’’ ایک چُپ سو سُکھ ‘‘

جتنا زبان کو قابو رکھنے کی ضرورت ہے کسی دوسری چیز کو اس قدر مقید رکھنا ضروری نہیں، کیوں کہ زبان کی آفات بہت زیادہ ہیں۔ انسان کے سر گناہوں کا بوجھ لدھوانے میں زبان سب اعضاء سے بڑھ کر ہے.

اﷲ تعالیٰ کا پسندیدہ دین اسلام ہے۔ اسلام اپنے ماننے والوں کے گھر اور معاشرے کو آسودہ اور پُرمسرت دیکھنا چاہتا ہے۔ اسلام میں جہاں محبت، اخوت اور احترام و عزت کے جذبے دلوں میں پیدا کرنے کی تعلیم دی گئی ہے، وہیں مسلمانوں کو ایسی تمام باتوں سے رکنے کا بھی حکم دیا گیا ہے جن کے باعث معاشرے کا امن و سکون برباد ہوجاتا ہو۔ محبت و پیار کے رشتے منقطع ہوجاتے ہوں اور باہمی خون خرابہ کا آغاز ہوجائے۔ ان تمام باتوں کے نقصانات کو کتاب و سنت میں بہت صراحت کے ساتھ بیان کر دیا گیا ہے۔ فانی دنیا کو سب کچھ سمجھ بیٹھنے والا انسان ایمان و یقین کے اجالے میں ان کو پڑھ کر غور کرے اور ان سے اجتناب کرے تو امن و سلامتی اور عزت و عظمت کے نرالے نمونے وہ اپنی آنکھوں سے خود دیکھ لے گا۔

قرآن و حدیث میں حفاظت زبان کی بڑی تاکید کی گئی ہے اور بیہودہ گوئی سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالی کا مفہوم ہے : ’’ بے شک مراد کو پہنچے ایمان والے جو اپنی نماز میں گڑگڑاتے ہیں اور وہ جو کسی بیہودہ بات کی طرف التفات نہیں کرتے۔‘‘
حضرت سفیان بن عبداﷲ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ دربار رسالتؐ میں عرض کیا۔ یارسول اﷲ ﷺ! آپ میرے لیے سب سے خطرناک اور نقصان دہ چیز کسے قرار دیتے ہیں؟ تو سرکار مدینہؐ نے اپنی زبان مبارک کو پکڑ کر ارشاد فرمایا: اسے۔ (ترمذی)

حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ نے فرمایا: ’’جتنا زبان کو قابو رکھنے کی ضرورت ہے کسی دوسری چیز کو اس قدر مقید رکھنا ضروری نہیں، کیوں کہ زبان کی آفتیں بہت زیادہ ہیں۔ انسان کے سر گناہوں کا بوجھ لدھوانے میں زبان سب اعضاء سے بڑھ کر ہے۔‘‘

زبان سب سے زیادہ ضرر رساں اور خطرناک ہے۔ لہٰذا اس کی حفاظت بہت ضروری ہے اور اس پر قابو پانے کے لیے بہت کوشش و جدوجہد کی ضرورت ہے۔ سیدنا حضرت ابوسعید خدریؓ سے مروی ہے کہ انسان روزانہ صبح جب بیدار ہوتا ہے تو تمام اعضاء زبان سے مخاطب ہوکر اسے تاکید کرتے ہیں کہ دن میں درستی اور صداقت پر قائم رہنا اور بیہودہ گوئی سے بچے رہنا، کیوں کہ اگر تُو درست اور ٹھیک رہے گی۔ تو ہم بھی درست رہیں گے اور اگر تُو کج روی کے راستے پر چلے گی تو ہم بھی کج روی کے راستے پر چل پڑیں گے۔

حضرت مالک بن دینارؒ فرماتے ہیں: ’’جب تم اپنے دل میں قساوت، بدن میں سستی اور رزق میں تنگی محسوس کرو تو سمجھ لو کہ تم سے کہیں فضول اور لایعنی کلمے نکل گئے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے۔‘‘ حفاظت زبان سے اعمال صالحہ کی حفاظت ہوتی ہے۔ کیوں کہ جو شخص زبان کی نگہداشت نہیں کرتا، بل کہ ہر وقت گفت گو میں مصروف رہتا ہے، تو لامحالہ ایسا شخص لوگوں کی غیبت میں مبتلا ہوجاتا ہے اور غیبت اعمال صالحہ کو تباہ کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی زبان کی حفاظت اسی وقت کرسکے گا، جب خاموشی اختیار کرے گا۔ جب زبان کھلے گی ہی نہیں تو لایعنی باتوں کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اسی لیے تو رحمت عالمؐ نے ارشاد فرمایا : ’’جو خاموش رہا وہ سلامتی میں رہا۔ ‘‘
اسلام میں خاموشی کی بڑی اہمیت ہے۔ یہ خود اچھا عمل ہے تو جو اس عمل کو اختیار کرے گا یقینا وہ کئی اعمال اس کے ذریعے کرے گا۔ خاموش رہنا تو ایک طرح سے سوچنا ہی ہے اور کائنات خدا وندی میں غور و فکر کرنا بھی بڑا پسندیدہ عمل ہے۔ سورۃ الانعام کی آیت کریمہ کی ایک آیت کی تفسیر میں ہے کہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا پہچاننا مشکل ہے، تمہارے اُوپر اور نیچے، تمہارے دائیں اور بائیں میری مصنوعات اور تخلیقات کا جو بازار سجا ہوا ہے۔ اسی میں غور و فکر کرو، ہر چیز یہ پکارتی ہوئی سنائی دے گی کہ وہ اپنی نیرنگیوں سمیت خود بہ خود موجود نہیں ہوگئی بل کہ اس کا بنانے والا ہے، جو سب کچھ جاننے والا۔ ہر چیز پر قدرت والا ہے۔

ذرا دیکھو بیج کا دانہ شق ہو رہا ہے اس میں ایک نرم و نازک بالی نکل آئی ہے، اسے آپ کم زور نہ سمجھیے یہ تو مٹی کی کئی انچ موٹی تہہ کو چیر کر نکلی ہے۔ یہ بڑھتی ہی چلی جارہی ہے، وہ بالی اب ایک ننھے سے تنے میں تبدیل ہورہی ہے، ہوا کے تھپیڑوں کو برداشت کرنے کے لیے مناسب فاصلوں پر اس میں گرہیں ڈالی جارہی ہیں، اب اس کے سر پر ایک خوشہ سا نمودار ہوگیا ہے، اس کی جیبیں اب دانوں سے بھر گئی ہیں، یہ پودا جو پہلے ہرا بھرا اور نرم و نازک تھا۔ اب اپنا رنگ تبدیل کر رہا ہے۔

غور کرنے والی آنکھ خود فیصلہ کرلے کہ یہ کیا اندھے مادے کی کاری گری ہے یا علیم و خبیر پروردگار کی صناعی کا اعجاز ہے۔ پھل لگنے سے لے کر پکنے تک اس کی مقدار، اس کی خوش بُو اور اس کے ذائقے میں آہستہ آہستہ موقع بہ موقع جو تبدیلیاں رو نما ہو تی رہتی ہیں، اسی پر انسان غور کرے تو حقیقت واضح ہوجائے گی۔

اسی طرح کئی ایک آیات ربانی میں مخلوقات خداوندی کے بارے میں بھی غور و فکر کرنے کا حکم فرمایا گیا ہے۔ احادیث کریمہ میں بھی رحمت عالمین ﷺ نے غور و فکر کرنے کی اپنے چاہنے والوں کو تاکید فرمائی۔ چناں چہ ایک مقام پر ارشاد فرمایا، مفہوم : ’’ رموز کائنات میں ایک گھنٹے کا تفکر و تدبر ستّر برس کی عبادت سے بہتر ہے۔‘‘

ہم کائنات خداوندی میں تفکر و تدبر اسی صورت میں کرسکتے ہیں، جب ہم فضول اور بیہودہ گوئی کے بہ جائے خاموشی کو اپنائیں۔ یہ بھی واضح رہے کہ چپ رہنے اور خاموشی اختیار کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی بالکل نہ بولے، بل کہ مراد یہ ہے کہ انسان ضرورت کی بات کرے اور لایعنی باتوں سے پر ہیز کرے۔ اسی لیے تو فرمایا گیا کہ بُری بات کرنے سے چپ رہنا سنجیدگی کی علامت ہے اور اچھی بات کہنا چپ رہنے سے بہتر ہے۔

جب آدمی خاموش ہوتا ہے اور مجلس میں اچھی باتیں کہی جا رہی ہیں تو گویا وہ صحیح طور پر ان باتوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسلام ایسے ہی افراد تیار کرتا ہے، جو سوچنے والے زیادہ ہوں اور فضول گوئی سے چُپ رہنے کو محبوب جانتے ہوں۔

اسلاف کرامؒ کی حیات پاک کا مطالعہ کرنے سے ہمیں درس حاصل کرنا چاہیے کہ انہوں نے کس طرح حفظِ لسان کا خیال رکھا اور فضول و لایعنی باتوں سے اپنے آپ کو کس طرح بچایا اور اپنے ماننے والوں کو بھی اسی کا درس دیا۔ ہمارے اسلاف نے حفاظت زبان کے بارے میں جو مثالی نمونے پیش فرمائے ہیں وہ ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں، اگر ان کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ انہوں نے فضول باتوں سے حفاظت زبان ہمیشہ اپنا شیوہ رکھا اور ’’ ایک چُپ سو سُکھ‘‘ کے مصداق رہے۔

لیکن موجودہ معاشرہ فضول گوئی و بیہودگی میں سابقہ ادوار پر بازی لے گیا۔ گندے مذاق، شغل و یاوہ گوئی معاشرے کے افراد میں خوراک کی حد تک رچ پس گئی ہے۔ جب تک ہم قرآن و سنت اور اسلاف کی پاکیزہ تعلیمات کو اپنا کر اپنی زبان کی حفاظت نہیں کریں گے تب تک ہمارے رزق میں برکت، مال کی فراوانی، عزت و مقام اور جاہ و جلال میں اضافہ نہیں ہوسکتا۔ اﷲ تعالیٰ ہمیںِ زبان کی حفاظت کی توفیق دے۔ آمین

Source

Leave A Reply

Your email address will not be published.