اب بندہ روئے یا ہنسے -روف کلاسرا

Rauf Klasra

قومی اسمبلی کے اندر ماحول گرم ہوتا جارہا ہے۔ تحریک انصاف کو خود کو حکمران سمجھنے میں کچھ وقت لگے گا۔ شاید اپوزیشن میں طویل عرصے تک رہنے کا ایک نفسیاتی اثر ہوتا ہے اور اس موڈ سے باہر نکلنے میں کچھ وقت لگتا ہے‘ لہٰذا ہر دوسرے روز وہاں حکومت کا کوئی نہ کوئی وزیر کھڑا ہو کر خوب غصے کا اظہار کر کے اپوزیشن کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے۔ وزارتوں کی تقسیم بھی کچھ اس طرح کی گئی ہے کہ پی ٹی آئی کے اپنے اندر بہت سے لوگ خوش نہیں ہیں۔ دھیرے دھیرے اس کا اثر اسمبلی کے اندر نظر آنا شروع ہوگیا ہے۔ پہلے کچھ دن تو اجلاس میں آپ کو رش نظر آتا تھا‘ لیکن اب جبکہ وزارتیں بٹ چکی ہیں تو ایم این ایز غائب ہونا شروع ہوگئے ہیں‘ لیکن ایک بات وہی پرانی ہے کہ ہاؤس میں موجود تو اسی نوے ایم این ایز بھی نہیں ہوتے ‘لیکن حاضری ڈھائی سو ایم این ایز کی لگی ہوتی ہے۔ پانچ ہزار روپے الاؤنس کے لیے یہ لوگ اپنا ایمان بیچ رہے ہوتے ہیں۔ بیٹھے سینکروں میل دور ہیں‘ لیکن اسمبلی میں ان کی حاضریاں لگی ہوئی ہیں۔ یوں نئی اسمبلی نے وہیں سے فراڈ اور دھوکے کا کام شروع کیا ہے جہاں پچھلی اسمبلی کو ایاز صادق چھوڑ کر گئے تھے۔ اب اگر آپ چاہتے ہیں کہ اسمبلی میں ایم این ایز موجود ہوں تو انہیں کھلی اجازت دینی ہوگی کہ وہ جس دن ہاؤس میں نہیں آئیں گے ان کی جعلی حاضری لگتی رہے گی اور پانچ ہزار روپے کا چیک ملتا رہے گا ۔ پارلیمنٹ کے ملازمین کے لیے تو بائیومیٹرک سسٹم ہے ‘لیکن ایم این ایز کے لیے اب بھی رجسٹر حاضری رکھا ہوا ہے۔ جو پانچ ہزار روپے کے لیے اپنا ایمان بیچ رہے ہیں‘ ان سے ہم نے کیسے کیسے انقلاب کی امیدیں لگا رکھی ہیں۔
دوسری طرف پیپلز پارٹی نے ایک نئی مہم چلا دی ہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین شہباز شریف کو ہونا چاہیے۔ پہلے سینیٹر شیری رحمن نے ٹی وی شو میں ڈٹ کر کہا تھا کہ اپوزیشن کو یہ چیئر مین شپ ملنی چاہیے کیونکہ دو ہزار آٹھ کے بعد ان کی حکومت نے وہ سیٹ اپوزیشن کو دی تھی۔ یہ کوئی قانونی معاہدہ نہیں تھا‘ بلکہ ایک انڈرسٹینڈنگ تھی جو بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان لندن میں دو ہزار چھ میں طے پائی تھی۔ اس میثاق جمہوریت میں اور بھی بہت کچھ طے ہوا تھا۔ جیسے ‘ یہ کہا گیا تھا کہ بے نظیربھٹو اور ان کی پارٹی اور نواز شریف حکومت بننے کی شکل میں کسی سرونگ جنرل سے ملاقاتیں نہیں کریں گے۔ بے نظیر بھٹو یہ معاہدہ کرنے کے بعد سیدھی دبئی پہنچیں اور انہوں نے جنرل مشرف سے خفیہ ملاقات کی جس میں انہوں نے این آر او ڈیل کی‘جبکہ دو ہزار سات میں وطن واپسی پر نواز شریف نے پیپلز پارٹی کی حکومت بنتے ہی سب سے پہلے چوہدری نثار علی خان اور شہباز شریف کو جی ایچ کیو بھیجا کہ وہ جا کر جرنیلوں سے ملاقاتوں کے سلسلے کو دوبارہ وہیں سے جوڑیں جہاں دس برس پہلے ٹوٹا تھا ۔ جنرل کیانی صاحب نے جی ایچ کیو میں درجنوں خفیہ ملاقاتیں چوہدری نثار اور شہباز شریف سے کیں۔ یہ سب کچھ میثاقِ جمہوریت کے بعد ہورہا تھا اور ان ملاقاتوں کا اس وقت کی گیلانی حکومت کو علم نہ تھا؛ تاہم انہوںنے ایک کام ضرور کیا۔ میثاقِ جمہوریت میں یہ لکھا ہوا تھا کہ پی اے سی کی چیئرمین شپ اپوزیشن کو ملے گی اور وہ چوہدری نثار علی خان کو دی گئی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ چوہدری نثار اور پیپلز پارٹی حکومت کے درمیان تعلقات اچھے نہ تھے اور چوہدری نثار نے ڈٹ کر کمیٹی چلائی لیکن جہاں چوہدری صاحب کے پر جلتے تھے‘ وہ جلے۔ چوہدری نثار علی خان حکومت وقت کے بارے میں تو سخت رویہ اپنائے ہوئے تھے‘ لیکن انہوں نے اپنی پارٹی کے لیڈروں کے سکینڈلز کو نظر انداز کیا۔ ان میں ایم این اے انجم عقیل خان سرفہرست تھے‘ جنہوں نے نیشنل پولیس فاؤنڈیشن کے چار ارب روپے لوٹ لیے تھے۔ چوہدری نثار صاحب نے باقی سکینڈلز پر تو سوئوموٹولیے لیکن انجم عقیل کا بھول کر بھی نام نہ لیا ‘ بلکہ جب بعد میں چوہدری نثار وزیرداخلہ بنے تو وہی انجم عقیل ان کے اردگرد نظر آتے تھے۔ اسی طرح جب پی اے سی کے سامنے ایک اہم ادارے کا چار ارب روپے کا سکینڈل لایا گیا اوراس میں کچھ ریٹائرڈ جنرلز کا بھی نام آیا تو چوہدری نثار نے اس پر بھی ہاتھ ہولا رکھا ۔ انکوائری رپورٹ عام کرنے کی بجائے اس رپورٹ کو اپنے پاس گھر رکھ لیا اور آج تک اس رپورٹ کا نہیں پتہ کہ اس میں کیا لکھا ہوا تھا۔ ایک دن کہا کہ وہ اس انکوائری رپورٹ پر ایکشن لیں گے‘ لیکن اگلے دن ہی وہ اس دعوے سے مکر گئے اور کہا: جی ایچ کیو اس پر ایکشن لے گا۔
اس سے ثابت ہوگیا کہ جب چوہدری نثار جیسا بندہ بھی اپنی پارٹی کے کرپٹ لیڈروں کے ہاتھوں مجبور ہوجاتا ہے اور انہیں کچھ نہیں کہتا تو پھر اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ موجودہ پی اے سی اگر شہباز شریف کو دی جاتی ہے تو اس کا کیا حشر ہوگا۔ چوہدری نثار کے بعد جس طرح کا حشر خورشید شاہ نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا کیا اس سے تو ہم باقاعدہ ڈر گئے ہیں کہ اگر شہباز شریف کو یہ کمیٹی دی گئی تو پھر کیا ہو گا۔ خورشید شاہ صاحب کے دور میں پی اے سی کا رہا سہا دبائو اور اثر بھی ختم ہو کر رہ گیا تھا۔ ہر کسی کو کلین چٹ دے دی گئی۔ اور تو اور چار سو اسی ارب روپے کی آڈٹ رپورٹ کو بھی سیٹل کردیا گیا۔ اس رپورٹ کو بنانے میں اس وقت کے آڈیٹر جنرل بلند اختر رانا کو اپنی نوکری کی قربانی دینا پڑ گئی تھی۔ یہ وہ چار سو اسی ارب روپے تھے جو اسحاق ڈار نے ایک دن میں آئی پی پیز کو ادا کرائے تھے۔ بلوں کی فوٹو کاپی پر یہ ادائیگیاں کی گئی تھیں ‘اور ان بلوں کا پری آڈٹ بھی نہیں ہونے دیا گیا تھا۔ سٹیٹ بینک سے براہ راست یہ ادائیگیاں کرائی گئیں‘ جبکہ بائیس ارب روپے کا وہ جرمانہ بھی ان آئی پی پیز کو معاف کر دیا گیا‘ جو انہوں نے حکومت پاکستان کو ادا کرنا تھا‘ جبکہ بتیس ارب روپے آئی پی پیز کا جرمانہ ادا کیا گیا۔ ان تمام رپورٹس کو خورشید شاہ صاحب نے ہی سیٹل کیا تھا۔
پی اے سی ایک بہت اہم ادارہ ہے‘ اگرا سے اچھی طرح چلایا جائے۔ اس میں چالیس کے قریب فیڈرل سیکرٹریز پیش ہوتے ہیں۔ وہ سب چیئرمین پی اے سی کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ اگر آپ کسی ایسے بندے کو سربراہ بناتے ہیں‘ جو پہلے ہی نیب میں مقدمات بھگت رہا ہے‘ پیش ہوچکا ہے اور جس پر کرپشن کے سنگین الزامات ہیں‘ تو پھر آپ ہی بتائیں کہ اس کے پاس کیسے مورل اتھارٹی ہوگی کہ وہ ان کا احتساب کرسکے۔ الٹا آڈیٹر جنرل آف پاکستان اور بیوروکریسی اس چیئرمین کے نیچے لگی ہوتی ہے۔ وہ چیئرمین کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں لہٰذا بیوروکریسی اور آڈیٹر جنرل آفس چیئرمین پی اے سی کو خوش کرنے کے لیے ہر حد تک جانے کو تیار ہوتے ہیں۔ اب یہی دیکھ لیں کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان بلند اختر راناوہ پہلے بندے تھے جنہوں نے اس وقت اعتراض کیا تھا کہ خورشید شاہ کے چیئرمین ہونے سے پیپلز پارٹی کی پانچ سالہ کرپشن کی تمام آڈٹ رپورٹس سیٹل ہوجائیں گی‘ اور ان کے ادارے کی طرف سے کی گئی سب محنت غارت جائے گی۔ بلند اختر رانا نے تو پی اے سی میں پیش ہونے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ جس حکومت اور وزارتوں اور وزیروں کے خلاف رپورٹس بنا کر کمیٹی میں لائے تھے‘ وہ اب اس کمیٹی کے سربراہ لگے بیٹھے ہیں۔ اس پر خورشید شاہ نے بلند اختر رانا کے خلاف کارروائی شروع کر دی اور تحریک انصاف کے ہی کمیٹی کے رکن عارف علوی کو انکوائری افسر لگا دیا کہ پتہ کرو آڈیٹر جنرل نے کیسے اپنی تنخواہ پچیس ہزار روپے بڑھا دی تھی۔ اس پچیس ہزار روپے کے الزام میں عارف علوی صاحب کے کندھے استعمال کرتے ہوئے خورشید شاہ اور اسحاق ڈار نے اپنا غصہ نکالا‘ ایک ریفرنس بنا کر سپریم کورٹ کو بھیج دیا گیا اور سپریم کورٹ نے بلند اختر رانا کو فارغ کردیا۔ یوں جس آڈیٹر جنرل نے چار سو اسی ارب روپے کا آڈٹ اسحاق ڈار کے خلاف کیا‘ اسے سزا ملی‘جبکہ خورشید شاہ نے بیٹھ کر سب کرپشن سیٹل کر دی ۔
پچھلے پانچ سال نواز لیگ کی حکومت رہی ہے اور سب رپورٹس جو پی اے سی میں آرہی ہیں وہ نواز شریف اور ان کے وزراء کی کرپشن کے بارے میں ہیں۔ اب شہباز شریف پی اے سی کے چیئرمین بننا چاہتے ہیں تاکہ وہ انصاف کا بولا بالا کر سکیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ شہباز شریف سے زیادہ انہیں چیئرمین پی اے سی بنانے کا مقدمہ اور کوئی نہیں بلاول زرداری لڑ رہے ہیں ۔ وہی شہباز شریف جنہوں نے بلاول کے پاپا کا پیٹ پھاڑ کر سوئس بینکوں میں رکھی گئی حرام اور کرپشن سے اکٹھی کی گئی دولت نکلوانی اور لاہور کی سڑکوں پر گھسیٹنا تھا ۔ اب بتائیں بندہ ہنسے یا روئے!

Source: dunya news

Must Read Urdu column Ab bandah roay ya hansay By Rauf Klasra

Leave A Reply

Your email address will not be published.