بیرون ملک بچوں کی جنسی تشدد کی ویڈیوز کے تانے بانے پاکستان سے جڑنے لگے، ایف آئی اے نے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا

بچوں پر جنسی تشدد کی فلمیں بنانے کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہورہا ہے کیونکہ سائبر کرائم کے قوانین میں اس قدر سقم ہیں کہ ملزمان جرم ثابت ہونے کے باوجود سزا سے صاف بچ جاتے ہیں۔

روزنامہ خبریں کے مطابق ابھی تک صرف ایک ایسا ملزم گرفتار ہوا ہے جو انٹر نیشنل پورنو گرافرز کا سہولت کار تھا جسے ویسٹرن یونین اور منی گرام کے ذریعے سات ممالک سے رقوم حاصل ہوتی تھیں۔ ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل سے ملزم سعادت امین کے قبضے سے 6لاکھ 57 ہزار 538ویڈیوز اور تصاویر برآمد کیں اور اس کی 50ہزار ڈالر کی ایک ٹرانزیکشن پکڑی گئی۔

ایک سینئر وکیل الماس علی جوئندہ کا کہنا ہے کہ چائلڈ پورنوگرافی کو روکنے اور ملزمان کو سزا دلانے سے متعلق قوانین ناکافی ہیں۔ اس جرم کا ارتکاب کرنے والا ایک ملزم جرم ثابت ہونے پر زیادہ سے زیادہ سات سال قید یا 50لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزاﺅں کا مستوجب ہوگا جبکہ امریکہ میں پہلی بار اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو 15سے 30سال سزا ہوتی ہے۔ دوسری بار جرم کرنے پر 30سال سے کم سزانہیں ہوتی۔ بھارت میں 2000 ءمیں تین سے پانچ سال سزا تجویز کی گئی۔ 2015ءمیں اس سزا پر نظر ثانی کی گئی اور سزا کو سات سال تک بڑھا دیا گیا۔ الماس جوئندہ نے تجویز دی کہ پورنوگرافی کی کم از کم سزا 15سال کر دی جائے کیونکہ بچوں پر جنسی تشدد کے واقعات اور ان کی فلمسازی دہشت گردی سے زیادہ سنگین جرم ہے۔ ناروے کے سفارت خانہ کے ایک پولیس رابطہ آفیسر رائے لنڈ ہولٹ نے کہا کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو پکڑنے کیلئے انٹرنیشنل انٹیلی جنس شیئرنگ اور فلواپ انویسٹی گیشن کی ضرورت ہے۔

انہوں نے انسداد الیکٹرک کرائم (پی ای سی اے ) میں خامیوں کی نشاند ہی بھی کی۔ ایف آئی اے انویسٹی گیشن سیل کے انچارج آصف اقبال نے بھی تسلیم کیا کہ سائر لاز چائلڈ پورنو گرافرز کو سزائیں دلانے کے لئے ناکافی ہے۔ اس قانون کی 24میں سے 21کلاز قابل ضمانت ہیں۔ صرف تین کلاز میں ضمانت نہیں ہوسکتی۔ دنیا بھر میں بچوں پر جنسی تشدد کی دہشت گردی کے بعد سب سے سنگین جرم قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ اس جرم کی کم از کم سزا عمر قید ہونی چاہیے تاکہ اس جرم کو روکا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ سویڈن میں ایک شہری جان لنڈ سٹارم (JanLindstorm) کو جنسی تشدد کی فلموں کے ساتھ پکڑا۔ جب اس کے قبضے سے پکڑے جانے والے مواد کا جائزہ لیا گیا تو پتہ چلا کہ یہ سعادت امین نامی ایک پاکستانی نے فراہم کیا ہے۔ یہ شخص سویڈش شہری سے رابطے میں تھا اور اس سے نوجوان لڑکوں کی فروخت کی ڈیل چل رہی تھی۔ سعادت امین کی 10سے 12 سال عمر کے لڑکوں تک رسائی تھی اور وہ ان لڑکوں کی ویڈیوز بنا کر پاکستان سے مختلف ممالک کو ارسال کرتا تھا۔ ملزم خود بھی ان لڑکوں کی مالی اور سماجی حیثیت سے فائدہ اٹھاتا تھا۔ تفتیش کے دوران ملزم نے تسلیم کیا کہ اس کے امریکن لیکس ہنٹر‘ اٹلی کے گیانی بیٹائٹ ‘ سویڈن کے لِنڈ سٹارم اور برطانیہ کے انڈریو موڈی اور مختار سے رابطے میں تھے۔ یہ سب لوگ انٹرنیشنل پورنوگرافرز گروپ کے رکن ہیں۔

Source

Leave A Reply

Your email address will not be published.