یہ بیکار ڈگریاں – علی معین نوازش

ali-moeen-nawazish

پاکستان میں عموماً ایک بات آپ کو ہر جگہ نظر آئے گی کہ تمام والدین کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ اپنے بچوں کو اچھی سے اچھی تعلیم دیں تاکہ وہ اپنا مستقبل بہتر بنا سکیں۔ پاکستان اور ایشیا کے بارے میں بالخصوص یہ تاثر عام ہے کہ یہاں کے والدین اور بچے تعلیم کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور اس خطے کے طلبہ بہت ذہین ہوتے ہیں۔ اس کی اہمیت یہاں سے بھی واضح ہوتی ہے کہ اگر کوئی بچہ پڑھ نہ رہا ہو تو اس کے سب گھر والے پریشانی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

تعلیم کی اس اہمیت کی بنیادی وجہ سوشل موبیلٹی ہے۔ سوشل موبیلٹی اس عمل کو کہتے ہیں جس کے باعث آپ ایک سوشل کلاس سے اٹھ کر بہتر سوشل کلاس میں داخل ہوتے ہیں۔ بہت سے کامیاب لوگ یہ بات فخریہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے محنت کرکے اور پڑھ لکھ کے اپنے آپ کو غربت سے نکالا۔ پہلے شاید یہ تاثر تھا کہ آپ نے اگر ڈگری حاصل کر لی تو آپ کو اچھی نوکری یا سرکاری ملازمت مل جائے گی جس سے آپ کی زندگی سیٹ ہو جائے گی لیکن اب یہ کام اتنا سیدھا نہیں رہا۔

کالم کے عنوان سے شاید آپ کو لگ رہا ہوگا کہ میں کہوں گا کہ آج کی دنیا میں اچھی تعلیم اور مارکس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اکثر طلبہ یہی سننا چاہتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج کی معیشت نالج اکانومی بنتی جا رہی ہے اور ان سب چیزوں کی اہمیت پہلے سے زیادہ ہو گئی ہے۔ جب میری طلبہ سے بات ہوتی ہے تو ان میں سے بہت سے لوگ بل گیٹس کی مثال دیتے ہیں کہ بل گیٹس نے یونیورسٹی کی ڈگری حاصل نہیں کی تھی لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ بل گیٹس ایک بہت ذہین اور لائق طالب علم تھا، اور بل گیٹس تو ایک شخص ہے لیکن باقی لوگ جو یونیورسٹی کی ڈگری حاصل نہیں کرتے، ان کے حالات کیسے ہیں، اس طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اچھے اداروں کی اچھی ڈگریاں آج بھی آپ کو کامیابی کے اتنا ہی قریب لے جاتی ہیں جتنا پہلے لے جاتی تھیں۔

مسئلہ تب شروع ہوتا ہے جب ڈگری کا ٹیگ ہولیکن اس ڈگری کا فائدہ کوئی نہ ہو۔ یہ وہ ڈگری ہوتی ہے جس میں نہ تو آپ کو کوئی اسکل (SKILL) کوئی ہنر سکھایا جاتا ہے اور نہ ہی آپ کی قابلیت پر کوئی واضح فرق پڑتا ہے۔ مجھے اکثر ایسے ڈگری یافتہ لوگ ملتے ہیں جو شاید دو سیدھے جملے بھی نہیں بنا سکتے۔ ان کا اصرار ہوتا ہے کہ ڈگری تو ہم نے لے لی ہے لیکن مارکیٹ میں نوکریاں ہی نہیں۔دوسری طرف بزنس مین مجھے یہ کہتے ملتے ہیں کہ ان کو اچھے لوگ ہی نہیں مل رہے جن کو وہ ملازمت پر رکھ سکیں۔ اس ڈس کنکشن کی وجہ غیر معیاری ڈگریاں ہیں۔

محض ڈگری کے حصول میں طالبعلم اور ان کے والدین ایسے اداروں کا بھی انتخاب کر لیتے ہیں جن کی ڈگری کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی اور اس کو حاصل کرنے کی وجہ سے ان کو ایسے ہنر یا اسکلز سیکھنے کو نہیں ملتے جن سے وہ پروفیشنل لائف میں کامیاب ہو سکیں۔ شاید اچھے ادارے کم ہیں اور ان میں میرٹ زیادہ ہوتا ہے اور ڈگری لینے کیلئے مجبوری میں لوگ اس طرح کے فیصلے کر لیتے ہیں۔ اس سے پیسوں کے زیاں اور وقت کے ضیاع کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ جب ان ڈگری یافتہ لوگوں کو بعد میں کوئی اچھی نوکری نہیں ملتی اور انہوں نے جو امیج بنایا ہوتا ہے، اس سے کم کام ملتا ہے تو یہ ان کیلئے بہت بڑا نفسیاتی بوجھ بھی بن جاتا ہے۔

بڑھتی ہوئی آبادی کیساتھ ساتھ اور اچھے اداروں کی کمی اور تعلیمی نظام کی ابتری کے باعث یہ مسئلہ آنے والے دنوں میں اور بڑھے گا۔ اس کے حل کیلئے ہمیں دو بہت اہم اقدام کرنا ہیں۔ سب سے پہلے ہمیں ڈگری کے بارے میں اپنا مائنڈ سیٹ بدلنا ہے۔ کامیابی کیلئے محض ڈگری نہیں بلکہ ایک اچھے ادارے سے اچھی ڈگری حاصل کرنا ضروری ہے۔ دوسرا یہ کہ ڈگری کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔ اس میں ٹیکنیکل اور ووکیشنل ٹریننگ سرفہرست ہے جس میں نہ صرف کم وقت اور کم پیسہ خرچ ہوتا ہے بلکہ اب حکومت کی طرف سے بھی بہت سارے مواقع دستیاب ہیں، جن کو استعمال کرکے پروفیشنل لائف میں داخل ہوا جا سکتا ہے۔ یہ ہمارے ملک کا ایک نظر انداز کردہ شعبہ ہے۔ دنیا میں کئی ترقی یافتہ ممالک مثلاً جرمنی میں ڈگری اور ٹیکنیکل ٹریننگ کو برابر کی اہمیت دی جاتی ہے لیکن افسوس !ہمارے ہاں ہنر کو ڈگری سے کمتر سمجھا جاتا ہے۔

اسی حوالے سے ایک اہم چیز کیریئر گائیڈنس بھی ہے۔ طلبہ ڈگری کی دوڑ میں کسی بھی پروگرام میں داخلہ لے لیتے ہیں، نہ تو انہیں پتا ہوتا ہے کہ اس فیلڈ کی کوئی ڈیمانڈ ہے یا نہیں اور نہ ہی انہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کا اس فیلڈ میں انٹرسٹ کتنا ہے۔ ہمیں کتنے ایم اے تاریخ، ادب یا زبانوں پر چاہئے ہوں گے جبکہ ہماری دو سب سے بڑی انڈسٹریز ٹیکسٹائل اور ایگریکلچر ہیں اور ان پر ہم سب سے کم گریجویٹ تیار کرتے ہیں۔ یہاں پر حکومت، ہائر ایجوکیشن کمیشن اور سرکاری تعلیمی اداروں کا کردار بہت اہم ہے۔ صحیح گائیڈنس سے ہی طالبعلم اپنے مستقبل کے بارے میں صحیح فیصلے کر سکیں گے۔

یہ اگرچہ اب بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جس کی طرف توجہ نہیں دی جا رہی مگر بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ یہ مسئلہ مزید بڑھتا جائے گا اور ہمارے بچے اسی طرح بیکار ڈگریوں کیلئے پیسے اور وقت برباد کرنے کے ساتھ اپنا سکون بھی غارت کرتے رہیں گے لیکن آخر میں حاصل کچھ نہیں کریں گے۔

Must Read Urdu column Yeh bekaar digrian By Ali Moeen Nawazish
Source: Jang

Leave A Reply

Your email address will not be published.