بے ادبی کا میلہ – حامد میر

hamid-mir

بے ادبی اور گستاخی میں ایک معمولی سا فرق ہے۔ یہ فرق مجھے لاہور میں منعقد ہونے والے پاکستان لٹریچر فیسٹیول میں سمجھ آیا۔ یہاں ہمارے بزرگ اہل فکر و دانش حکمرانوں کے بارے میں ہلکی پھلکی بے ادبی کرتے رہے لیکن نوجوان گستاخیوں پر اترے ہوئے تھے۔

اس ادبی میلے میں ایک طرف تو نئی اور پرانی نسل میں مکالمہ چل رہا تھا اور دوسری طرف مایوسی کے مقابلے میں امید بھی کھڑی نظر آئی۔ تین دن کے اس میلے میں محمد احمد شاہ اور ان کی ٹیم نے ادب، ثقافت، آرٹ اور موسیقی کو الحمرا آرٹس کونسل میں یکجا کردیا تھا اور میں یہ سوچتا ہوا اسلام آباد کو لوٹا کہ جس ملک میں اتنا اچھا ادب تخلیق ہو رہا ہے وہاں اچھی معیشت کیوں تخلیق نہ ہو سکی؟۔

اس ادبی میلے کے افتتاحی اجلاس میں ہمیں امجد اسلام امجد صاحب کےساتھ بیٹھنا تھا۔ 10 فروری کو جمعہ کے دن اجلاس میں پہنچے تو امجد اسلام امجد صاحب کی وفات کا پتہ چلا جس نے سب کو اداس کردیا۔ اجلاس میں امجد صاحب کی کرسی کو خالی رکھاگیا اور انور مقصود صاحب نے اپنے کلیدی خطبے میں اپنے دوست کی جدائی کے دکھ کو امید کی طاقت میں بدل دیا۔ انور مقصود صاحب کی باتوں نے اس ادبی میلے کا ایک رخ متعین کردیا۔ حکمرانوں پر ان کے طنز میں مسلسل بے ادبی نظر آئی اور نوجوانوں کی تالیوں کی گونج میں گستاخی بڑھتی گئی۔ انور مقصود نے کہا کہ حکومت کہتی ہے وہ ترکی اور شام کے زلزلے میں دبے لوگوں کے ساتھ کھڑی ہے لیکن پاکستان میں مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کے سامنے بیٹھی ہوئی ہے۔ آگے چل کر فرمایا کہ میں نے ہمیشہ اپنے کپڑے خود ہی اتارے ہیں لیکن جب لاہور آ رہا تھا تو خدشہ ہوا کہ یہاں تو کوئی اور ہی میرے کپڑے اتارے گا کیونکہ پنجاب پولیس کو بزرگوں کے کپڑے اتارنے کا بہت شوق ہے۔ اس جملے پر تالیوں کی گونج غیر معمولی تھی اور مجھے محسوس ہوا کہ ’’پنجاب پولیس‘‘ کو ایک استعارے کے طور پر استعمال کیا گیا۔ سامعین کو سمجھ آ چکی تھی کہ بزرگ مزاح نگار کا اشارہ ان کی طرف ہے جنہیں اپنی عزت و احترام قائم رکھنے کے لئے نئے نئے قوانین کی ضرورت پڑ رہی ہے۔

اس ادبی میلے میں نوجوان ہجوم در ہجوم شامل ہوئے۔ میں نے بہت سے نوجوانوں سے باتیں کیں اور ان کی باتیں سنیں۔ کچھ نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں مایوس تھے لیکن حیرت انگیز طور پر اکثریت بڑی پرامید تھی۔ پہلے تو یہ احساس ہوا کہ نوجوانوں کے پاس امید قائم رکھنے کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں لیکن پھر ایک پی ایچ ڈی خاتون سے ملاقات ہوئی۔ نوجوان خاتون نے گود میں اپنا بچہ اٹھا رکھا تھا اور بتا رہی تھیں کہ میں فرانس میں بہت اچھی جاب کر رہی تھی میرے بچوں کو وہاں کی شہریت بھی مل سکتی تھی لیکن میں پاکستان واپس آ گئی ہوں تاکہ جو فرانس میں سیکھا ہے اسے پاکستان میں آزمائوں۔ میں نے محسوس کیا کہ جو نوجوان کتابوں کے سٹالوں کے آس پاس موجود تھے اور کتابیں خرید رہے تھے ان کی سوچ بڑی دو ٹوک اور شفاف تھی لیکن جو صرف گھوم پھر رہے تھے وہ کنفیوز بھی تھے اور مایوس بھی تھے۔ جتنا رش گلوکار علی ظفر کے میوزک کنسرٹ، اداکار شان کے ساتھ ہونے والی گفتگو اور سہیل احمد (عزیزی) کے ساتھ منائی گئی شام میں تھا اتنا ہی رش الطاف حسن قریشی، عاصمہ شیرازی، عرفان صدیقی، فتح محمد ملک، ڈاکٹر شاہد صدیقی، احمد سلیم، عرفان جاوید اور فواد حسن فواد کی کتابوں کی تقاریب رونمائی میں بھی تھا۔ بھگت سنگھ پر مستنصر حسین تارڑ کی کتاب ’’میں بھناں دلّی دے کنگرے‘‘ کی مقبولیت دیکھ کر اندازہ ہوا کہ نوجوان پنجابی ادب کی طرف واپس لوٹ رہے ہیں۔ ان کا ہیرو ایک گستاخ باغی ہے۔

فواد حسن فواد کی کتاب ’’کنج قفس‘‘ پر مجھے بھی کچھ کہنے کا موقع ملا۔ فواد صاحب نے یہ کتاب عمران خان کے دور حکومت میں قید کے دوران لکھی تھی۔ اس کتاب میں ان کی غزلوں اور نظموں کو پڑھ کر پاکستان کے نظام انصاف پر رونا آتا ہے۔ فواد حسن فواد گریڈ بائیس کے سرکاری افسر تھے۔ عمران خان کی حکومت میں انہیں نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف وعدہ معاف گواہ بنانے کی کوشش کی گئی لیکن انہوں نےانکار کردیا۔ عدالتوں میں ان کے خلاف کوئی ثبوت پیش نہ کیا گیا لیکن اس کے باوجود وہ ایک طویل عرصہ پابند سلاسل رہے اور ’’کنج قفس‘‘ میں بیٹھ کر یہ صدا دیتے رہے:

تمہارے عہد کو عہد عذاب لکھوں گا

مرا یہ عزم ہے عالی جناب لکھوں گا

فواد حسن فواد نے اپنی شاعری میں ایک ’’امیرِ شہر‘‘ کو بار بار للکارا ہے۔ یہ ’’امیرِ شہر‘‘ کوئی فرد نہیں بلکہ ایک اندازِ فکر ہے اور یہ اندازِ فکر ان کا ہے جو وطن عزیز کے اصل حکمران ہیں۔ ان اصل حکمرانوں سے گزارش ہے کہ ہوش کے ناخن لیں۔ پاکستان کے آئین سے مت کھیلیں۔ آج وہ سب نہ کریں جو کل فواد حسن فواد کے ساتھ ہوتا رہا۔ ’’کنج قفس‘‘ میں فواد حسن فواد کی ایک وارننگ دراصل پاکستان کے ان نوجوانوں کے دلوں کی ترجمانی کرتی ہے جو کسی ایک جماعت کے ساتھ نہیں صرف پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں اور بے ادبی سے گستاخی کی طرف بڑھ رہے ہیں:

کڑی تھی دھوپ مگر اب تو شام ہونے کو ہے

یہ ظلم و جبر کا موسم تمام ہونے کو ہے

ترے فراق کے موسم بھی ختم ہونے کو ہیں

طویل رات کا بھی اختتام ہونے کو ہے

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس

ایپ رائےدیں00923004647998)

Source: Jung

Must Read Urdu Column Bay Adbi ka Maila by Hamid Mir

Leave A Reply

Your email address will not be published.