’’’’بھر دے جھولی‘‘‘‘- حامد میر

hamid-mir

رمضان المبارک کے آخری عشرے میں مکتہ المکرمہ میں حج جیسا رش ہوتا ہے۔ اس رش کے باعث نمازِ مغرب کے بعد عام زائرین کو مسجد الحرام میں داخل نہیں ہونے دیا جاتا۔ عورتیں حرم میں داخل ہوسکتی ہیں البتہ مردوں نے احرام نہ باندھا ہو تو پھر انہیں مسجد کی حدود سے باہر نماز ادا کرنا پڑتی ہے۔ میں دن کے وقت عمرہ ادا کرکے تھکاوٹ سے چور تھا لیکن والدہ مرحومہ کے نام کا عمرہ ادا کرنے کی خواہش ابھی باقی تھی۔ مسجد الحرام میں اللہ تعالیٰ کے گھر کے سامنے روزہ افطار کرنے کی تمنا بھی تھی لہٰذا فیصلہ کیا کہ اضافی عمرے کی نیت(میقات) مسجدہ عائشہؓ سے کی جائے۔ احرام کی وجہ سے حرم میں داخل تو ہوگئے لیکن افطار کا سامان نہ خریدا جاسکا۔ افطار سے چند منٹ قبل حرم میں داخل ہوا تو ایک برقعہ پوش خاتون نے چند کھجوریں میرے ہاتھ پر رکھ دیں، کسی نے پانی دے دیا، کسی نے جوس کا ڈبہ پکڑا دیا۔ لوگ عصر کے بعد نماز مغرب کے لئے صفوں میں جا بیٹھتے ہیں تاکہ کعبہ شریف کے سامنے نماز ادا کرنے کی سعادت مل جائے۔ ایک صف میں مجھے بھی جگہ مل گئی۔ یہاں تک پہنچ جانے والے اپنے آپ کو اللہ اور اس کے رسولؐ کا مہمان سمجھتے ہیں اور افطار کے وقت اپنی کم دوسروں کی فکر زیادہ کرتے ہیں۔ اس سال رمضان المبارک کے آغاز سے قبل دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ عمرہ ادا کیا جائے۔ معلومات حاصل کی گئیں تو بتایا گیا کہ بہت تاخیر ہوچکی ہے، رمضان میں رش زیادہ ہوتا ہے اس لئے تمام انتظامات دو تین ماہ قبل کئے جاتے ہیں۔ سوچا کہ اگلے رمضان سے پہلے کوشش کروں گا لیکن اس رمضان کے وسط میں ایک دن سعودی وزارت اعلام کی طرف سے رابطہ کرکے بتایا گیا کہ ماہ مئی کے آخر میں اسلامی ممالک کے سربراہان کا اہم اجلاس سعودی عرب میں ہوگا اور مجھے اس اجلاس میں بطور مبصر شرکت کی دعوت دی گئی۔ اجلاس کی انفرادیت یہ تھی کہ اسلامی ممالک کے سربراہوں کو مکتہ المکرمہ میں اکٹھا کیا جارہا تھا۔ مجھے ایسا لگا کہ یہ بلاوا کہیں اور سے آیا ہے اور چند دن کے بعد میں اللہ کے گھر کے سامنے بیٹھا روزہ افطار کررہا تھا۔

افطار کے بعد نماز شروع ہوئی تو تھکاوٹ اور بے خوابی کے باوجود طبیعت پر سکون اور طمانیت غالب تھی۔ میرے اردگرد بہت سی عورتیں مردوں کے شانہ بشانہ نماز ادا کررہی تھیں۔ کسی نے ہاتھ سینے پر باندھ رکھے تھے، کسی کے ہاتھ کھلے تھے، کوئی گورا تھا، کوئی کالا۔ زبان، رنگ اور نسل کی تمیز کے بغیر سب مسلمان بارگاہ الٰہی میں سرجھکائے کھڑے تھے۔ میرے بالکل آگے ایک عورت اپنے شیر خوار بچے کے ہمراہ نماز ادا کررہی تھی۔ بچہ رو رہا تھا، یہ عورت روتے بچے کو اٹھائے رکوع میں جارہی تھی، سجدے کے وقت بچے کو زمین پر بٹھا رہی تھی، بچہ اٹھاتے وقت دقت پیش آتی تو ساتھ کھڑا نمازی سرجھکائے بچہ اٹھانے میں مدد بھی کررہا تھا۔ نماز ختم ہوئی تو اردگرد کے نمازیوں نے مسکراتے ہوئے اس بچے کو بسکٹ اور جوس پیش کئے۔ مسجد الحرام میں ادا کی جانے والی اس نماز میں نہ کوئی سنی تھا نہ شیعہ، نہ کوئی سعودی تھا نہ کوئی ایرانی، نہ کوئی پاکستانی تھا نہ کوئی افغانی بلکہ سب کے سب صرف مسلمان تھے۔ ایک اللہ، ایک قرآن، ایک رسولؐ کو ماننے والے مسجد الحرام اور مسجد نبویؐ میں تو اکٹھے ہوجاتے ہیں لیکن ان دو مساجد سے باہر اکٹھے کیوں نظر نہیں آتے؟ یہ وہ سوال ہے جو ہمیشہ مسجد الحرام اور مسجد نبویؐ میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ اس مرتبہ طواف کعبہ اور صفا و مروا میں سعی کے دوران مجھے بوڑھوں سے زیادہ نوجوان نظر آئے۔ ایک زمانہ تھا جب حج اور عمرہ زیادہ تر بوڑھے لوگ کرتے تھے اور کہا جاتا تھا کہ لوگ ثواب کمانے اس وقت نکلتے ہیں جب گناہ کرنے کے قابل نہیں رہتے لیکن زمانہ بدل رہا ہے۔ حج اور عمرے میں نوجوانوں کی تعداد بڑھنے سے بوڑھوں کو بہت فائدہ ہوتا ہے کیونکہ انہیں قدم قدم پر مدد کرنے والے رضاکار مل جاتے ہیں۔ عمرے کے بعد روضہ رسولؐ پر حاضری کے لئے مدینہ منورہ پہنچا تو ایسا محسوس ہوا کہ میں پاکستان کی کسی مسجد میں آگیا ہوں۔ عصر سے کچھ پہلے مسجد نبویؐ میں داخل ہوا تو شلوار قمیصوں میں ملبوس پاکستانیوں کی بڑی تعداد باہر فرش پر لیٹی ہوئی تھی، مسجد کے اندر موجود پاکستانی قرآن پڑھ رہے تھے یا نوافل ادا کررہے تھے۔ لوگ بھاگ بھاگ کر آرہے تھے، مصافحہ کررہے تھے، گلے لگ رہے تھے اور کچھ ایسے بھی تھے جو سرگرشیوں میں ملک کے حالات پر تشویش کا اظہار کررہے تھے لیکن سب کو امید تھی کہ پاکستان کے لئے ان کی دعائیں رنگ لائیں گی۔

ریاض الجنہ بھی پاکستانیوں سے بھرا ہوا تھا۔ پاکستانیوں کے بعد یہاں سب سے زیادہ بنگلہ دیشی اور ترک نظر آرہے تھے۔ دنیا بھر میں مسلمانوں کی بڑی تعداد مشکلات کا شکار ہے اور مشکلات کی بڑی وجہ مسلمانوں میں اتحاد کا نہ ہونا ہے۔ اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی 1969میں مسجد اقصیٰ میں آتشزدگی کے بعد مسلمانوں کو متحد کرنے کے لئے قائم کی گئی تھی لیکن یہ تنظیم مسلمانوں کو حقیقی معنوں میں متحد نہ کر سکی۔ اس صورتحال میں او آئی سی کے سربراہی اجلاس کا مکتہ المکرمہ میں انعقاد بہت اہم ہے۔ اس اجلاس کے نتیجے میں مسلمان متحد ہوتے ہیں تو یہ او آئی سی کی بہت بڑی کامیابی ہوگی لیکن اگر اجلاس کا نتیجہ مزید غلط فہمیاں پھیلانے کا باعث بنا تو اسلامی ممالک کے قائدین یاد رکھیں کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت سخت سزا ملے گی۔ یہ قائدین صرف پچھلے دس پندرہ سال میں عبرت کی مثال بننے والے کئی مسلمان حکمرانوں کا انجام دیکھ لیں۔ جو حکمران آج طاقتور اور بااختیار ہیں انہوں نے اپنا اختیار مسلمانوں کے حق میں استعمال نہ کیا تو ان کا انجام بھی صدام حسین، معمر قذافی، حسنی مبارک اور پرویز مشرف سے مختلف نہ ہوگا۔ مکہ میں اکٹھے ہونے والے مسلمان حکمران یاد رکھیں کہ اس شہر میں جنم لینے والے اللہ کے آخری رسول ؐ غریبوں اور مظلوموں کے نجات دہندہ تھے۔ ان کی زندگی سادگی کا نمونہ تھی۔ وہ بادشاہوں کی طرح زندگی نہیں گزارتے تھے۔ ان کے گھر میں کئی کئی دن فاقہ رہتا تھا۔ خود نہیں کھاتے تھے، دوسروں کو کھلاتے تھے۔ جن کپڑوں میں ہمارے پیارے نبیؐ کا وصال ہوا، ان میں بھی پیوند لگے ہوئے تھے۔ آج پیارے نبیؐ کی امت کے حکمران تو بہت امیر ہیں لیکن اس امت کی عزت تار تار ہے۔ امت کے کپڑوں میں پیوند لگانے کی ضرورت ہے۔ او آئی سی کے اجلاس میں شریک ہونے والے حکمران بیت اللہ کے جلال سے ڈریں اور اپنے لئے ربِ کعبہ کا جمال مانگیں، یہ جمال اسے ملتا ہے جو اللہ کے گھر کا طواف بغیر پروٹوکول کے کرتا ہے۔ بھکاری کی طرح خود دھکے کھاتا ہے اور دوسروں کو سنبھالتا ہے۔ یہ حکمران اپنے آپ کو صرف وہ مسلمان بنالیں جو رنگ، نسل، زبان اور فرقے کی تمیز کے بغیر مسجد الحرام اور مسجد نبویؐ میں ایک ساتھ نمازیں ادا کرتے ہیں اور ایک دوسرے میں خیر بانٹتے ہیں، جب حکمرانوں اور عوام میں فرق ختم ہوجائے گا تو ہماری قسمت ضرور بدلے گی۔

Source: Jung News

Read Urdu column Bhar day jholi By Hamid Mir

Leave A Reply

Your email address will not be published.