اپنے اپنے جتھے …اپنے اپنے نعرے – روف کلاسرا

اسلام آباد پھر دھرنوں کی زد میں ہے ۔ میرے اینکر دوست رحمن اظہر نے کہا:چلیں شہر کے ہنگاموں سے دور مارگلہ کی پہاڑیوں پر ہائکنگ کرتے ہیں۔ کہنے لگا:اب میں نے ان دھرنوں پہ حیران ہونا چھوڑ دیا ہے ‘ اب ان میں کوئی کشش یا نئی بات نہیں رہی‘ یہی دیکھ لو پچھلی دہائی میں ہر دو سال بعد ایک دھرنا یا لانگ مارچ اسلام آباد ضرور پہنچا ہے ۔ رحمن اظہر نے بتایا کہ اس نے پہلا دھرنا وہ کور کیا تھا جب نواز شریف نے ججوں کی بحالی کے نام پر لاہور سے لانگ مارچ شروع کیا تھا۔ اسے یوں لگا جیسے اب پاکستان بدل جائے گا۔ اس نے اتنے لوگ پہلی دفعہ سڑکوں پر اکٹھے دیکھے تھے ‘جو جذبے اور جوش سے بھرے نعرے لگا رہے تھے ۔ رحمن اظہر کو وہ سب جوش اپنے اندر محسوس ہوا۔ وہ نیا نیا فیصل آباد سے آکر لاہور دنیا ٹی وی میں رپورٹنگ کی جاب کر رہا تھا۔ اس کیلئے یہ بڑی بات تھی کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ باہر نکل آئے جو جنرل مشرف کے ہاتھوں برطرف ہونے والے چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی چاہتے تھے ۔ یہ پہلی تحریک تھی جو اس ملک کے ججوں کی بحالی کیلئے برپا کی گئی ۔

ماضی میں ججوں کے حوالے سے عام لوگوں میں زیادہ احترام نہیں تھا‘ خصوصاً جب سے بھٹو کو پھانسی اور جنرل ضیا کا مارشل لاء جائز قرار دیا گیا تھا۔پھر 1990 ء کی دہائی میں جس طرح سیاسی حکومتیں توڑی گئیں اور عدالتوں نے انہیں بحال نہیں کیا (ماسوائے نواز شریف کی پہلی حکومت کے ) اس سے بھی لوگوں کا اعتبار کم ہوا ۔ اعتزاز احسن نے بھی کئی دفعہ یہ بات کی تھی کہ ایک ہی طرح کی صورتحال میں بینظیر بھٹو کی حکومت بحال نہ کی گئی‘ جبکہ نواز شریف کو بحال کیا گیا ۔ مطلب اس وقت کی عدالتیں آزاد نہ تھیں اور کسی دبائو میں کوئی وزیراعظم بحال ہوجاتا تو کوئی گھر جاتا۔ رہی سہی کسر اس وقت پوری ہوگئی جب جنرل مشرف کے مارشل لاء کو نہ صرف جائز قرار دیا گیا بلکہ اسے یہ بھی حق دیا گیا کہ وہ آئین میں مرضی کی تبدیلیاں کر لیں۔ اس لیے جب عوام کی ایک بڑی تعداد ججوں کے حق میں باہر نکلی تو بہت سے لوگوں کو لگا کہ پورا پاکستانی معاشرہ اب بدل رہا ہے ۔ لوگوں کا جوش و خروش بھی کچھ اور تھا‘ لوگ برسوں کا غصہ نکالنا چاہتے تھے اور یہ بھی چاہتے تھے کہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی ہو ۔ لوگ اس لیے بھی باہر نکلے تھے کہ بینظیر بھٹو اور نواز شریف ملک چھوڑ گئے تھے اور جنرل مشرف کو مزاحمت کرنے کے لیے کوئی نہ تھا‘ یوں جب چیف جسٹس چوہدری نے جنرل مشرف کو” ناں‘‘ کی تو وہ مزاحمت کا نشان بن کر ابھرے ۔ لوگوں کو لگا کہ کوئی تو ہے جو مشرف کے آ گے ڈٹ گیا ہے۔ یوں لوگ افتخار محمد چوہدری کے پیچھے چل پڑے‘ حالانکہ وہی افتخار چوہدری جنرل مشرف کی مہربانی سے چیف جسٹس بنے تھے اور ان کے قریبی سمجھے جاتے تھے ۔ رحمن اظہر کا کہنا تھا کہ جب اس نے لوگوں کو سڑکوں پر دیکھا تو اسے لگا کہ اب پاکستان بدل رہا ہے۔ جس انقلاب کی باتیں اس نے بزرگوں سے سنی تھیں یا انقلاب فرانس کی کہانیاں پڑھی تھیں‘ وہ انقلاب اب دروازے پر دستک دے رہا ہے۔
میں جہاں مارگلہ پہاڑیوں کے درمیان پتھروں پر چلنے کی کوشش کررہا تھا ‘وہیں رحمن اظہر کی ان باتوں کو بھی غور سے سن رہا تھا کہ ایک نوجوان جب پہلے دھرنے یا لانگ مارچ کو کور کرنے نکلا تو اس کے کیا جذبات تھے ؟اب میں اس بات میں زیادہ دلچسپی رکھتا تھاکہ ان دس برسوں میں رحمن اظہر کے اندر دھرنوں یا لانگ مارچ کے حوالے سے وہ جذبہ کیوں نہیں رہا ؟ ان دس برسوں میں کیا ہواہے کہ اس وقت جب اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمن دھرنا دیے بیٹھے ہیں‘ رحمن اظہر میرے ساتھ مارگلہ ہلز پر دو تین گھنٹے کی ہائکنگ کا پلان بنا رہا ہے تا کہ مونال اور پیر سوہاہ پہنچ کر کسی کیفے پہ بیٹھ کے اسلام آباد کو دیکھا جائے‘ چاروں طرف پھیلی بے پناہ خوبصورتی کو انجوائے کیا جائے اور ڈھلتی شام کی خنکی میں کافی پی جائے ۔

رحمن اظہر کہہ رہا تھا کہ اس کے بعد طاہر القادری لانگ مارچ اسلام آباد لائے تو اس وقت تک اُسے اندازہ ہوچکا تھا کہ لانگ مارچ کے پیچھے کچھ اور قوتیں ہوتی ہیں‘ پس پردہ کچھ اور کھلاڑی ہوتے ہیں جن کے عوام کو استعمال کرنے کے کچھ اور مقاصد ہوتے ہیں‘ لیکن پھر بھی رحمن اظہر کا خیال تھا کہ مولانا قادری اس انقلاب کو پورا کرنے آرہے تھے‘ جو شاید پچھلے لانگ مارچ میں ادھورا رہ گیا ۔ رحمن اظہر پھر فیلڈ میں موجود تھا اور طاہرالقادری کے دھرنے کو کور کررہا تھا۔ نواز شریف کے لانگ مارچ کا اپنا ہجوم تھا تو قادری صاحب کے کارواں کے لوگ کچھ اور تھے ۔ وہی ہوا کچھ دن قادری صاحب نے خوب سماں باندھا‘ تقریروں نے رنگ جمایا ہوا تھا‘ ہر کوئی ٹی وی سکرین کے آگے بیٹھا ہوا تھا اور قادری صاحب کی لفاظی عروج پہ تھی۔ مولانا نے بھی پھر وہی روٹ لیا اور کچھ دن بعد ڈیل کر کے لوٹ گئے ۔ رحمن اظہر کو پہلی دفعہ جھٹکا لگا اور وہ سوچنے پر مجبور ہوا کہ دھرنے اور لانگ مارچ کی کہانی کچھ اور ہے۔ جو سامنے نظر آتا ہے اس کے پیچھے کچھ اور ہے ۔ یوں رحمن اظہر کا رومانس کم ہونا شروع ہوا‘ لیکن ابھی بھی یہ سب ختم نہیں ہوا تھا۔ ایک نوجوان آدمی کا رومانس اور خواب اتنی جلدی ختم نہیں ہوتے ۔ اس لیے جب عمران خان اپنا جلوس لے کر اسلام آباد پر چڑھ دوڑے تو اس وقت تک رحمن اظہر کو سمجھ آچکی تھی کہ اس نے زیادہ بیقرار یا آئیڈیلزم کا شکار نہیں ہونا۔ اس نے ایک رپورٹر کی حیثیت سے رپورٹ کرنا تھا‘ تاہم اس کو اس دفعہ نئی بات نظر آئی تو اُسے پھر یوں لگا کہ شاید وہ انقلاب سے جلدی مایوس ہوگیا ہے‘ ورنہ ابھی چنگاری راکھ میں موجود تھی۔ دھرنے میں بچوں اور عورتوں کی شمولیت نے یہ امیدیں جگا دی تھیں کہ اس دفعہ نئی چیزیں ہورہی ہیں۔ یوں ایک سو چھبیس دن تک ایک نیا سیاسی سرکس لگا رہا اور پورا ملک یہی سمجھے بیٹھا تھا کہ عمران خان نواز شریف سے استعفیٰ لیے بغیر نہیں جائیں گے ۔ اتنی دیر تک مولانا قادری بھی پیچھے پہنچ گئے اور یوں پھر وہی ہوا جو ہوتا آیا ہے ۔ ان دھرنوں سے کچھ نہ نکلا۔ نہ نواز شریف کی حکومت گری اور نہ ہی عمران خان وزیراعظم ہاؤس کو خالی کرا سکے ۔ ہاں یہ ضرور ہوا کہ اس دوران درجن بھر لوگ ہنگاموں میں مارے گئے ‘ سو سے زائد زخمی ہوئے ‘ دھرنے پر گولی چلی‘ آنسو گیس اور لاٹھی چارج میں عوام نے مار کھائی۔ آخر وہ دھرنا بھی اپنے نتائج حاصل کیے بغیر ختم ہوگیا۔

اب رحمن اظہر کو اس حد تک مولانا فضل الرحمن کے دھرنے سے دلچسپی ضرور ہے کہ وہ ایک صحافی ہے ‘ اسے سب حالات سے خود کو باخبر رکھنا ہے ‘لیکن وہ اس دھرنے سے کوئی بڑی تبدیلی نہیں دیکھ رہا‘ کیونکہ پچھلے دس برسوں میں وہ ہر سیاسی اور مذہبی جماعت کے دھرنے دیکھ چکا ہے ‘ رہی سہی کسر اب مولانا کے دھرنے نے پوری کر دی ہے ۔ سوال وہی ہے کہ اگر عمران خان تمام تر طاقت اور قوتوں کی تمام تر حمایت کے باوجود نواز شریف سے استعفیٰ نہیں لے سکے تو مولانا‘ جنہیں ایسی قوتوں کی حمایت حاصل نہیں ‘وہ کیسے کر پائیں گے ؟ میں نے کہا: رحمن اظہر یہ بات اگر ہم سمجھ رہے ہیں کہ ایسے استعفیٰ کوئی نہیں دیتا تو کیا مولانا جیسا زیرک بندہ نہیں جانتا؟ یا پھر یہ سب دھرنے کچھ قوتیں اس لیے کراتی ہیں کہ حکومت سے کچھ مرضی کی باتیں منوائی جا سکیں اور اس کام کے لیے کچھ لوگوں کو Rent a Crowd کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ؟ نواز شریف سے کر طاہرالقادری‘ عمران خان اور اب مولاناتک‘ سب یہی کرتے آئے ہیں۔ ہجوم کو ایک بڑا مقصد دے کر لایا جاتا ہے‘ کبھی عدالتوں کو آزاد کرانے کا‘ کبھی ملکی نظام ٹھیک کرانے کا اور کبھی اسلام کا بول بالا کرنے کا نعرہ دے کر۔ وہ جو کل دھرنے دیتے تھے وہ آج وزیراعظم ہاؤس میں ہیں‘ جن کے خلاف دھرنے ہوتے تھے وہ مولانا کے ساتھ کنٹینر پر چڑھے ہوئے ہیں‘ تاکہ وزیراعظم ہاؤس پر دوبارہ قابض ہوں۔ یہ وہ سرکس ہے جس کے دائرے میں ہم سب گھوم رہے ہیں۔ اقتدار کا کھیل ہے جو بڑے لوگ کھیلتے ہیں اور عوام کو اس انقلاب کے باردو کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔
سب کے اپنے اپنے جتھے اور اپنے اپنے نعرے … منزل اقتدار ۔

Source: dunya news

Must Read Urdu column Apnay apnay jathay apnay apnay naaray By Rauf Klasra

Leave A Reply

Your email address will not be published.