پر محمد بن قاسم کے حملہ سے وجود میں آنے والی اسلامی ریاست اور مقامی آبادی کے تمدنی، معاشرتی روابط کو بنیاد بناتے ہوئے نتیجہ اخذ کیا کہ اردو زبان کا ابتدائی ڈھانچہ سندھ میں تیار ہوا۔(جاری ہے)

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Source: Jung News

Read Urdu column Urdu k Safar ki Jhalkian 2 By Hassan Nisar

Leave A Reply

Your email address will not be published.