وعدے، صرف وعدے – ڈاکٹر عبد القدیر

dr-abdul-qadeer-khan

پچھلے دنوں ایک کالم میں محترم وزیراعظم کو وہ تمام وعدے یاد دلائے تھے جو وفا نہیں ہوئے۔ آج صبح ٹی وی دیکھ رہا تھا، اس میں لاہور دکھایا گیا جو اَب کراچی کی طرح ہوگیا ہے۔ محترم وزیراعلیٰ نے پچھلی حکومت پر رشوت ستانی کا الزام لگا کر کمپنی کو فارغ کردیا، وہ شہر جو نہ صرف ایشیا میں بلکہ دنیا میں خوبصورتی و صفائی کی وجہ سے مشہور تھا وہ اب غلاظت، تعفن کی وجہ سے دنیا میں شہرت پا رہا ہے۔ شاید یہ باتیں وزیراعظم نا دیکھتے ہوں کیونکہ وزیراعلیٰ انکی آنکھوں کا نور اور دل کا سکون ہیں۔ یہ خوبصورت گلستان اب تعفن اور غلاظت کا خزینہ ہے۔ وزیراعظم نے شکایت کی ہے کہ ان کے وزراء کابینہ میں منظور کی گئی باتوں پر باہر تنقید کرتے ہیں۔ محترم وزیراعظم جب آپ نے ان کو ہر طرح کی جازت دے رکھی ہے اس لئےوہ دن بھر ٹی وی کی زینت بنے رہتے ہیں تو پھر ان کی زبان تو پھسلنے کی جانب راغب ہوگی۔ آپ کی ٹیم کے ہارڈ ورک کی باتیں مجھے تقریباً 60سال پرانی بات یاد دلاتی ہیں جب میں 1961ءمیں برلن گیا تو وہاں لاتعداد ہندوستانی، ایرانی، عرب اور افریقن اسٹوڈنٹ تھے وہاں صرف ایک پاکستانی طالبعلم اختر علی تھے جو الیکٹرونک پڑھ رہے تھے۔ ہم بہت جلد دوست ہوگئے اور ویک اینڈ پر اکثر پاکستانی کھانے پکاتے تھے۔ وہ بہت ذہین تھے اور دوسرے طلباء ان سے مدد حاصل کرتے تھے۔ ایک روز پاکستانیوں کے ہارڈ ورک کی باتیں ہونے لگیں تو بولے کہ میں پچھلے سال گھر (گجرات) گیا باتوں باتوں میں وہاں لوگ دوسرے لوگوں کے ہارڈورک کی تعریف کرنے لگے۔

میں نے کہا کہ ہاں! میں نے دیکھا ہے کہ لوگ دن بھر دھوپ میں بیٹھ کر ہتھوڑی اور چھیلنی سے سڑک کھود کر اس میں نالی بناتے ہیں اور اس کو تعریف سے ہارڈ ورک کہا جاتا ہے اس سے بھی زیادہ ہارڈ ورک ناخن سے سڑک کھودنا ہے۔ یہی حال موجودہ حکمرانوں کی کارکردگی کا ہے۔یہاں بڑے فخر سے دعوے کئے جارہے ہیں کہ نیویارک ٹائمز نے کشمیریوں پر ہندوستانیوں کے مظالم کی پول کھول دی ہے۔ آپ یہ کیوں بھول رہے ہیں کہ آپ کی خارجہ پالیسی بالکل فیل ہوگئی ہے، دنیا کا کوئی ملک آپ کی حمایت میں ایک لفظ نہیں بولتا۔ اگر دو چار صحافی آپ کی کشمیر پالسی کی حمایت میں دو چار مضامین لکھ دیں تو اس سے ہندوستان کی پالیسی میں کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ الٹا اثر یہ ہوا ہے کہ بے چارے کشمیریوں پر مزید ظلم و ستم ڈھائے جارہے ہیں اور روز ہمارے شہری اور جوان ہلاک ہورہے ہیں۔ بلوچستان کے واقعہ نے پوری دنیا میں ہمیں برباد کردیا۔ ہم اپنے شہریوں کی حفاظت نہیں کر سکتے اور ڈینگیں مارتے رہتے ہیں کہ ہم نےیہ کردیا ہم نے وہ کردیا۔ ہندوستان اور افغانستان سے ہم پر حملے ہوتے رہتے ہیں۔ ایوب خان کے زمانہ میں افغانوں نے ہمارے قونصلیٹ پر حملہ کیا تھا جنرل شیخ نے ایئر فورس سے کہہ کر سرحد کے قریب ان کے تمام اڈوں اور چوکیوں کی اینٹ سے اینٹ بجادی تھی۔ اب ہم ایٹمی قوت ہیں ہمارےپاس اعلیٰ ہوائی جہاز ہیں اور ہم یہ سب برداشت کر رہے ہیں جناب وزیراعظم آپ ہوائی جہاز یا ہیلی کاپٹر میں نہیں بیٹھے کہ Car plugsلگالیں۔ قوم مہنگائی، بے روزگاری، رشوت خوری، دہشت گردی سے مری جارہی ہے اورکسی کے کانوں پر جوں نہیں رینگ رہی۔ آپ تھرکول، ریکوڈک، براڈ شیٹ، چینی، آٹا، گندم، گھی وغیرہ پر کیوں خاموش ہیں۔ آپ کا دو ر خلیفہ ہارون الرشید کے دور کا ایک واقعہ یاد دلاتا ہے۔ ایک شاعر، بہت مشہور درباری شاعر، ابونواس نے کچھ پی کر باہر لوگوں کے سامنے ملکہ زبیدہ کے حسن کی اشعار میں بہت تعریف کرڈالی، ہارون الرشید کو علم ہوا تو اس نے ابونواس کو بلا بھیجا۔ ابونواس اب ہوش میں تھا اور اس کو اپنی جان خطرے میں نظر آئی۔ جب وہ خلیفہ کے پاس پہونچا تو اس نے کہا کہ کل مجمع میں کیا شاعری کررہے تھے۔ ابونواس فوراً بولا، (ترجمہ) رات کی بات کا مذکور ہی کیا۔ چھوڑیئے، رات گئی بات گئی۔

ہارون الرشید نے معاف کردیا۔ وزیراعظم آپ کو بھی اپنے رفیقوں ، مشیروں کے رویوں پر یہی پالیسی اختیار کرنا پڑے گی۔ڈھائی سال سے زیادہ عرصہ ہوگیا،نہ آپ نظام حکومت کی موشگافیاں سمجھ پائے ہیں اور نہ ہی مردم شناسی کے علم سے کچھ واقفیت حاصل کی ہے۔ آپ سے لوگ جھوٹ بولتے ہیں، دھوکہ دیتے ہیںاور آپ اس کو ہضم کرلیتے ہیں۔ اچھے نظام مملکت کے بارے میں 10برس سے ہم کہانیاں سُن رہے ہیں اور نتیجہ صفر ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے بارے زمین و آسمان کے قلابے ملائے جا رہے ہیں اور ان لوگوں کی کارکردگی اور اخلاقی پستی کے ثبوت اخبارت کی زینت بن چکے ہیں۔ خود کشیاں ہو چکی ہیں، بچیوں کو پریشان و مجبور کیا جاتا ہے۔ میں نے حقائق سے صدرمملکت کو تحریری طور پر مطلع کیا ہے مگر نتیجہ صفر ہے۔ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ حکومت نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔ آپ کے حمایت یافتہTVپر آپ کی میٹنگوں اور پریس کانفرنس پر واہ واہ کرتے ہیں وہ یہ کہنے کی جرأت نہیں رکھتے کہ ہفتہ وار میٹنگ یا پریس کانفرنس کے مثبت نتائج برآمدنہیں ہورہے۔ آپ کو کبھی مغربی ممالک میں یہ خودستائی کہیں نام کو نظر نہیں آتی۔ میں 15برس یورپ میں رہا ہوں اور دنیا کے لاتعداد ترقی یافتہ ممالک کی سیر کی ہے کہیں خودستائی نہیں دیکھی ۔ جہاں تک حکومت کرنے کا تعلق ہے یہ کام بہت مشکل ہے۔ غالباً جگر کا شعر ہے کہ:

یہ عشق نہیں آساں بس اتنا سمجھ لیجئے

ایک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کر جانا ہے

(نوٹ) براہ کرم سپاہیوں سے رائفل وغیرہ واپس لے لیں صرف ایک افسر جو ساتھ ہو اسکے پاس گن ہو ورنہ یہ معصوم لوگوں کا قتل عام جاری رہے گا!

source

Read Urdu column Waday hi Waday by Dr Abdul Qadeer khan

Leave A Reply

Your email address will not be published.